10 اہم پاکستانی سیاستدا ن جنہیں ہالی ووڈ نے بھی نہ بخشا

یہ بہت ہی غلط حرکت ہے، ہم ہالی ووڈ سے بھرپور احتجاج کرتے ہیں کہ آخر وہ پاکستانی سیاست دانوں کو اپنی کارٹون فلموں میں کیوں استعمال کرتے ہیں؟ کیا؟ آپ کو ہنسی آ رہی ہے؟ ہمیں تو سخت غصہ آ رہا ہے۔ آخر کیوں نہ آئے۔ اب آپ بتائیں کیا نواز شریف کی شکل ”شریک“ سے ملتی ہے؟ ویسے تو اس بات کو ہم نے بھی مذاق ہی سمجھا تھا، لیکن جب ایک، ایک کرکے مختلف کارٹون کرداروں کو اٹھانا شروع کیا تو اندازہ ہوا کہ واقعی ہر کارٹون کریکٹر کی شکل کسی نہ کسی مقبول پاکستانی سیاست دان سے ملتی ہے۔

نواز شریف اور شریک

nawaz-shrek urdutribe
سب سے بڑی ”بدتہذیبی“ جو ہالی ووڈ نے دکھائی ہے، وہ 2001ء میں شریک (Shrek) نامی کردار بنانا ہے۔ آپ خود ہی دیکھیں اس کا تو رنگ بھی سبز ہے، یعنی یہ مکمل طور پر پاکستانی کردار ہے۔ یہ اتنا مشہور ہوا کہ 10 سال میں اس سلسلے کی پانچ فلمیں بنیں۔ بعد ازاں اقتدار میں آنے پر احتجاج کے بعد سے اب تک ہالی ووڈ نے یہ گستاخی نہیں کی۔ اس سلسلے کی آخری فلم 2011ء میں آئی تھی۔


شیری رحمٰن اور مدر گوتھل

sherry-mother-gothel urdutribe
ہالی ووڈ نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اگلے ہی سال 2010ء میں جب پاکستان کی وزیر اطلاعات کی حیثیت سے شیری رحمٰن ایک نمایاں شخصیت تھیں، اپنی فلم ٹینگلڈ (Tangled) میں مدر گوتھل (Mother Gothel) کا کردار بنا ڈالا۔ اس گستاخی کا ازالہ بعد ازاں شیری کو امریکا میں پاکستان کی سفیر کا عہدہ دے کر کیا۔


شیریں مزاری اور ارسلا

mazari-ursula
نئے پاکستان کی ”گاڈ مدر“ شیریں مزاری کے معاملے میں تو حد ہی ہوگئی۔ ان کے اندر چھپی ہوئی سیاست کی صلاحیتوں کا اندازہ بہت پہلے ہی لگالیا تھا اور ابھی انہوں نے صحافت کی دنیا میں قدم ہی رکھا تھا کہ 1989ء کی فلم دی لٹل مرمیڈ (The Little Mermaid) میں ارسلا (Ursula) کا کردار بنا ڈالا۔ بعد ازاں ”نئے پاکستان“ کے احتجاج کے بعد معاملہ کچھ ٹھنڈا ہوا اور 2007ء سے لے کر اب تک اس سلسلے میں کوئی نئی فلم نہیں بنی ہے۔


شیخ رشید اور پیٹ

rasheed-pete
شیخ رشید پاکستان کی سیاست کے اہم ترین کردار ہیں اور ان کی شہرت 1980ء کی دہائی میں ہی ہالی ووڈ تک جا پہنچی، جب وہ قومی سطح پر مشہور ہونا شروع ہوئے تھے۔ 1983ء میں کارٹون فلم ”مکیز کرسمس کیرول“ (Mickey’s Christmas Carol) میں پیٹ (Pete) کے کردار کو مکمل طور پر شیخ رشید جیسا بنایا گیا اور کسی بھی قسم کے شک و شبہ کو مٹانے کے لیے اسے سگار بھی پکڑا دیا گیا۔


اسفند یار ولی اور کارل فریڈرکسن

asfandyar-fredricksen (1)
2009ء کی مشہور کارٹون فلم ”اپ“ (Up) کا سنکی بڈھا، جس کا نام کارل فریڈرکسن (Carl Fredricksen) حیران کن حد تک ہمارے سیاست دان اسفند یار ولی سے ملتا ہے۔ یہ اس زمانے میں جاری ہوئی جب اسفند یار صوبہ خیبر پختونخوا اور ملک کی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہے تھے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی شہرت سے ”جل“ کر ہالی ووڈ نے ان کا کارٹون بنا ڈالا۔ حد ہے!


