وزیراعظم کسی کے کہنے سے متنازع نہیں ہونگے،ثبوت دینا پڑینگے،مریم اورنگزیب

کراچی: وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم کسی کے کہنے سے متنازع نہیں ہوجائیں گے،اس کیلئے ثبوت دینا ہوں گے، وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں تقریر اور بچوں کے بیانات اور انٹرویوز میں کوئی تضاد نہیں ہے،پی ٹی آئی نے ہمیشہ اہم غیرملکی حکمرانوں کے دوروں پر پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کیا ہے۔وہ جیو کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہی تھیں۔ پروگرام میں پی ٹی آئی کے رہنما شفقت محمود اور پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن بھی شریک تھیں۔شفقت محمود نے کہا کہ پی ٹی آئی طیب اردوان کی بہت عزت کرتی ہے، ترک صدر کے پارلیمان سے خطاب پر بائیکاٹ کا فیصلہ آسان نہیں تھا، پاناما کیس کا فیصلہ ہونے تک نواز شریف کو متنازع وزیراعظم سمجھتے ہیں اس لئے اسمبلی میں نہیں جارہے ہیں، ترک صدر کے دورئہ پاکستان کیلئے یہ مناسب وقت نہیں تھا، حماد بن جاسم بہت متنازع اور دلچسپ شخصیت ہیں، حماد بن جاسم کا نام بھی پاناما پیپرز میں ہے،حماد بن جاسم کا بیٹا سیف الرحمٰن کی کمپنی ریڈکوانٹرنیشنل کا چیئرمین ہے۔شیری رحمٰن نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کئی مہینوں سے متنازع ہیں، وزیراعظم پاناماپیپرز کی موثر جوابدہی کے بغیر اپنی ساکھ برقرار نہیں رکھ سکتے ہیں، قطری شہزادے کا خط پیش کر کے ن لیگ نے خود پر بم پھوڑا ہے۔مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ اہم غیرملکی حکمرانوں کے دوروں پر پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کیا ہے، پچھلی مرتبہ چینی صدر کے دورہ کے موقع پر دھرنا اور اب ترک صدر کے خطاب پر پارلیمان کا بائیکاٹ کیا جارہا ہے، پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کر کے پی ٹی آئی اپنے ووٹروں کا حق چھین رہی ہے، جب سپریم کورٹ پاناما کیس سن رہی ہے تو پارلیمنٹ کے بائیکاٹ کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کسی کے کہنے سے متنازع نہیں ہوجائیں گے، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کو اپنے الزامات ثابت کرنا ہوں گے، قطری شہزادے کے خط پر سیاست کھیلی جارہی ہے، قطری شہزادے نے خط میں واضح کیا ہے کہ تمام باتوں کا آفیشل ریکارڈ قانونی دستاویزات کے ساتھ دوہا میں موجود ہے، قطری شہزادے کا بیان وہاں جاکر یا اسکائپ کے ذریعے بھی لیا جاسکتا ہے،جاسم اور میاں شریف کا 1970ء کا تعلق ہے، وزیراعظم کی پارلیمنٹ میں تقریر اور بچوں کے بیانات اور انٹرویوز میں کوئی تضاد نہیں ہے۔شفقت محمود نے کہا کہ پی ٹی آئی طیب اردوان کی بہت عزت کرتی ہے، ترک صدر کے پارلیمان سے خطاب پر بائیکاٹ کا فیصلہ آسان نہیں تھا، پاناما کیس کا فیصلہ ہونے تک نواز شریف کو متنازع وزیراعظم سمجھتے ہیں اس لئے قومی اسمبلی میں نہیں جارہے ہیں، جب کوئی متنازع ہوجاتا ہے تو اسے عہدے سے ہٹ جاناچاہئے، ترک صدر کے دورئہ پاکستان کیلئے یہ مناسب وقت نہیں تھا، ملک میں اس وقت بہت تناؤ کی فضا ہے،نواز شریف کو کبھی سعودی شہزاد تو کبھی قطری شہزادہ پیسے دیدیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قطری شہزادے حماد بن جاسم بہت متنازع اور دلچسپ شخصیت ہیں، حماد بن جاسم کا بیٹا سیف الرحمٰن کی کمپنی ریڈکوانٹرنیشنل کا چیئرمین ہے، ان کی ایک اور کمپنی المرقاب ہے جسے بولی کا عمل کیے بغیر پورٹ قاسم پاور پلانٹ میں 49فیصد شیئرز دیئے گئے، ایک بینک سے نواز شریف کے بچوں نے قرض لیا تھا جس میں 700ملین ڈالر کا اسٹاک حماد بن جاسم کا ہے، ون ہائیڈ پارک جس میں حسن نواز ایک جگہ پر رہتے ہیں اس کا مالک بھی حماد بن جاسم ہے،حماد بن جاسم نے بطور وزیراعظم قطر ، برطانیہ کے ساتھ ایک ڈیل میں سات ملین ڈالر کک بیک لیا تھا، حماد بن جاسم کا نام بھی پاناما پیپرز میں ہے۔شفقت محمود نے حامد میر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شریف خاندان کے بیانات میں واضح تضادات ہیں، حسین نواز نے آپ سے انٹرویو میں بتایا کہ ہم نے جدہ میں اسٹیل مل بیچ کر لندن میں فلیٹس خریدے جبکہ کامران خان کے انٹرویو میں کہتے ہیں کہ ہم نے فلیٹس مارگیج کے ذریعے خریدے اور وہ ہم ابھی تک ادا کررہے ہیں، اس کے بعد وزیراعظم فلور آف دی ہاؤس پر نئی بات سامنے لے آئے کہ ان کی دبئی میں ایک فیکٹری تھی وہ بیچ کر لندن میں فلیٹ خریدے، دبئی کی اس فیکٹری کے مالک تو طارق شفیع تھے، اس کے بعد حماد بن جاسم نے طوطا مینا کی کہانی پیش کی کہ یہ فلیٹس ہم نے خریدے تھے اور بعد میں سیٹلمنٹ کردی۔ شفقت محمود کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کا جھوٹ ثابت ہوگیا ہے، وزیراعظم فلور آف دی ہاؤس پر ایک بیان دیتے ہیں مگر ان کے بچوں نے عدالت میں ان کے الٹ بیان جمع کروایا ہے۔شیری رحمٰن نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کئی مہینوں سے متنازع ہیں، وزیراعظم پاناماپیپرز کی موثر جوابدہی کے بغیر اپنی ساکھ برقرار نہیں رکھ سکتے ہیں، پاناما پیپرز نیا او ر مقامی مسئلہ نہیں بین الاقوامی کہانی ہے، ترک صدر کے خطاب کا بائیکاٹ کر کے پی ٹی آئی نے پار لیمنٹ کا حصہ نہ ہونے کا پیغام دیا ہے، طیب اردوان کے پاکستان آنے کا وقت غلط نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ قطری شہزادے کا خط پیش کر کے ن لیگ نے خود پر بم پھوڑا ہے، اگر قطری شہزادے کی بات درست ہے تو وزیراعظم نے پہلے کیوں نہیں بتائی، قطری شہزادہ خط میں کہتا ہے ’میں نے سنا ہے‘ جو عدالت میں ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔شیری رحمٰن کا کہنا تھا کہ حکومت میں کچھ لوگوں نے خودساختہ جلاوطنی اختیار کرلی ہے، وزیرداخلہ چوہدری نثار برطانیہ جاکر بیٹھ گئے ہیں جن کا انٹرویو ہے کہ لندن کے فلیٹس کس وقت لیے گئے۔