لٹیروں کی مدد کوآنے والا قطری شہزادہ خود بہت بڑا لٹیرا نکلا

شیخ حمد بن جاسم کے اپنے معاملات کی جہاں تک بات ہے، تو ان پر بھی منی لانڈرنگ کے الزامات لگ چکے ہیں، آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک میں انکی آف شور کمپنیاں ہیں اور ان پر آسٹریلیا اور امریکہ میں مقدمات بھی رہے ہیں جن میں وہ ڈونیشن دیکر بری الزمہ ہونے میں کامیاب ہوئے کہا جاتا ہے کہ نیوجرسی میں قطری ریاست کے 500 ملین پاؤنڈ کے اسلحہ معاہدہ کے سلسلہ میں حمد بن جاسم نے 7 ملین پاؤنڈ اپنی دو آف شور کمپنیوں میں منتقل کئے(جنہیں وہ ٹرسٹ کا نام دیتے تھے) اور جرسی فنانشل سروسز کمیشن نے اس رقم کو منجمد کردیا تو انہیں 6 ملین پاؤنڈ ادا کر کے جان بحشی کروانا پڑی۔ ایسا ہی ایک مقدمہ ان پر ان کے ایک قریبی عزیز نے لندن میں دائرکیا جس میں بھی وہ بچ نکلے۔ طلسماتی خط کے بعد اس بات کے بھی قوی امکانات ہیں کہ نوازشریف فیملی کی آف شور کمپنیاں بھی انکے مشترکہ اکاؤنٹ سے منسلک ہوسکتی ہیں جنکے بارے میں پتہ لگانا عام فرانسک ماہرین کے بس کی بات نہیں لگتا ہے جس طرح شہزادہ حمد بن جاسم نوازشریف کو مشرف کے نرغے سے نکال کر لے گئے تھے، اس بار بھی انکے ارادے کچھ ایسے ہی نظرآرہے ہیں کیونکہ انکے خط کی وجہ سے نوازشریف فی الوقت تو پاناما کے پس منظر میں چلے گئے ہیں، قطر فیلمی کو عدالت میں ثبوت دکھانا ہونگے کہ آیا انکا میاں شریف کیساتھ کوئی معاہدہ ہواتھا؟ عدالت قطر کے شہزادے کے خط کی تصدیق کیلئے دستاویزات بھی مانگ سکتی ہے مگر ہمارے خیال میں عدالت قطر کی رائل فیلمی کے کسی شخص کو نہیں بلائے گی۔ اگر شریف فیملی کے ثبوتوں میں مزید تضاد پایا گیا تو کیس اور بھی دلچسپ ہوجائیگا۔