چاچا عمران!انکل پاشا نے کتنی مدد کی، میرے باپ کی بات کرنے والے بتائیں اکرام اللہ نیازی کیا تھا، بلاول

ڈہرکی(نا مہ نگار/ ایجنسیاں) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم نواز شریف کی پالیسز کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جمہو ریت بچا نے کیلئے شیر کی قر با نی دینا ہوگی،  انہو ں نے کہا کہ چا چا عمران  بتا ئیں ، انکل ہا شا نے کتنی مدد کی، بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ اگر عمران خان  میرے والد کی بات کرتے ہیں تو آپ کو اکرام اللہ نیازی کا بھی تعارف کرانا ہوگا، ذرا لوگوں کو بتائیں استاد حمید گل اورآپ نے شہید بینظیر کے خلاف سازش کر ائی، انہوں نے کہا کہ  پاکستان عالمی طور پر اکیلا ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں مودی کی سازش ناکام بنانا چاہتا ہوں، مودی سازش کررہا ہے لیکن حکومت اور وزیراعظم چپ ہیں،اقوام متحدہ کو بتائیں کہ پنجاب کے کھلے میدان میں دراندازی تو ہو ہی نہیں سکتی،میاں صاحب، مودی کی یاری میں ہمیں نہیں پتہ آپ کو کیا فائدہ ملا، آپ کے اسعمل کے بعد مودی جیسا شخص اسلامی ممالک میں جلسہ بھی کرتا ہے، بلا ول بھٹو نے  کہا  کہ اعتزازاحسن کے بل کے مطابق پاناما پیپرز پر جمہوری احتساب ہونا چاہیے ورنہ جوڈ یشل کمیشن اور حکومت نہیں چل سکے گی ٗنواز شریف نے کبھی بھی کسی اسکینڈل کا جواب قوم کو نہیں دیا ٗ، ٗ سی پیک کی بنیاد میرے والد نے رکھی تھی ٗ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہونے والی اے پی سی کے فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے ، ٗ تخت رائے ونڈ کی بادشاہت قبول نہیں ، ٗ شیخ رشید احمد آپ سے بہتر پارٹی چلا سکتے ہیں ،جمعہ کو صوبہ سندھ کے علاقے ڈہرکی میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم نواز شریف کا جمہوری احتساب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاناما پیپر ز چھوٹا اسکینڈل نہیں ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا اسکینڈل ہے۔ بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ جمہوریت رہنی ہے تو اس کیلئے شیر کی قربانی لازمی ہے، نواز شریف نے پاناما بل پاس نہیں کیا تو سب کو لگ پتہ جائیگا کہ جمہوریت بہترین انتقام کیوں ہے ؟انہوں نے  کہاکہ نواز شریف نے خود کہا تھا کہ احتساب آپ سے شروع ہونا چاہیے اس لیے آپ کو جواب دینا ہوگا، لیکن آپ نے کبھی بھی کسی بھی اسکینڈل پر قوم کو جواب نہیں دیا۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ سستی روٹی، یلو کیب، مہران بیس، ماڈل ٹاؤن سمیت دیگر اسکینڈل ہو یا دنیا کا سب سے بڑا کرپشن اسکینڈل پاناما پیپزز ہوں  آپ نے کبھی بھی جواب نہیں دیا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر اعتزاز احسن کا اسمبلی میں پاناما لیکس پر پیش کیا گیا بل پاس نہ کیا تو میں آپ کو خبردار کررہا ہوں کہ آپ کی حکومت پھر نہیں چل سکے گی۔انھوں نے کہا کہ اب آپ کو حساب دینا ہوگا، پاناما پیپرز پر جمہوری احتساب ہونا چاہیے ورنہ جوڈ یشل کمیشن اور حکومت نہیں چل سکے گی۔وزیر اعظم نواز شریف کی معاشی پالیسیز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ آپ کی پالیسی نے ملک کو تباہ کردیا ہے، حکومت ناکام ہوچکی ہے اور ملک انتشار کا شکار ہے۔انھوں نے کہا کہ نواز شریف کو اپنی ناک کے سواء کچھ نظر نہیں آتا، یہ ملک ہے کاروبار نہیں، یہ عوام ہے بیچنے اور خریدنے کا مال نہیں۔ان کا دعویٰ تھا کہ حکومت کی معاشی پالیسز کی وجہ سے ایک جانب ملک کی عوام غریب سے غریب تر ہوتی جارہی ہے ٗ آپ کی دولت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور صرف ایسا وہ نہیں کہہ رہے بلکہ ان کے چاچا عمران خان کے علاوہ دنیا بھی یہ کہہ رہی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ساتھیوں میں جب معاشی ناہمواری کی بات کرتا ہوں، اس وقت میرے ذہن میں بھٹو کے معاشی نظریات ہوتے ہیں کہ ملک کی تمام عوام کو برابر کے حقوق ملنا چا ہیں ۔