جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانا عام سی بات ۔۔۔روپے میں ہر جگہ سے مل جاتا ہے: چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سزائے موت کے مجرم امداد علی کی ذہنی حالت جانچنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے 5 ماہرِ ذہنی امراض کے نام مانگ لیے۔ پیر کو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے امداد علی کی پھانسی روکنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران عدالت عظمٰی نے امداد علی کی ذہنی حالت جانچنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست منظور کرلی۔اس موقع پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھانسی ملتوی تو کی جا سکتی ہے لیکن سزا ختم نہیں کی جاسکتی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘ہم نے امداد علی کے مرض کے علاج سے انکار نہیں کیا،لیکن ہمارے پاس کوئی مضبوط شواہد نہیں کہ امداد علی ذہنی مریض ہے۔’چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ‘پاکستان میں جعلی میڈیکل سرٹیفکیٹ بنانے عام سی بات ہے اور ایسا سرٹیفکیٹ 100 روپے میں ہر جگہ مل جاتا ہے۔’سماعت کے دوران معزز جج کا کہنا تھا کہ ٹرائل جج کے سامنے امداد علی نے تمام سوالات کے درست جوابات دیئے تھے، لہذا دوبارہ ٹرائل کورٹ میں کیس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھی سپریم کورٹ نے امداد علی کی پھانسی کے حوالے سے ہائیکورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ‘امداد علی روحانیت میں چلا گیا ہے’، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘جب بے گناہ لوگوں کا قتل کیا جاتا ہے تو روحانیت آ ہی جاتی ہے۔’اس موقع پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے امداد علی کی پھانسی رکوانے کے سلسلے میں کچھ این جی اوز اور اداروں کے سرگرم ہونے کے حوالے سے بھی استفسار کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ اس معاملے میں این جی اوز والے اتنے متحرک کیوں ہیں؟یاد رہے کہ 50 سالہ امداد علی کو 2002 میں ایک عالم دین کو قتل کرنے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی،جس کے بعد سے انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی پھانسی رکوانے کے لیے سرگرم ہیں۔