کیا عمران خان نواز شریف کے ہمراہ خود کو بھی احتساب کیلئے پیش کرینگے؟

اسلام آباد(طارق بٹ) کیا تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عوام سے بار بار کیے گئے اپنے اعلان ’’ وہ آف شورز کمپنیوں کے حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف کے ہمراہ خود کو بھی احتساب کے لیے پیش کرینگے‘‘ پر پورا اتریںگے تاہم اس سوال کا جواب اس وقت سامنے آئے گا جب وزیر اعظم کی قانونی ٹیم عدالت عظمیٰ میں یہ بحث کرےگی کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جائے اور صرف اسے ایک شخص تک محدود نہ رکھا جائے۔ وزیر اعظم عدالت عظمیٰ سے تحریری طور پر یہ درخواست کر چکے ہیںکہ عمران خان اور جہانگیر ترین سےبھی آف شورشیلز سے متعلق سوالات کیے جانے چاہئیں۔ بہر حال، اگر عمران خان کے وکلا وزیر اعظم کی درخواست کیخلاف دلائل دیتے ہیں تو اس سے یہ ظاہر ہوجائیگا کہ عمران خان احتساب کے عمل سے بچنا چاہتے ہیں اور جو کچھ بھی وہ لمبے عرصے سے کہتے آرہے ہیں وہ محض دھوکا تھا۔ مزید برآں آف شور کمپنیوں سے متعلق الزامات پر مریم نواز کی جانب سے ایپکس عدالت میں جمع کروایاجانےوالا جواب ان کے والد اور شوہر کی جانب سےجوڈیشل باڈی کو جمع کروائے گئے جواب الجواب سے بڑی حد تک مماثلت رکھتا ہے۔ بہرحال جب ایپکس عدالت میں کیس کی سماعت شروع ہوگی تو دو اقدامات اہم ہوںگے جہاں فریقین کا رد عمل بہت اہمیت کا حامل ہوگا، ان میں سے ایک’’ ٹی او آرز‘‘ جبکہ دوسرا اقدام جج کی بطور ’’ ون مین‘‘ کمیشن ہوگا۔