عمران خان پر وزیراعظم کے بچوں سے زیادہ سنگین الزامات ہیں، حنیف عباسی

کراچی مسلم لیگ نواز کے رہنما حنیف عباسی نے کہا ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین پر وزیراعظم کے بچوں سے زیادہ سنگین الزامات ہیں، محمود الرشیدنے کہا کہ   پارلیمنٹ احتساب کیلئے موثر کردار ادا نہیں کررہی، شعیب شاہین نے کہا کہ پاناما تحقیقات  نہ ہوئیں تو لوگوں کا اعتماد ختم ہوجائیگا، شاہ غلام قادر نے کہا کہ  مقبوضہ کشمیر کے لوگ پاکستان میں استحکام  چاہتے ہیں۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ”نیا پاکستان طلعت حسین کے ساتھ“ میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں  نمائندہ خصوصی جیو نیوز عبدالقیوم صدیقی، مزدور رہنما بشیر احمد اور فیصل ایدھی سے بھی بات کی گئی۔عبدالقیوم صدیقی نے کہا کہ آج پیر کو  پاناما کیس میں سب سے زیادہ اہم مریم نواز، حسن نواز اور حسین نواز کے جوابات ہوں گے۔میاں محمود الرشید نے کہا کہ پارلیمنٹ احتساب کیلئے موثر انداز میں اپنا کردار ادا نہیں کررہی ہے، پاناما لیکس میں ٹھوس حقائق اور اعترافات موجود ہیں۔محمد شعیب شاہین نے کہا کہ پاکستان بار کونسل کا موقف ہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات ہونی چاہئے، اگر تحقیقات نہیں ہوئیں تو لوگوں کا اعتماد ختم ہوجائے گا، پیپلز پارٹی کو دکھ اور تکلیف ہے اگر احتساب کا سلسلہ جاری رہا تو ان کے دروازے تک پہنچ جائے گا۔شاہ غلام قادر نے کہا کہ پاکستان میں دھرنا اور لاک ڈاؤن کی باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے، مقبوضہ کشمیر میں لوگ سرعام پاکستان کا جھنڈا لہراتے ہیں ،جب انہیں پتا لگتا ہے پاکستان میں استحکام نہیں تو اثر پڑتا ہے، ہم چاہتے ہیں پاکستان میں ایک مستحکم حکومت ہو۔حنیف عباسی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کہہ چکے ہیں وہ احتساب کیلئے تیار ہیں، وہ روز کہتے ہیں ہمارے خلاف کچھ ہے تو لائیں، ہمارے پاس ان کیخلاف چیزیں ہیں تو ہم لے آئے ہیں، پی ٹی آئی کی ہمارے خلاف پٹیشن میں وزیراعظم کا نہیں ان کے بچوں کا نام ہے، میری پٹیشن میں براہ راست عمران خان اور جہانگیر ترین پر الزامات ہیں، یہ الزامات اس سے زیادہ سنگین ہیں جو نواز شریف کے بچوں پر لگائے گئے ہیں،امید ہے عمران خان اور جہانگیر ترین میری پٹیشن پر اعتراض نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاناما معاملہ پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی چاہتے ہیں، حکومت اگر براہ راست عمران خان اور جہانگیر ترین کیخلاف کارروائی کرتی تو پی ٹی آئی شور مچانا شروع کردیتی، اس لئے ہم نے اس معاملہ پر عدالت سے رجوع کرنا بہتر سمجھا ہے، ایک وقت آئے گا جب پاناما معاملہ اٹھانے والے اپنی انگلیاں دانتوں سے کاٹیں گے کہ وقت کا زیاں ہوا ہے۔حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ سپریم کورٹ بار یا پاکستان بار کونسل کا ممبر کسی سے پیسے لے کر بک جائے گا، وزیراعظم کے خلاف جو لوگ اٹھ کر آئے ان پر خود  اتنے زیادہ الزامات ہیں ، تین سال میں ہم پر الزام لگانے والوں کا ای الزام بھی ثابت نہیں ہوا۔ عبدالقیوم صدیقی نے کہا کہ کل پاناما کیس کی سماعت میں سب سے زیادہ اہم مریم نواز، حسن نواز اور حسین نواز کی طرف سے آنے والے جوابات ہوں گے، وزیراعظم یا حکومت نے ابھی تک ٹی اوآرز عدالت میں جمع نہیں کروائے ہیں، تمام لوگوں کے جوابات آنے کے بعد ہی عدالت آئندہ کیلئے کوئی فیصلہ کرے گی، حنیف عباسی اپنی حکومت پر عدم اعتماد کر کے سپریم کورٹ کے پاس آرہے ہیں، عدالت پر کیس کا جلد فیصلہ کرنے کا کوئی دباؤ نہیں ہوگا۔میاں محمود الرشید نے کہا کہ پاناما پیپرز کو قومی معاملہ پی ٹی آئی نے بنایا ہے، پاکستان میں مکمل احتساب کا کوئی تصور نہیں ہے، پاناما لیکس کا معاملہ سپریم کورٹ کے پاس ٹھیک گیا، حکومتی ادارے بالکل ناکارہ ہوچکے ہیں اور حکمرانوں کے گھر کی لونڈی بنے ہوئے ہیں، حکومت کو عمران خان اور جہانگیر ترین کیخلاف پٹیشن دائر کرنے کے بجائے کارروائی کرنی چاہئے، حکومت الزامات صحیح سمجھتی ہے تو نیب اور ایف آئی اے کو عمران خان اور جہانگیر ترین کو پکڑنے کاحکم دے، کل واضح ہوجائے گا کہ عدالت ان کی پٹیشن لے گی یا نہیں لے گی۔