عمران خان تو دراصل میاں نواز شریف کے مددگار ثابت ہو رہے ہیں، حیران کن انکشاف ہو گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے پاناما لیکس پر قائم لا اینڈ جسٹس کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکانِ سینیٹ کی عدم شرکت پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارلیمنٹ ہاؤس چیمبر میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے پاناما لیکس کے حوالے سے ہونے والے کمیٹی کے اہم اجلاس میں پی ٹی آئی کی عدم شرکت پر خورشید شاہ نے حیرانی کا اظہار کیا، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پاناما معاملے پر پیش کیے جانے والے بل میں پی ٹی آئی کے سینیٹرز اہم فریقین ہیں۔ خورشید شاہ کا پی ٹی آئی سے سوال تھا کہ ’وہ آخر کیا چاہ رہے ہیں؟‘۔ منگل کے روز، حکومتی اراکین اور اپوزیشن کے درمیان گرماگرم بحث کے بعد کمیٹی نے متنازع پاناما بل فائنل رولنگ کے لیے چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کو پیش کیا۔ حکومت اور اپوزیشن کی ووٹنگ کے نتیجہ میں 4-4 سے برابر ہونے کے بعد، اپوزیشن ممبران کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرے کو پاکستان مسلم لیگ (نواز) سے تعلق رکھنے والے کمیٹی کے چیئرمین، جاوید عباسی نے اپنا ووٹ کاسٹ کرکے رفع دفع کرایا۔ سینیٹ کمیٹی نے بل پیش کرنے والے 38 ارکان کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی، مگر بل پر دستخط کرنے والے پی ٹی آئی کے 5 سینیٹرز میں سے کوئی بھی اجلاس میں شریک نہ ہوا۔ اس پر اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اس عمل سے ان کے اس خیال کو مزید تقویت ملی ہے کہ عمران خان بالواسطہ یا بلاواسطہ نواز لیگ حکومت کی حمایت کررہے ہیں۔ خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ’پہلے تحریک انصاف نے دھرنا ملتوی کیا اور اب وہ کمیٹی کے اجلاس سے بھی غیر حاضر ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان خود نواز شریف کو سب سے زیادہ مدد فراہم کررہے ہیں‘۔ اپوزیشن لیڈر نے عمران خان پر سیاسی تجربے کی کمی کے باعث پارلیمان کے تقدس کا خیال نہ کرنے کا الزام بھی لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ اپوزیشن کا کردار صرف مخالفین کو برابھلا کہنے تک محدود ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ محض بدزبانی کرکے لوگوں سے کوئی اپیل نہیں کی جاسکتی اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) ہی پارلیمان میں اصل اپوزیشن کا کردار ادا کررہی ہے۔ خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پاناما پیپرز کے معاملے پر سپریم کورٹ کی کارروائی سے پارلیمان کو قانون سازی کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہوگی۔ دوسری جانب، تحریک انصاف کے سینیٹرمحسن عزیز نے اپنی جماعت کی اجلاس میں عدم شرکت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کی ساری توجہ سپریم کورٹ کی کارروائی پر ہے کیونکہ بذریعہ پارلیمان قانون سازی ایک طویل عمل ہے۔ محسن عزیز کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی احتساب کے لیے ہر فورم کا استعمال کرنا چاہتی ہے مگر وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ ان پر تنقید کی جائے کہ وہ ملک کی عدلیہ پر بھروسہ نہیں کرتے۔ پی ٹی آئی سینیٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ، پارلیمان کے ذریعے قانون سازی ایک طویل عمل ہے، کمیٹی اور پھر سینیٹ سے بل پاس کروانے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کی جانب سے بل سینیٹ چیئرمین کو پیش کرنا ثابت کرتا ہے کہ حکومت معاملے کو طول دینے کے لیے ہر قدم اٹھائے گی۔ انہوں نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ انہیں اس معاملے پر پارٹی چیئرمین عمران خان کی جانب سے ہدایات موصول نہیں ہوئیں اس لیے ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین سینیٹ نے کمیٹی کی کارروائی سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ (ب،ع)

Facebook Comments