پاناما لیکس ، شریف خاندان نے شکوک و شبہات رفع کرنے کا سنہری موقع ضائع کر دیا

اسلام آباد سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کے مقدمہ میں جاری سماعت کے دوران شریف خاندان نے گو بعض سوالات کا مفصل جواب جمع کرا دیا ہے تاہم بیرون ملک آف شور کمپنیوں اور خفیہ اکائونٹس کے ضمن میں 13بنیادی سوالات کا جواب نہیں دیا گیا۔ بظاہر شریف خاندان نے اپنے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کو رفع کرنے کا سنہری موقع ضائع کر دیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز، کیپٹن صفدر اور اسحاق ڈار کو فریق بنایا گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ وزیراعظم کے چھوٹے بھائی اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اس کیس میں فریق نہیں بنائے گئے۔ وہ بنیادی سوالات جن کا شریف خاندان کی جانب سے جواب نہیں دیا گیا ان کی ترتیب درج دیل ہے 1) پہلا سوال  یہ ہے کہ پاناما لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ  میں  دائر مختلف درخواستوں کے جواب میں شریف خاندان کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ مریم نواز آف شور کمپنیوں کی قانونی مالک نہیں ہیں بلکہ اس ٹرسٹ کی ٹرسٹی ہیں جس کے تحت یہ آف شور کمپنیاں چلائی جا رہی ہیں جبکہ آف شور کمپنیوں کے قانونی مالک حسین نواز ہیں اور انہی کے بچے ان کے بعد اس کے وارث ہوں گے۔حسین نواز نے 2006سے ان آف شور کمپنیوں کے حقیقی مالک  کے طور پر بیان دیا اور یہ کہ ان کے خاندان کے افراد بینیفشل آنرز ہوں گے۔BVIFSCبی وی آئی فنانشل سروسز کمیشن  برٹش ورجن آئی  لینڈ میں  وہ آرگنائزیشن ہے جو آف شور کمپنیوں کو رجسٹر کرتی ہے اور ان کمپنیوں سے متعلق تمام امور  کنٹرول کرتی ہے۔  تاہم یہاں سوال یہ ہے کہ برٹش ورجن آئی لینڈکی دستاویزات کو بطور حوالہ کیوں پیش نہ کیا گیا جو ان آ ف شور کمپنیوں کی ملکیتی نوعیت واضح کر دیتیں۔ برطانیہ میں رجسٹرڈ ٹرسٹ کی دستاویزات کے ذریعے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ مریم نواز آف شور کمپنیوں کی حقیقی مالک نہیں ہیں بلکہ ان کی حیثیت ٹرسٹی کی ہے،مگر برٹش ورجن آئی لینڈ کی دستاویزات سے یہ ظاہر ہو گیا کہ مریم نواز حقیقی یا قانونی مالک ہیں تو پھر وہ پابند ہیں کہ پاکستان  میں اپنے سالانہ  گوشواروں میں ان بیرونی اثاثوں کو ظاہر کریں،ٹرسٹی ہونے کی صورت میں وہ اس کی پابند نہیں ہیں،بعض یورپی ممالک میں ٹرسٹی بھی اپنے گوشوارے داخل کراتے ہیں یہ جواز شریف خاندان کے موقف کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔((اس حوالے سے مصدقہ اطلاعات ہیں کہ حسین نواز آئندہ  سماعت پر جو کہ 15نومبر بروز منگل کو ہے،ٹرسٹ ڈیڈ اور دیگر دستاویزات کے علاوہ دو آف شور کمپنیوں  نیلسن اینڈ نیسکول کی اصل سیل ڈیڈ(sale deed) بھی سپریم کورٹ میں پیش کریں گے۔