رحمٰن ملک اور ”استاد“

malik-simpsons
نشانِ امتیاز کا قومی اعزاز رکھنے والے ”عظیم“ رحمٰن ملک بھلا کس تعارف کے محتاج ہیں۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے موبائل فون سروس بند کرنے کا اچھوتا خیال ان کے ذہن ہی سے نکلا اور آج دنیا بھر میں ”مقبول“ ہے۔ آپ اور ہم تو شاید انہیں 2008ء میں وزیر داخلہ بننے کے بعد سے جانتے ہیں لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ایف آئی اے کے مشہور عہدیدار تھے اور 1993ء میں ڈائریکٹر کے عہدے تک بھی پہنچے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب مشہور زمانہ کارٹون سلسلے ”دی سمپسنز“ (The Simsons) میں ایک استاد کا کردار ان کی شخصیت سے متاثر ہوکر بنایا گیا۔ وہ سلسلے کی پانچ اقساط میں پیش کیے جاتے رہے لیکن 1997ء میں معاملہ ایف آئی اے کے علم میں آ گیا۔ انہوں نے فوری طور پر اس کردار کا خاتمہ کروا دیا۔


فردوس عاشق اعوان اور ”رشتے والی مائی“

firdaus-mulan
پاکستان مسلم لیگ ق کی نشست پر 2002ء میں پہلی بار قومی اسمبلی کی رکن بننے والی فردوس عاشق اعوان کو سیاسی منظرنامے پر ہالی ووڈ نے پہلے ہی دیکھ لیا تھا۔ 1998ء میں اپنی فلم مولان (Mulan) میں انہوں نے فردوس کو رشتے والی مائی کا مختصر لیکن اہم کردار دیا تھا۔ آپ نے مولان دیکھی ہے؟ اس میں جب مرکزی کردار فا مولان کے والدین اسے رشتہ کروانی والی ایک مائی کے پاس بھیجتے ہیں۔ رشتہ تو کیا ہوتا الٹا فا مولان نے اس کا حلیہ بگاڑ دیا۔ ویسے والٹ ڈزنی نے ایک اور گستاخی یہ کی کہ 2004ء میں جب فردوس عاشق اعوان اپنے عروج پر تھیں، مولان کا دوسرا پارٹ جاری کردیا، شکر ہے کہ اس میں ”رشتے والی مائی“ کا کردار نہیں تھا ورنہ چودھری شجاعت حسین کی آواز میں پاکستان ”باضابطہ احتجاج“ ریکارڈ کرواتا۔ پھر دیکھتے ہالی ووڈ یہ ”گستاخی“ کیسے کرتا۔


الطاف حسین اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

altaf-potato
الطاف بھائی کو چند ”بدخواہ“ ٹوائے اسٹوری کے مسٹر پوٹیٹو ہیڈ (Mr. Potato Head) سے ملاتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ الطاف بھائی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد جیسے ہی برطانیہ میں سیٹ ہوئے تو ان کی شہرت عالمی سطح پر پھیلنے لگی۔ اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 1995ء میں ٹوائے اسٹوری میں یہ کردار شامل کیا گیا۔ لیکن ہم اس تاثر کو ٹھیک نہیں سمجھتے کہ الطاف بھائی کی شکل مسٹر پوٹیٹو ہیڈ سے ملتی ہے۔ اب آپ ہی بتائیں کہ بھلا انہیں کسی سے ملانے کی کیا ضرورت؟ وہ تو خود بہت بڑے ۔۔۔۔۔۔ آہممم آہممم آہممم!! معذرت