نواز شریف کس طرح آرمی چیف کا انتخاب کریں گے ؟

اسلام آباد : نئے چیف آف آرمی سٹاف کی انتہائی حساس تقرری کے موقع پر نوازشریف جو ملک کے تیسری بار وزیراعظم بنے ہیں، نے یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ وہ آخری لمحے تک اپنے پتے سنبھال کر رکھیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے تقریباً ساڑھے تین عشروں میں جو سیکھا ہے اس پر عمل پیرا ہیں۔ ماضی کے اپنے تلخ تجربات سے غالباً انہوں نے یہ پہلا سبق سیکھا ہے۔ وزیراعظم کے ایک قریبی ساتھی نے ’’دی نیوز‘‘ کو بتایا ہے کہ ہم نے تمام طرح کے مشورے دیئے مگروزیراعظم نوازشریف نے آرمی چیف کے لئے ابھی تک کسی بھی امیدوار کی طرف جھکائو ظاہر نہیں کیا تاہم یہ بات واضح ہے کہ نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان آخری لمحات میں کریں گے۔ دارالحکومت میں نئے آرمی چیف کا بڑی بے چینی سے انتظار کیا جارہا ہے۔ جمہوریت کی کمزور تاریخ اور چار فوجی آمروں کی طویل حکمرانی بالخصوص ملک میں سول ملٹری عدم توازن کے باعث یہ تقرری بہت اہمیت اختیار کرچکی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف خاموشی سے مگر انتہائی محتاط اندازسے سول ملٹری تعلقات کو سویلینز کے حق میں اقدامات کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ طاقت کی راہداریوں میں سب سے زیادہ گردش کرنے والا سوال یہ ہے کہ اگلا چیف آف آرمی اسٹاف کون ہوگا؟ نوازشریف کیسے آرمی چیف کا انتخاب کرتے ہیں کیونکہ اب تک پندرہ میں سے آٹھ مختلف فوجی سربراہوں کے ساتھ کام کرچکے ہیں (جنرل ضیاء الحق سے جنرل راحیل شریف تک) ان سات میں سے جنرل پرویز مشرف اور جنرل ضیاء الدین خواجہ (نوازشریف نے ان کا تقرر کیا تھا مگر موخر الذکر کو بعد ازاں فوج سے نکال دیاگیا تھا) اور جنرل راحیل شریف کا تقرر نوازشریف نے براہ راست کیا تھا۔ جنرل آصف نواز اور جنرل عبدالوحید کاکڑ کے تقرر میں  اس وقت کے طاقتور صدر اسحاق خان کی وجہ سے نوازشریف کا کردار محدود تھا۔ پندرہ جنرلوں میں سے نوازشریف نے جنرل مشرف اورجنرل راحیل کا براہ راست تقرر کیا جبکہ 19اکتوبر1999ء کو جنرل ضیاء الدین کی تقرری کے حکم پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔ ’’دی نیوز‘‘ سے گفتگو میں سابق جنرل ضیاء الدین خواجہ نے کہا کہ میری تقرری بالکل اچانک ہوئی میں نے ریٹائرمنٹ کی درخواست کی تھی کیونکہ میں فوجی فرٹیلائزر کمپنی جوائن کرنا چاہتا تھا جہاں اسامی خالی تھی۔ میں نہیں جانتا تھا کہ وزیراعظم میری تقرری کریں گے۔ میرے حوالے سے بہت ہی اچانک فیصلہ ہوا تھا میرا خیال ہے صرف اس وقت کے سیکریٹری دفاع جنرل افتخار حسین اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری سعید مہدی سے وزیراعظم نے مشورہ کیا تھا۔ (جنرل ضیاء الدین کو 1999ء میں فوجی بغاوت پر پاک آرمی ایکٹ کے تحت انتظامی بنیادوں پرفوج سے نکال دیا گیا تھا۔ انہوں نے اعلیٰ عدالتوں سے رابطہ کیا اوروہ اب بھی انصاف کے منتظرہیں) یہ بات یقینی ہے کہ وزیراعظم نے آرمی چیف کی تقرری کے سلسلے میں اپنے انتہائی معتمدافراد سے مشورہ کیا ہے۔ کیا وزیراعظم خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کی سنتے ہیں؟ جنرل راحیل شریف کی تقرری کے وقت جن کے تقرر کا اعلان انہوں نے 27نومبر کوبالکل آخری لمحات میں کیا تھا یہاں تک کہ اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل کیانی تک کو بھی اس کا پتہ نہیں تھا۔ پچھلی بار کیا ہوا تھا؟ ہر کوئی لیفٹیننٹ جنرل ہارون اور سب سے سینئر لیفٹیننٹ جنرل راشد کے بارے میں ہی اندازہ لگا رہا تھا کہ ان دونوں میں سے کوئی آرمی چیف بنے گا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ چند ایک جانتے ہوں گے کہ نہ صرف سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی جنرل راشد کو چاہتے تھے بلکہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام نے بھی جنرل راشد کی ہی سفارش کی تھی۔ آئی بی چیف آفتاب سلطان کی طرف سے وزیراعظم کو لیفٹیننٹ جنرل طارق کے بارے میں مشورہ دیا گیا تھا (جنہوں نے بعد ازاں 2014ء میں اپنی انٹیلی جنس رپورٹ کے ذریعے دھرنا ناکام بنا دیا تھا) ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی بی نے لیفٹیننٹ جنرل طارق کا نام بطور آرمی وزیراعظم کو دے دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جنگجوئوں کے خلاف سخت موقف رکھتے تھے اور سویلین انٹیلی جنس ایجنسی کے مطابق جنگجوئوں کے خلاف لڑائی کے لئے بہترین انتخاب تھے۔ مشرف کو نہ بھولیں جنہیں ایجنسیوں نے کلیئر نہیں کیا تھا مگر اس کے باوجود وزیراعظم نے مبینہ طور پر چوہدری نثار علی خان کی سفارش پر ان کا تقرر کیا تھا جو 1999ء میں وزیرپٹرولیم تھے اور جن کے بھائی لیفٹیننٹ جنرل افتخار اس وقت سیکریٹری دفاع تھے۔ وزیراعظم نے اسوقت خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کی سننا ضروری نہیں سمجھا۔ اس وقت بھی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان اسلام آباد کو لاک ڈائون کو ناکام بنانے پرایک بار پھر بظاہرکابینہ کے انتہائی بااعتماد وزراء میں شامل ہیں۔ وہ فوج اور حکومت کے درمیان مضبوط پل کا کردار ادا کرنے والے غالباً واحد شخص ہیں۔ وہ بلاشبہ نوازشریف کابینہ کے سیکرٹ مین ہیں۔ آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے وزیراعظم کون سا طریقہ اختیارکریں گے اس حوالے سے ایک سوال پر چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اس طرح کی تقرریاں بڑی حساس ہوتی ہیں میں آپ اورمیڈیا سے اس پر بات نہیں کرسکتا۔ 2013ء میں آرمی چیف کے انتخاب کا مشورہ کس نے دیا تھا؟ انتہائی اہم ذریعے نے دعویٰ کیا ہے وزیراعظم نے یہ مشورہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور ’’سیالکوٹی منڈا‘‘ وزیر دفاع خواجہ آصف سے لیا تھا۔ یہ وقت بھی 2013ء جیسا ہی ہے، اختیارات کے محلات میں کسی کو بھی وزیراعظم کی پسند کا معلوم نہیں۔ وزیراعظم کے قریبی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ حکومت کا ایک مشاورتی گروپ ہے جس میں پارٹی کے چند ایک رہنما شامل ہیں۔ ان میں ن لیگ کے چیئرمین سینیٹر راجہ ظفر الحق، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال، سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید، سینیٹر مشاہد اللہ خان وغیرہ شامل ہیں۔ ممنون حسین کے بطور صدر انتخاب کے وقت بھی اسی گروپ میں مشاورت ہوئی تھی مگر آرمی چیف کی تقرری کے لئے اس گروپ سے مشاورت نہیں کی گئی۔ نوازشریف کابینہ کے سابق وزیر سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ مجھے یاد ہے کہ وزیراعظم نے جنرل راحیل شریف کی تقرری کے وقت اس گروپ سے مشورہ نہیں لیا تھا بلکہ وزیراعظم نےاپنی آزادانہ رائے سے یہ تقرری کی تھی۔ ایک اہم چیز یہ ہے کہ وزیراعظم ایسی تقرری پراس گروپ سے مشاورت پسند نہیں کرتے۔ لیفٹیننٹ جنرل ہارون ایک اور مثال ہے جنہیں دو وجوہات کی بنا پر فوقیت دی گئی۔ ایک یہ کہ وہ وزیراعظم تک رسائی کے لئے اپنے رابطے استعمال کرتے رہے تھے۔ دوسرے یہ کہ 12اکتوبر1999ء کے کھلاڑیوں میں سے ایک تھے۔ ان دو وجوہات کے علاوہ جنرل کیانی نے ان کا کیس اچھے تعارف کے ساتھ نہیں بھیجا تھا۔ اس کی وجہ غالباً ان کی بہادری تھی جس کا اظہار انہوں نے اس وقت کیا تھا جب 1999ء میں ان کے شوہر کو جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف کی تقرری کے سلسلے میں اصل مشورہ ان کے قریبی رفیق کا تھا ۔

Facebook Comments