حکومت کو فوج سے ٹرینگ لینی چاہیے، سیاستدانوں کے بارے میں بڑے کام کا مشورہ سامنے آگیا

لندن  آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہاہے کہ میں اب مکمل طو رپر صحت مند ہوں، مگر مقدمات کی وجہ سے پاکستان نہیں آ رہا، عدالتیں ٹھیک فیصلہ نہیں کر رہیں ، بھارت سے متعلق حکومتی پالیسی میں بہتری آئی ہے ،حکومت کو فوج سے ڈپلومیسی سیکھنی چاہیے ،مجاہدین کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف لڑ رہے ہیں ، دنیا میں ہم تنہائی کا شکار فوج کی وجہ سے نہیں حکومتی پالیسی کی وجہ سے ہو رہے ہیں میں قومی سطح کا لیڈر ہوں۔

تفصیلات کے مطابق سابق صدر جنرل (ر ) پرویز مشرف نے کہاکہ سیاسی مقدمات کی وجہ سے پاکستان میں نہیں آ رہا، میرے خلاف غیر آئینی اقدامات کئے جا رہے ہیں،عدالتیں غلط فیصلے کر رہی ہیں۔ پرویز مشرف نے کہا کہ میری صحت بالکل ٹھیک ہے مگر کیسز کی وجہ سے واپس نہیں آ رہا۔ انہوں نے ایل او سی پر بھارتی فائرنگ سے متعلق سوال کے جواب میں کہاکہ لائن آف کنٹرول پر بھارت پاکستان کو اکسا رہا ہے، ہمیں بھرپور جواب دینا پڑے گا پھر بھارت خود ہی ٹھیک ہو جائے گا،بھارت سے متعلق حکومتی پالیسی میں کچھ بہتری آئی ہے، بھارت کے ساتھ برابری کی سطح پر بات چیت ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج کی وجہ سے نہیں حکومتی پالیسی کی وجہ سے تنہا ہو رہا ہے، حکومت کو چاہئے کہ وہ فوج سے ڈپلومیسی سیکھے ۔ سابق صدر نے کہا کہ میں قومی سطح کا لیڈر ہوں کوئی ایسا شخص نہیں جو ایم کیو ایم کو متحد کر سکے، امریکہ کا صدر کوئی بھی ہو پاکستان کو فرق نہیں پڑتا، 18 ویں ترمیم نے وفاق کو کمزور کیا، صوبے چھوٹے ہونے سے مسائل حل ہوں گے۔

Facebook Comments