تاہم یہاں یہ بات نہایت اہم ہے کہ فاضل عدالت کے روبرو پیش کی گئی ان آف شور کمپنیوں سے متعلق ایک فائل میں 1990میں ان کمپنیوں کی ملکیت ظاہر کی گئی ہے))(2)دوسرا سوال یہ ہے کہ شریف خاندان ان آف شور کمپنیوں کی 2006سے ملکیت کا اعتراف  کرتا ہے  اور اصل  مسئلہ  ان کمپنیوں کی  2006سے قبل ملکیت کا ہے،یہاں سوال یہ ہے کہ 2006سے پہلے ان کمپنیوں کا مالک کون تھا۔اس مرحلہ پر سپریم کورٹ میں دستاویزی ثبوت پیش کرنے کا مرحلہ تو نہیں آیا تاہم شریف خاندان آسانی سے برٹش ورجن آئی لینڈ کی دستاویزات کا حوالہ دے کر 2006ء سے تاحال حسین نواز کی ملکیت ثابت کر سکتا تھا اور ان دستاویزات میں مریم نواز کا کہیں کوئی ذکر نہیں۔ جب شریف خاندان کی جانب سے عدالت میں ان آف شور کمپنیوں کی مکمل فائل پیش کی جاتی تو یہ دعویٰ ثابت ہو جاتا۔ زیادہ تر سوالات کا تعلق 2006ء سے قبل سے ہے۔ جن سوالات کا جواب نہیں آیا ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ حسین نواز نے کس سے مذکورہ آف شور کمپنیاں خریدیں جو پہلے ہی پارک لین فلیٹس کی ملکیت رکھتے تھے۔ کیا یہ آف شور کمپنیاں خریدی گئیں یا خاندان کے اندر جائیداد کی تقسیم کے بعد حسین نواز کے حصہ میں آئیں۔ جائیداد کی تقسیم سے متعلق تو افواہیں گردش میں ہیں مگر یہ ممکن نہیں کیوں کہ داخل کرائے گئے جوابات میں یہ واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ آف شور کمپنیاں 2006ء میں قیمت کی ادائیگی کے بعد خریدی گئیں۔ جب حسین، حسن اور مریم نواز اپنے جوابات میں ’’فیملی ممبرز‘‘ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد 6افراد ہیں جن میں والد نواز شریف والدہ کلثوم نواز اور چار بہن بھائی شامل ہیں جن میں تین وہ خود ہیں۔ جب نواز شریف لفظ ’’فیملی‘‘ استعمال کرتے ہیں تو اس سے مذکورہ 6افراد کے علاوہ ان کے مرحوم والد محمد شریف اور تمام بھائی شامل ہیں۔(3)تیسرا سوال یہ ہے کہ یہ ایک جانی مانی بات ہے کہ شریف خاندان لندن کے فلیٹس کو 1992ء سے استعمال کر رہا ہے۔ متعدد سیاستدان اور صحافی اس امر کی نشاندہی کر چکے ہیں جو ان فلیٹس میں شریف خاندان کے افراد سے مل چکے ہیں۔ بنیادی سوال  معاملہ کی تفصیل سے متعلق ہے جس کے تحت شریف خاندان پارک لین کے ان فلیٹس کو استعمال تو 1992ءسے کر رہا ہے مگر خریدے  2006ء میں ہیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں کہ لندن فلیٹس 1992ء سے 2006ء تک ملکیت کے بارے میں بتایا جائے۔ بجائے اس موقف کے پیچھے چھپنے کے کہ الزامات عائد کرنے والے ثبوت بھی سامنے لائیں، حسین نواز یہ وعدہ کر چکے ہیں کہ وہ تمام الزامات کو غلط ثابت کرنے کے لئے دستاویزی ثبوت سامنے لائیں گے۔ اس سے تمام افواہوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس سے یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ کلثوم نواز نے 2000ء میں ’’گارڈین‘‘ کو انٹرویو میں یہ کیوں کہا تھا کہ لندن فلیٹس بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں خریدے گئے۔ بطور ٹرسٹی یورپی ممالک میں متعدد حلف نامے جمع کرانا ہوتے ہیں کیا مریم نواز شریف نے ایسا کوئی حلف نامہ کہیں جمع کرایا، ایسا ہے تو اس سے شریف خاندان کے موقف کو تقویت ملے گی۔(4)چوتھا سوال یہ ہے کہ آف شور کمپنیوں کو کتنی رقم کے عوض خریدا گیا، یہ واضح نہیں کیا گیا۔شریف خاندان کی طرف سے اس بات کا اکثر اپنے بیانات میں اعادہ کیا گیا کہ مزکورہ آف شور کمپنیاں خرینے کیلئے پاکستان سے پیسہ منتقل نہیں کیا گیا ،تاہم اس مرحلے پر 2006میں ان کمپنیوں کی خریداری پر خرچ کی جانیوالی مجموعی رقم کے بارے میں تاحال کچھ نہیں بتایا گیا ۔یہ بات واضح ہے کہ اس معاملے کو چھپانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے  یہاں تک اس  خوش نصیب شخص کا نام اور اس کے بارے میں دیگر تفصیلات  کو منظر عام پر لانے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں جس سے یہ کمپنیاں خرید گئی ہیں۔(5)پانچواں سوال یہ ہے کہ  دبئی میں استعمال ہونے والی رقم پاکستان میں سالانہ گوشوارے میں ظاہر کی گئی ،1972 سے1980ء تک کی  ان دستاویزات کاسپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے جوابات میں ذکر نہیں کیا گیا جو بینکوں سے متعلق تھیں۔نواز شریف قومی اسمبلی کے ایوان میں بھی اپنے خطاب میں یہ کہہ چکے ہیں کہ لندن فلیٹس کی خریداری کے لئے رقم پاکستان سے نہیں گئی بلکہ یہ رقم دوبئی کی سٹیل ملزبیچ کر حاصل کی گئی لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ دوبئی سٹیل ملز بنانے پر کتنے پیسے صرف ہوئے۔ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم نے اعتراف کیا تھا کہ ان کے والد نے 1973 میں دبئی میں سٹیل ملز لگائی ، مگر سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے کاروبار یا جائیداد کی خریداری کیلئے کبھی پاکستان سے پیسہ بیرون ملک منتقل نہیں کیا،یہاں انہیں یہ قانونی نکتہ پیش کرنا چاہئے تھا کہ یہ ان کے والد تھے جو جنہوں نے دبئی رقم منتقل کی ،اپنے خاندانی کاروبار کے دفاتر سے اس کا ثبوت بھی دینا چاہیے تھا تاکہ ان کے خاندا ن پر لگنے والے غیر ضروری الزامات کا خاتمہ ہو۔اسی طرح 70 کے عشرے  میں بی سی سی آئی بینک سے لیے جانے والے قرضے کا بھی ذکر نہیں کیا گیا،یہ قرضہ بعد میں معاف کرا لیا گیا۔یہاں بنیادی سوال  رقم کی منتقلی  سے متعلق ہے جو سارے معاملے کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا ،شریف خاندان کے کہنے کے مطابق  رقم کچھ یوں منتقل ہوئی ۔پیسہ دبئی بھیجا گیا  اور دبئی میں  1973میں گلف سٹیل قائم کی گئی ،گلف سٹیل کو 1980میں 9ملین ڈالر میں فروخت کیا گیا اور سودے میں حاصل ہونے والے پیسے کو ’’کہیں‘‘ رکھوایا گیا ۔بعدازاں یہ  پیسہ 2002۔3میں   کسی جگہ سےسعودی عرب کے شہر جدہ میں عزیزیہ سٹیل مل لگانے کیلئے   لایا گیا ۔جدہ مل 2006میں 17ملین ڈالر میں فروخت کردی گئی اور اس سودے میں حاصل ہونے والی رقم  بینکوں کے ذریعے لندن منتقل کی گئی ۔