بچے گا کوئی نہیں، ملکیت تسلیم کرنے کے بعد رقوم جائز ثابت کرنا مالکوں کا کام ہے، سپریم کورٹ

اسلام آبادسپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کی سماعت دوران قرار دیا ہے کہ تمام بدعنوان اسکی زد میں آئینگے،کسی سے امتیازی سلوک نہیں ہوگا،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کی وزیر اعظم کیخلاف الزامات کی چھان بین ترجیح ہے،حضرت عمرؓ کی مثال دیکھ لیں،بچے گا کوئی نہیں،پک اینڈ چوز نہیں ہو رہا، حاکم وقت کی پوزیشن دوسروں سے مختلف ہوتی ہے،حضرت عمرؓ کی مثال دیکھ لیں۔کمپنیوں کی ملکیت تسلیم کرنے کے بعد رقوم جائز ثابت کرنا بھی مالکوں کا کام ہے، عدالت کو مطمئن کریں، گھر جائیں، ورنہ وزیراعظم کیلئے مشکل ہوگی۔ دوران سماعت معزز جج صاحبان نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعظم کہہ چکے ہیں حکومت کیخلاف فیصلہ آیا تو عہدہ چھوڑ دینگے، ہم کلین چٹ بھی دے سکتے ہیں، مخالف فیصلہ بھی آ سکتا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ہم نے کڑوی گولی نگلی، بادشاہ بنکر نہیں بیٹھے کہ جس کیخلاف چاہیں فیصلہ دیں،آئین اور قانون کے مطابق حکم دینگے، عدالت کا کام حکومت چلانا نہیں،محض الزامات پر ممبر پارلیمنٹ کیخلاف مقدمہ درج کرنیکاحکم نہیں دے سکتے۔دوسری طرف وزیر اعظم کے بچوں مریم،حسن اور حسین کےجوابات جمع کرا دیئے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے تینوں بچے بالغ اور خود مختار ہیں، حسن اور حسین بیرون ملک مقیم اور کاروباری شخصیت ہیں، مریم آف شور کمپنیوں کی مالک نہیں، ٹرسٹی ہیں، رقوم پاکستان سے نہیں گئیں، دادا نے دبئی سے بھیجیں، تینوں میں سے کوئی نواز شریف کی کفالت میں نہیں تاہم انکے ساتھ متعلقہ دستاو یزا ت لف نہیں تھی جس پر عدالت نے آئندہ پیشی 15 نومبر تک تمام فریقین سےمتعلقہ دستاویزات و شواہد طلب کرتے ہوئے قرار دیا کہ دستاویزات جمع کرانے کا یہ آخری موقع ہے، مزید مہلت نہیں دی جائیگی۔عدالت نے قرار دیا کہ ان شواہد اور دستاویزات کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا کہ کمیشن بنایا جائے یا نہیں۔دوران سماعت عدالت نے تحریک انصاف کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ کے پاس مزید کیا شواہد ہیں جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ جو ثبوت تھے دے دیئے، تفتیش کرنا ہمارا کام نہیں۔ پیر کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ نے پانامالیکس کیس میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان،جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ،عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد کی درخواستوں کی سماعت کی۔سماعت کے اختتام پر عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا ہے کہ مریم صفدر، حسن نواز اور حسین نواز جوابات جمع کرائے گئے ہیں تاہم جوابات مکمل نہیں ہیں کیونکہ انکے ساتھ متعلقہ دستاویزات جمع نہیں کرائی گئیں۔ وزیراعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا ہے کہ یہ دستاویزات اس لئے جمع نہیں کرائی گئیں کیونکہ گزشتہ سماعت پر یہ تاثر دیا گیا تھا کہ دستاویزات اکٹھی کرنے کا عمل کمیشن کے روبرو مکمل کیا جائیگا۔ عدالت نے کہا ہے کہ مدعا علیہان کے اس موقف پر درخواست گزار کے وکیل نے اعتراض کیا ہے۔ تمام فریقین کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ متعلقہ دستاو یزا ت آئندہ سماعت تک عدالت میں جمع کروائیں۔ انہیں مزید مہلت نہیں دی جائیگی۔ عدالت کا اپنے حکم میں کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ یہ عدالت ان دستاویزات کا جائزہ لے تاکہ کمیشن کے قیام اور دیگر معاملہ کو اس کی روشنی میں دیکھا جاسکے۔ عدالت نے حکم میں کہا کہ دستاویزات حاصل کرنے کے حوالے سے یہ عدالتی حکم کمیشن پراثر انداز نہیں ہو گا۔ کمیشن کسی سے بھی دستاویزات حاصل کرنے کا مجاز ہو گا۔ کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تو سینئر وکیل اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے عدالت کے سامنے پیش ہو کر موقف اختیار کیا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کے خلاف پانامہ لیکس کے حوالے سے دو درخواستیں آج ہی سماعت کے لئے مقرر کی گئی ہیں جو کہ دو رکنی بینچ کے سامنے سماعت کیلئے مقرر ہیں۔ انہیں بھی اس کیس کے ساتھ سنا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ الگ درخواستیں ہیں اگر مناسب سمجھیں گے تو انہیں بھی اس کے ساتھ مقرر کیا جا سکتا ہے تاہم اس وقت کوئی آبزرویشن نہیں دے سکتے۔ درخوا ست گزار طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس کیس کی سما عت سے یہ تاثر بن رہا ہے کہ یہ معاملہ عمران خان اور نواز شریف کے درمیان ہے تاہم ہماری استدعا ہے کہ ملک بھر کے جن 400 سے زائد لوگوں کے اس معاملہ میں نام آئے ہیں انکی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا تحقیقات کرنا عدالت کا کام ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حاکم وقت کی پوزیشن دوسرے تمام لوگوں سے مختلف ہوتی ہے۔ اس حوالے سے حضرت عمرؓ کی مثال دیکھ لیں کہ ایک عام شہری نے ان سے لباس کے بارے میں سوال کیا تو حضرت عمر ؓنے خندہ پیشانی سے اس کا جواب دیا۔ آج یہ پوزیشن ہے کہ وزیراعظم نے بھی خود کو احتساب کیلئے پیش کیا ہے تاہم یہ تاثر نہیں جانا چاہئے کہ عدالت کی طرف سے (پک اینڈ چوز) کیا جا رہا ہے۔ اس نظام کو چلانا ہے اسلئے عدالت احتیاط سے کام لے رہی ہے۔ طارق اسد کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم پاکستان نے کرپشن کی ہے تو ترجیحی طور پر اس معاملے کو دیکھنا چاہئے لیکن دوسرے لوگوں کو بھی چھوڑا نہ جائے کیونکہ انہوں نے بھی ملک کا پیسہ لوٹا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے خاندان کی موجودہ کمپنیوں کا ڈیٹا طلب کیا جائے جس سے بہت ساری چیزیں سامنے آ جائیں گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئین و قانون ہمیں جو اجازت دے گا ہم اسکے مطابق فیصلہ کرینگے۔ ہم بادشاہ بن کر نہیں بیٹھے۔ بنیادی طور پر دو معاملات دیکھنا ہونگے کہ کیا یہ معاملہ عوامی اہمیت اور بنیادی حقوق کا ہے۔ ہم وہ کام کر رہے ہیں جو ہمارا کام نہیں ہے۔ یہ اب عدالت پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت یا آرٹیکل 186 کے تحت اس معاملے کا جائزہ لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی جج کا نام پاناما لیکس میں شامل ہے تو اس کیخلاف عدالت میں کارروائی نہیں ہو سکتی۔ ہم نے پہلے بھی معاملہ حکومت کو اسی لئے واپس کیا تھا کیونکہ انکوائری کمیشن ایکٹ میں کمیشن کو محدود اختیارات حاصل ہیں۔ ہم ملک کو بحران کی کیفیت سے نکالنا چاہتے ہیں۔ عدالتی استفسار پر وزیراعظم اور ان کے خاندان کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے آگاہ کیا کہ مریم صفدر، حسن نواز اور حسین نواز کی طرف سے تحریری جوابات عدالت میں جمع کروا دیئے گئے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی پبلک آفس ہولڈر نہیں ہے اور نہ ہی ان میں سے کوئی وزیراعظم کی زیرکفالت ہے۔ انہوں نے مریم نواز کا جواب پڑھتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پٹیشن میں مریم نواز کے حوالے سے غلط تاثر دیا گیا ہے کہ وہ وزیراعظم کی زیرکفالت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز 2011ء میں بھی وزیراعظم کے زیرکفالت نہیں تھیں۔ وہ ایک آزاد شہری کی حیثیت سے ٹیکس باقاعدگی سے ادا کرتی ہیں۔ مریم نواز کے نام کوئی پراپرٹی نہیں اور نہ کسی کمپنی سے انہوں نے کوئی فائدہ لیا ہے۔ اس حوالے سے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ وہ اپنے بھائی حسن نواز کی دو کمپنیوں کی ٹرسٹی ہیں اور پٹیشن میں اس حوالے سے لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔ عدالت نے وزیراعظم کی طرف سے مریم نواز کو 2 کروڑ 55 لاکھ دینے کے حوالے سے استفسار کیا تو انہوں نے کہا کہ جب کمیشن بنا تو ہم یہ ثابت کریں گے کہ مریم نواز کے پاس کتنی رقم کہاں سے آئی اور کہاں خرچ ہوئی۔ سلمان بٹ نے کہا کہ حسن نواز اور حسین نواز کئی برسوں سے ملک سے باہر ہیں اور کاروبار کررہے ہیں، وزیراعظم نوازشریف کا انکے کاروباری سے کوئی تعلق نہیں اور دونوں کے پاس کوئی سرکاری عہدہ بھی نہیں ہے۔ ہم ہر چیز کمیشن کے سامنے رکھیں گے۔ اسوقت تمام دستاویزات عدالت میں پیش کرنا ممکن بھی نہ تھا کیونکہ اتنے مختصر عرصہ میں دستاویزات حاصل کرنا اور ان کو تصدیق کرانا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حسین نواز بھی وزیراعظم کے زیرکفالت نہیں وہ خودمختار اور آزاد ہیں بیرون ملک 22 سال سے کام کر رہے ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ حسن نواز اور حسین نواز کی طرف سے آف شور کمپنیوں کی ملکیت سے انکار نہیں کیا گیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کمپنیوں کی خریداری کیلئے رقم ٹرانسفر کی گئی۔