انہوں نے کہا کہ کرپشن ملک کا نمبر ایک مسئلہ بن چکا ہے، جس ملک کا وزیراعظم اعلانیہ کہے کہ شرفاء کی پگڑیاں اچھالنا بند کی جائیں، میاں منشاء کو دو دفعہ نیب نے بلالیا تو نواز شریف نے دھمکادیا، نیب نے رانا مشہود اور دیگر کچھ لوگوں کو بلایا تو وزیراعلیٰ پنجاب نے نیب کو باز رہنے کیلئے کہا۔محمود الرشید نے کہا کہ پارلیمنٹ احتساب کیلئے موثر انداز میں اپنا کردار ادا نہیں کررہی ہے، پاناما لیکس میں ٹھوس حقائق اور اعترافات موجود ہیں، وزیراعظم ،مریم نواز اور ان کی پوری فیملی کے اعترافات ہیں۔محمد شعیب شاہین نے کہا کہ پاکستان بار کونسل کا موقف ہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات ہونی چاہئے، اگر تحقیقات نہیں ہوئیں تو لوگوں کا اعتماد ختم ہوجائے گا، سپریم کورٹ کے چھبیس فیصلے موجود ہیں جس میں اسی قسم کے حالات میں تعین کردیا ہے کہ پاناما کا معاملہ سپریم کورٹ کی پاورز میں آتا ہے، پیپلز پارٹی کو دکھ اور تکلیف ہے اگر احتساب کا سلسلہ جاری رہا تو ان کے دروازے تک پہنچ جائے گا، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف کا اتفاق ہے کرپشن کے خلاف کوئی تحقیقات نہیں ہونی چاہئے۔ محمد شعیب شاہین نے کہا کہ وائس چیئرمین ڈاکٹر فروغ نسیم، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی عبدالفیاض اور ہیومن رائٹس کمیٹی کے چیئرمین راحیل کامران شیخ پاکستان بار کونسل کے منتخب نمائندے ہیں، ایگزیکٹو کمیٹی اور ہیومن رائٹس کمیٹی کی مشترکہ میٹنگ میں دونوں کمیٹیوں کے چیئرمینوں کی طرف سے ایک قرارداد پیش کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ پاناما لیکس میں شامل باقی لوگوں کے خلاف کارروائی کیلئے ادارے موجود ہیں ،یہ ادارے وزیراعظم کے اثر میں ہیں لہٰذا پاناما لیکس کے ایشو پر لوگوں کا اعتماد نہیں رہا، حکومتی پارٹی سمیت تمام پارٹیاں سات دن میں پاناما لیکس ٹی او آرز پر اتفاق رائے کرلیں، اگر یہ اتفاق رائے نہ کریں تو وزیراعظم نے جو خط لکھا تھا چیف جسٹس آف پاکستان اسے پٹیشن میں تبدیل کرلیں اور عدالت 184/3کے تحت سوموٹو پاورز کا استعمال کریں، اگر چیف جسٹس سوموٹو پاورز استعمال نہیں کریں گے تو پاکستان بار کونسل پٹیشن لے کر وہاں چلی جائے، اس دوران پٹیشنز آگئیں، ہماری یہ قرارداد 30اپریل 2016ء کو منظور ہوئی تھی جو دوبارہ 3ستمبر 2016ء کو کنفرم ہوئی ہے، یہ قراراد اشتر اوصاف کی موجودگی میں دوبارہ پاس ہوئی ہے، ہمارے وہ دو اصحاب جو اس قرارداد کے موورز تھے ، حکومت نے انہیں win over کرلیا اور اشتراوصاف ان کے ساتھ مل گئے، وہ موو اوور اب نئی قرارداد لائے ہیں جو قانون کی خلاف ورزی ہے، بار کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو غیرقانونی ہے، یہ تو ضمیروں کی سوداگری ہے۔گڈانی میں مزدوروں کے حقوق کی نمائندگی کرنے والے بشیر احمد محمودانی نے کہا کہ شپ بریکنگ گڈانی میں سیفٹی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے حادثات میں مزدور ہلاک ہوتے رہتے ہیں، یکم نومبر کا حادثہ بہت بڑا تھا ، حادثہ بننے والے جہاز میں تقریباً 270مزدور موجود تھے، مزدوروں کو بغیر رجسٹریشن جہازوں پر کام کیلئے بھیج دیاجاتا ہے، مزدوروں کو کام کے لئے سیفٹی آلات فراہم نہیں کیے جاتے ہیں۔ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا کہ گڈانی میں امدادی آلات بہت کم ہیں، فائر بریگیڈ کے پاس ریسکیو کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، وہاں مزدور بہت برے حالات میں کام کررہے ہیں، پاکستان میں مزدوروں کیلئے سیفٹی اقدامات کو نظرانداز کیاجاتا ہے، گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں حادثے میں شکار زیادہ تر افراد کو حب لے کر جانا پڑا، راستہ لمبا ہونے کی وجہ سے زخمیوں کی حالت بہت خراب ہوئی، جلنے والے تقریباً تمام زخمی افراد چل بسے ہیں۔آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے اسپیکر شاہ غلام قادر نے کہا کہ کشمیریوں کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے، وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر جس مضبوط انداز سے اٹھایا اس سے کشمیر کی تحریک آزادی میں جان پڑی ،پاکستان میں دھرنا اور لاک ڈاؤن کی باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے، مقبوضہ کشمیر میں لوگ سرعام پاکستان کا جھنڈا لہراتے ہیں ،کشمیر میں نوجوان جیلوں میں ہیں جب انہیں پتا لگتا ہے پاکستان میں استحکام نہیں تو اثر پڑتا ہے، ہم چاہتے ہیں پاکستان میں ایک مستحکم حکومت ہو۔