طاہر القادری نے فوج کو آڑے ہاتھوں لے لیا

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے کہا ہے کہ جنرل راحیل شریف آپریشن ضرب عضب اور کراچی آپریشن مکمل نہیں کرا سکے ،وہ پنجاب میں فوجی آپریشن کرانے میں بھی مکمل طور پر ناکام رہے ۔ان کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہدا کو انصاف دلانے کا وعدہ کیا تھا جس پر رتی برابر بھی مدد نہیں کی جا سکی ۔ نجی نیوز چینل اے آر وائی نیوز کے پروگرام ”الیونتھ آور “میں اینکر پرسن وسیم بادامی نے سوال کیا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے تین سالہ دور کو اپنے الفاظ میں بیان کریں ؟جس پر طاہر القادری نے کہا یہ سوال توجہ طلب ہے ،بحثیت جنرل فوج کے ادارے کے لحاظ سے جنرل راحیل شریف نے اچھا امیج چھوڑا ہے لیکن جب ملکی سطح پر دکھیں تو جنرل راحیل شریف نے کچھ میدانوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن یہ کامیابیاں مکمل نہیں ہو سکیں ۔طاہر القادری نے کہا کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو بالکل بھی نہیں ہوئیں ،جن کے اعلانات جنرل راحیل شریف کرتے تھے لیکن ان کو ہاتھ بھی نہیں لگا یا گیا لہذا یہ ملی جلی صورت ہے ۔طاہر القادری نے کہا کہ جنرل راحیل شریف نے آپریشن ضرب عضب میں وزیر ستان کی حد تک کامیابیاں حاصل کی ہیں،کراچی کے امن و امان کی بحالی میں کافی حد تک کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن دونوں آپریشن ابھی مکمل نہیں ہو سکے ،کامیابیا ں ہوئی ہیں لیکن یہ سوالیہ نشان ہے ۔انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف قومی ایکشن پلان پر عملد ر آمد نہیں کراسکے ،ان کی تلخ باتیں ہوتی بھی رہیں لیکن اس کے باوجود حکومت کی طرف سے کھیل کھیلا جاتا رہا ۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ آرمی چیف نے کرپشن اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کو ختم کرنے کی بات کی ،اس حوالے سے یا تو ہماری سمجھ غلط تھی ،ہم جنرل راحیل شریف کی بات کوسمجھ نہیں سکے ،ان کے کہنے کا مقصد کچھ اور تھا یا ہمارے سمجھنے کا م،ہم جسے کرپشن اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ سمجھتے تھے ،ہمارے نزدیک کرپشن اور دہشت گردی کا وہ گٹھ جوڑ قطعی طور پر ختم نہیں ہوا،اگر جنرل راحیل شریف کے خیال میں کرپشن اور دہشت گردی کے گٹھ جوڑ کا کوئی اور معنی ہو تو شائد انہوں نے اس کو ختم کر لیا ہو ۔طاہر القادری نے کا کہ پنجاب میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوجی آپریشن کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ،پنجاب میں آپریشن نہیں کرا سکے ،پنجاب حکومت کے ساتھ ڈیڑ ھ سال بات چیت ہوتی رہی لیکن پنجاب حکومت نے صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی الف بھی شروع نہیں کرنے دی ۔طاہر القادری نے کہا کہ میری سوچ کے مطابق پنجاب دہشت گردوں کا نظریاتی اور افرادی گڑھ ہے جہاں دہشت گردوں کے مراکز بھی قائم ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ سارے دہشت گرد جو جنوبی وزیر ستان ،افغانستان اور کراچی جاتے ہیں ان ساروں کی نرسریاں پنجاب میں ہی ہیں ،یہ دہشت گرد 80کی دہائی سے پنجاب میں پیدا ہو رہے ہیں ۔طاہرالقادری نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے انصاف کے سلسلے میں رتی برابر بھی مدد نہیں کی جا سکی جبکہ جنرل راحیل شریف نے ون ٹو ون ملاقات میں انصاف کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ خبر لیک والا معاملہ ادھورا چھوٹ گیا ،سرل لیک کے حوالے سے حکومت نے کھیل کھیلا ۔ان کا کہنا تھا کہ ان باتوں کا مقصد ہے کہ بہت سارے کام ایسے تھے جو کرنے کے قابل تھے لیکن وہ نہ ہو سکے ،ضرب عضب اور کراچی آپریشن کامیاب رہے لیکن ابھی وہ مکمل نہیں ہوئے ،اس حوالے سے معلوم نہیں کے آنے والی فوجی قیادت اس کی تکمیل کس طرح کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے قومی ایکشن پلان کے ساتھ دھوکہ کیا لیکن جنرلراحیل شریف اس دھوکے کے جال کو ختم نہیں کر سکے ،قومی ایکشن پلان کاغذوںپر دھرے کا دھرا رہ گیا اور جنرل راحیل شریف خود شکوہ کرتے رہے لیکن عملد ر آمد نہیں ہو سکا ۔طاہر القادری نے کہا کہ جنرل راحیل شریف کے بعد کراچی آپریشن کا کیا ہو گا ؟،کیا جنرل راحیل شریف کا کام جاری رہے گا ،یا حالات پلٹ کر آجائیں گے ،وہاں سیاسی کھیل ہو سکتا ہے ،آپ بڑے بڑے سانپ مار دیں اور چھوٹے چھوٹے سانپ کے بچے رہ جائیں تو وہ پل کر سانپ بن جائیں گے ۔

ایک سوال پر طاہر القادری نے کہا کہ جنرل راحیل شریف پاکستانی شہری بھی ہیں ، ان پرآئین اور ملکی سالمیت کو بچانے کی ذمہ داری ہے ،ملکی سالمیت کو بچانے کا مطلب صرف بھارتی حملے سے بچانا نہیں ہے بلکہ ملک کے اندر دہشت گردی اور کرپشن کے گٹھ جوڑ کو مٹانا بھی ہے ۔وسیم بادامی نے سوال کیا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف 29نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں ،اس بارے میں آپ کا کیا تبصر ہ ہے ؟۔اس سوال کے جواب میں طاہر القادری نے کہا کہ یہ بغیر تبصرہ کے خبر ہے ، وہ 29نومبر کو جا رہے ہیں اس کی خبر ہم سب کو ہے ۔

وسیم بادامی نے سوال کیا کہ اس خبر کو آپ نے افسو س کے ساتھ سنا یا پھر خوشی کے ساتھ ؟جس پر طاہر القادری نے کہا اس خبر کو بالکل غیر معمولی تاثر کے ساتھ روٹین (روز مرہ)میں سنا ہے ۔اینکر پرسن نے کہا کہ بہت سارے لوگوں نے راحیل شریف کی مدت ملازمت کے حوالے سے اپنی رائے دی ہے ،آپ کے خیال میں جو ہوا ہے وہ بہتر ہے یا جو نہیں ہوا وہ بہتر تھا ؟اس سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ وزیر اعظم نے آرمی چیف کی تقرری کرنی ہے ،وزیر اعظم جس کی بھی تقرری کریں گے وہ نام 29نومبر تک سامنے آجائے گا ۔