آف شور کمپنیاں نیلسن اینڈ نیسکول،اور پارک لین کے تین فلیٹس 2006 میں مریم نواز کے بجائے   حسین نواز کے نام پر خریدے گئے۔اگر درج ذیل چھ  طریقوں کی بنیاد پر رقم   منتقل کی گئی  تو اس  صورت میں  کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے۔1۔کتنا پیسہ اور کہاں بھیجا گیا2۔رقم منتقلی کی تاریخ کیا ہے3۔رقم منتقلی کیلئے کیا طریقہ اختیار کیا گیا4۔پاکستان میں کمائی گئی رقم  کتنی ہے5۔اس رقم پر کتنا ٹیکس دیا گیا 6۔کیا  اس رقم کو متعلقہ کمپنیوں کے سالانہ گوشواروں  میں ظاہر کیا گیا تھا  اور رقم کن سالوں میں ظاہر کی گئی1973میں دبئی میں کی گئی سرمایہ کاری  کی  تفصیل میں  ان میں سے کسی بات کا بھی ذکر نہیں ملتا۔(6)چھٹا سوال یہ ہے کہ گو براہ راست تو یہ نہیں پوچھا گیا کہ 1980ء میں گلف سٹیل ملز دوبئی کتنے میں فروخت ہوئی تاہم سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے جواب میں یہ دستاویزی ثبوت فراہم کرنا چاہئے تھا کہ گلف سٹیل ملزم 90لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی تھی۔ اس سے منی ٹریل کی وضاحت ہو جاتی۔(7)ساتواں سوال یہ ہے کہ گلف سٹیل ملز 90لاکھ ڈالر میں فروخت ہوئی اور 2002ء میں اس رقم سے عزیزیہ سٹیل ملز جدہ تعمیر کی گئی مگر یہ رقم 23سال کہاں محفوظ رہی، اس کا جواب کہیں نہیں ہے۔(8)آٹھواں سوال یہ ہے کہ ان 90لاکھ ڈالر کا پاکستان کے ٹیکس گوشواروں میں کہیں ذکر ہے۔ یہ رقم کب دوبئی سے جدہ منتقل ہوئی تاکہ عزیزیہ سٹیل ملز قائم کی جاسکے۔(9) نواں سوال  یہ ہے کہ عزیزیہ سٹیل مل کیلئے دبئی سے سعودی عرب کتنی اور کب رقم منتقل کی گئی ۔(10)دسواں سوال جس کا جواب تشنہ ہے وہ یہ ہے کہ شریف خاندان 23میں سے 20سال قومی سیاست میں متحرک رہا۔ اس کے باوجود یہ 90لاکھ ڈالر کی خطیر رقم ملک میں نہ لائی گئی۔(11)گیارہوں سال التوفیق انوسٹمنٹ بینک برطانیہ سے حاصل کئے گئے قرضہ سے متعلق  ہے جس کی عدم ادا ئیگی پر لندن ہائیکورٹ میں مقدمہ چلا۔ شریف خاندان کے تمام افراد نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں اس کا ذکر نہیں کیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے محض اتنا کہا ہے کہ وہ اس مقدمہ میں فریق نہیں تھے۔(12)بارہواں سوال یہ ہے کہ بیرون ملک واقع جائیداد کے بارے میں تو وضاحت کی گئی ہے مگر کرپشن کے بارے میں عائد الزامات کا جواب نہیں دیا گیا۔ مثال کے طور پر عمران خان کی جانب سے دائر درخواست میں امریکہ میں گندم کی فروخت کا الزام لگایا گیا ہے جس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔(13)تیرہواں اورآخری سوال انکم ٹیکس سے متعلق ہے۔ عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ 3دہائیوں سے شریف خاندان نے جو ٹیکس دیا ہے اس میں 92فیصد سیلز ٹیکس ہے جو خریدار ادا کرتا ہے۔ اگر یہ غلط ہے تو دستاویزی ثبوت کے ساتھ اس کی تردید ہونی چاہئے مگر یہ موقع ضائع کر دیا گیا۔