آخر کار پی ٹی آئی کی جیت ہو ئی ،سپریم کورٹ سے بڑا فیصلہ آ گیا

اسلام آباد:سپریم کورٹ اب تک پاناما گیٹ کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام پر غور کررہی ہے لیکن عدالت عظمیٰ نے اس بات کا اشارہ دے دیا ہے کہ وہ اسکینڈل کی تحقیقات وزیر اعظم سے شروع کرکے اسے ایک ٹیسٹ کیس بنانا چاہتی ہے کیوں کہ وزیراعظم نے رضاکارانہ طور پر خود کو احتساب کے لیے پیش کیا تھا اور بحیثیت وزیر اعظم ان کی ذمہ داریاں دیگر لوگوں سے کہیں زیادہ ہیں۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ہونے والی پاناما گیٹ کی سماعت کے دوان چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسکینڈل میں ملوث دیگر لوگوں کی جان چھوٹ جائے گی، ایک ایک کرکے سب کی باری آئے گی۔سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کہا کہ پاناما لیکس کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ عدالت عظمیٰ کے ججز کے لیے کڑوی گولی نگلنے کے مترادف تھا۔بینچ کا مزید کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ کا اس معاملے میں مداخلت کرنا ناگزیر تھا کیوں کہ دیگر ریاستی ادارے جیسے قومی احتساب بیور (نیب) یا وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) یا تو اپنی نا اہلی یا پھر سستی اور بے بسی کی وجہ سے کام نہیں کررے تھے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے خلیفہ دوم حضرت عمر ؓ کی مثال بھی دی جن سے ایک بار دریافت کیا گیا تھا کہ وہ بتائیں کہ ان کے پاس کپڑے کہاں سے آئے؟چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ پہلے وزیر اعظم کی تحقیقات اور بعد میں پاناما لیکس میں نام آنے والے دیگر لوگوں کے خلاف کیسز نمٹانے سے اس تاثر کو ختم کرنے میں مدد ملے گی کہ عدالت اپنی مرضی سے مقدمے کے لیے لوگوں کو منتخب کررہی ہے۔عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ انکوائری کمیشن کے قیام کا فیصلہ کرنے سے قبل تمام شواہد کا جائزہ لینا چاہتی ہے۔گزشتہ روز سماعت کے دوران بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ چونکہ وزیر اعظم کے خاندان نے پٹیشنز میں متذکرہ اداروں کی ملکیت سے انکار نہیں کیا لہٰذا یہ معاملہ انتہائی سادہ ہوگیا ہے جسے آسانی سے نمٹایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت کو اس بات کا یقین دلا کر کیس کو انجام تک پہنچایا جاسکتا ہے کہ رقوم کی منتقلی شفاف طریقے سے ہوئی۔فریقین ثانی کو صرف عدالت کے سامنے یہ بات ثابت کرنی ہے کہ جو رقم بیرون ملک جائیدادیں خریدنے کے لیے استعمال کی گئی وہ قانونی اور شفاف طریقے سے حاصل کی گئی تھی۔اگر وضاحت سے عدالت مطمئن ہوتی ہے تو وہ فریق ثانی کو کلین چٹ دے سکتی ہے بصورت دیگر وہ مشکل میں پھنس سکتے ہیں اور انہیں آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں جیسا کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے معاملے میں ہو اتھا۔یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں 19 جون 2012 کو پارلیمنٹ سے نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔چیف جسٹس نے عدلیہ کے ارکان کے احتساب کے حوالے سے کہا کہ وہ ججز جن کے نام پاناما پیپرز میں سامنے آئے ہیں ان کے خلاف تحقیقات شروع کی جاچکی ہیں۔عدالت نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا کہ یہ عدالت کی صوابدید ہے کہ وہ فریقین کی جانب سے پیش کیے جانے والے ٹی او آرز سے فائدہ اٹھائے یا پھر مکمل طور پر آزادانہ طرز عمل اپنائے۔سماعت کے دوران جسٹس کھوسہ نے 3 نومبر کی سماعت کے بعد پی ٹی آئی کے ترجمان نعیم الحق اور پاکستان عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈا پور کے درمیان جھڑپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کوئی پریس کلب نہیں کہ یہاں ہر سماعت سے کے بعد پریس کانفرنسز کی جائیں۔جسٹس کھوسہ کی اس بات کا سیاسی رہنماؤں پر اثر بھی دیکھنے میں آیا کیوں کہ سماعت کے بعد کسی نے عدالت کے باہر میڈیا سے بات نہیں کی۔