مشرف بھیک مانگتا رہا ہم نے دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینک دیا،بڑ ا انکشاف

کراچی (ٹی وی رپورٹ) شریک چیئرمین پیپلز پارٹی اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ جیل سے نہیں گھبراتا، جو سیاست دان جیل سے گھبرائے وہ پاکستان میں سیاست نہ کرے، وہ کہیں اور جا کر سیاست کرے ، سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو ایکسٹینشن دے کر اپنے آپ کو اور پارلیمنٹ کو مضبوط کیا، پرویز مشرف بھیک مانگتا رہا مگر ہم نے دودھ سے مکھی کی طرح اسے نکال پھینکا۔ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کچھ حلقوں کی غلط فہمی کا نتیجہ تھا،جس کا ازالہ ہو رہا ہے، امید ہے جلد رہا ہو جائینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ’’کیپیٹل ٹاک‘‘ میں میزبان حامد میر کو خصوصی انٹرویو میں کیا۔ایک سوال پر سابق صدر نے کہا میں پا کستا ن سے دور ضرور ہوں مگر جلا وطن نہیں ہوں ۔ مگر سیاست میں ٹائمنگز ہوتی ہیں اس وقت ٹائم ایسا تھا جس کی وجہ سے مجھے بیک سیٹ لینا پڑی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ میں چاہ رہا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کی تھوڑی سیاسی تربیت ہو ۔ پارٹی کی ذمہ داریاں اس کو ملیں تاکہ وہ سیکھ سکے۔ انھوں نے کہا اسی وجہ سے بلاول اچھا کام کر رہے ہیں۔ آصف زرداری نے واضح کیا کہ وہ عنقریب پاکستان میں ہوں گے۔پروگرام اینکر حامد میر نے سوال کیا کہ جون 2015 میں آپ ملک سے باہر گئے اور آگست 2015 میں ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کر لیا گیا ۔ یہ کس کا خیال تھا کہ ڈاکٹر عاصم وہ طوطا ہے جس میں آصف علی زرداری کی جان ہے ؟۔ڈاکٹر عاصم کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ وقت اور لوگوں کی غلط فہمی ہے اس کا ازالہ انہیں دینا پڑے گا ۔ ڈاکٹر عاصم کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم ایک سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر عاصم آسان ہدف تھا اس لیے ان کے ساتھ ایسا ہوا ۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم غلط فہمیوں کا شکار ہو گیا۔ پروگرام اینکر حامد میر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ ایک کیس میں ڈاکٹر عاصم کی رہائی ہوئی ہے اور امید ہے کہ انہیں باقی مقدمات میں بھی رہائی ملے گی اور وہ عنقریب رہا ہو جائیں گے۔ تاریخ میں اب پرویز مشرف کو بھی ازالہ کرنا پڑے گا ۔ بے نظیر نے کہا تھا کہ مشرف بھیک مانگے گا میرے ووٹوں کی۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے پرویز مشرف کو مکھی کی طرح دودھ سے نکالا ۔ حامد میر کے سوال کے سیاسی طاقتوں کو ریلیف ملنی شروع ہو گئی ہیں اسکے پیچھے کوئی خاص وجہ ہے ؟ کا جواب دیتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ سیاستی طاقتوں کو وقت ریلیف دیتا ہے۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 6 سال کے بعد حرا ست میں لیا تو بی ایم ڈلیو کا کیس بنایا، بیل آرڈر ہی میری رہائی کا آرڈر تھا ۔ سیاسی طاقتوں کو وقت ریلیف دیتا ہے ۔ بی ایم ڈبلیو کیس میں میری رہائی ہوئی۔ حامد میر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ یہ ہاتھ میرے آزمائے ہوئے ہیں۔ جیل سے گھبراتا نہیں ہوں۔ جو سیاست دان جیل سے گھبرائے وہ پاکستان میں سیاست نہ کرے، وہ کہیں اور جا کر سیاست کرے ۔ ڈیڑھ سال ملک سے باہررہنے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ وہ بلاول کو بھی اسپیس دے رہے تھے اور دوسروں کو بھی اسپیس دے رہے کہ چلو آپ بھی کوشش کر کہ دیکھ لیں۔ تاہم اسپیس دینے کے حوالے سے نشاندہی کرنے سے انھوں نے منع کر دیا ۔ حامد میر کے سوال کہ آپ کی عدم موجودگی میں آپ کیخلاف بہت خبریں آئیں ، عزیز بلوچ آپ کیخلاف بیان دے گا اور وعدہ معاف گواہ بنایا جائے گا اور اسے آپ کیخلاف استعمال کیا جائے گا ۔ سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پہلے جو 28 مہینے جیل میں تھا ،بم باندھنے اورمرتضی بھٹو کیس سمیت ان سب میں بھی وعدہ معاف گواہ تھے ،تاہم اللہ کے فضل سے ہم نے تمام مقدمات کا سامنا کیا اورہم سب میں باعزت رہا ہوئے ۔ آصف علی زرداری نے شرجیل میمن اور مظفر ٹپی کی وطن واپسی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان سے میں نے پوچھا تو نہیں تاہم شرجیل میمن ممکنہ طور پر میری وطن واپسی کے ساتھ ہی وطن واپس آ سکتے ہیں ۔ سی پیک کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سی پیک کی تاریخ میں جائیں تو پیپلز پارٹی جب حکومت میں آئی تو عطا آباد جھیل بن چکی تھی، چین سے روڈ لنک کٹ چکا تھا ۔ میں نے لندن میں چینی حکام سے ملاقات میں کہا کہ 1 اعشاریہ 5 فیصد پاکستانی برطانیہ میں رہیے ہیں لیکن ہمیں چین میں اتنے پاکستانی نظر نہیں آتے ۔ انھوں نے واضح کیا کہ گوادر پورٹ کے لیے میں نے کام شروع کیا،جو بھی چینی وفد میرے آفس آتا تو میں نقشے سے ان کو دکھاتا تھا کہ گوادر جغرافیائی لحاظ سے کتنا اہم ہے ۔کسی صاحب نے جعلی درخواست دے کر اسٹے آرڈر لیا ہوا تھا اور سابق چیف جسٹس نے اسٹے آرڈر دیا ہوا تھا ۔اس وقت ہمارا چیلنج یہ تھا کہ ہم نے اس اسٹے آرڈر سے بھی نکلنا تھا اور اس کمپنی سے بھی بات کرنا تھی ۔ پھر ہم نے دوستوں سے بات کی اور انہیں قائل کیا کہ یہ میرا ذاتی مفاد نہیں بلکہ پاکستان کا ایجنڈہ ہے ۔ اس کے بعد چوہدری افتخار صاحب کو رحم آیا اور انھوں نے اسٹے آرڈر خارج کر دیا۔ جب اسٹے آرڈر خارج ہوا تو معروف تاجر عقیل ڈیڈھی کو میں نے بلایا ۔ تاہم کچھ لوگوں نے اپنے مفادات کی خاطر اس کی مخالفت کی ۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے کم و بیش 35ملین ڈالر میں گوادر پورٹ چین کو دیا۔ حامد میر کے سوال کہ مشرف صاحب کے دور میں سنگا پور کو پورٹ دیا گیا لیکن آپ نے چین کو کیوں دیا کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سنگا پور کا ہمارے ساتھ کوئی سروکار بنتا نہیں تھا، پاکستان میں اس کا بیس نہیں ہے ۔ ہم نے آنے والی نسلوں کے لیے اور پاکستان کے مفاد میں فیصلہ کیا ۔ کچھ لوگ گوادر کی زمینوں پر ہوٹلز بنانا چاہتے تھےاور انہوں نے مفت قبضہ کیا ۔ہمیشہ جب میں چین جاتا تو لوگ مجھ پر شک کرتے تھے کہ آصف زرداری کیوں چین جاتا ہے ۔ ان لوگوں کو سیاست نہیں آتی ۔