انھوں نے پھر دہرایا کہ گوادر پورٹ ان کے والد کے دوران حکومت میں چین کو دیا گیا تھا اور یہ سی پیک کے حوالے سے ایک اہم اقدام تھا انہوں نے  مطالبہ کیا کہ ان کے والد کے دور حکومت میں ہونے والی اے پی سی کے فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے۔حکومت کی جانب سے کچھ صوبوں کے عوام سے تفریق کیے جانے پر چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ملتان میں میڑو بن رہی ہے تاہم راجن پور میں ایک ہسپتال تک نہیں ٗآپ نے کبھی تھر کے بارے میں نہیں سوچا، جو سخت قحط سالی کا شکار ہے۔انھوں نے کہا کہ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ تھر کی عوام کیلئے خزانہ  خرچ کیا جائے گا تاہم آپ نے اس پر ایک ٹکہ بھی خرچ نہیں کیا، آگر آپ ایک علاقے کو دوسروں پر ترجیح دینگے تو اس سے وفاق کمزور ہوگا اور ملک تقسیم ہوجائے گا۔انھوں نے کہا کہ وزیراعظم صاحب اس وقت ملک کو قومی یکجہتی کی سخت ضرورت ہے۔مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایل او سی اور ورکنگ بانڈوری پر آئے روز بھارتی فورسز کی فائرنگ سے پاکستانی شہید ہورہے ہیں ٗ عورتیں اور بچوں  کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیر میں جو ظلم ہورہا ہے اس پر آپ عالمی برادری کی حمایت لینے میں ناکام رہے ہیں جبکہ پاکستان عالمی طور پر اکیلا ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں مودی کی سازش ناکام بنانا چاہتا ہوں، مودی سازش کررہا ہے لیکن حکومت اور وزیراعظم چپ ہیں،اقوام متحدہ کو بتائیں کہ پنجاب کے کھلے میدان میں دراندازی تو ہو ہی نہیں سکتی،میاں صاحب، مودی کی یاری میں ہمیں نہیں پتہ آپ کو کیا فائدہ ملا، آپ کے اس عمل کے بعد مودی جیسا شخص اسلامی ممالک میں جلسہ بھی کرتا ہے۔حیرت ہوتی ہے تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کو تین سال میں ایک بھی وزیر خارجہ نہیں ملا،ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جارہاہے۔بلاول بھٹو زر داری نے کہا کہ کسی مسئلے کا سیاسی حل نکالنے کی فرصت نہیں، ہر ایک اپنی ضد پر اڑا ہوا ہے،ان کو صرف اور صرف اپنے اقتدار کا لالچ ہے،عوام تو ان کے ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تخت رائے ونڈ کی بادشاہت قبول نہیں، ہم ملک میں ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں حکمرانوں کا بھی احتساب ہوسکے، دہشتگردی کے ہر واقعہ کے بعد سب کچھ بھلا کر نئے سانحات کا انتظار کیا جاتا ہے ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشت گرد ہمارے بچوں، بہنوں، مائوں اور بہنوں کو مار رہے ہیں، حکومت کیا کر رہی ہے، صرف فوٹو سیشن، صرف مذمت، ایک بیان پھر خاموشی، چند دن کے بعد بھلا دیا جاتا ہے، نہ کوئی انویسٹی گیشن، نہ قوم کو پتہ چلتا ہے کہ اصل دہشت گرد کون تھے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے سہولت کار اور فنانسر کون تھے، سب بھلا دیا جاتا ہے،دہشت گردی سے لڑنے کی اس حکومت میں نہ اہلیت ہے نہ نیت ہے۔پیپلز پارٹی چیئرمین نے کہاکہ پاکستان میں مسلمان اور غیر مسلم سب ایک ہیں، دیوالی روشنی کی جیت اور اندھیرے کی ہار ہے۔بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ چاچا عمران بہت ہوچکا، عوام نے بہت برداشت کرلیا، آپ میری زبان نہ کھلوائیں، اگر آپ میرے والد کی بات کرتے ہیں تو آپ کو اکرام اللہ نیازی کا بھی تعارف کرانا ہوگا، اگر آپ مائنس ون کا مطالبہ کرینگے تو ہم بھی مائنس ون کا مطالبہ کریں گے، چاچا عمران ذرا لوگوں کو بتائیں کہ انکل پاشا نے آپ کی کتنی مدد کی تھی، ذرا لوگوں کو بتائیں استاد حمید گل اورآپ نے شہید بینظیر کے خلاف سازش کروائی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ ہماری جدو جہد اسلام کے امن کے پیغام کی ہے،ہماری جدوجہد دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنیکی ہے، ہماری جدو جہد غریبوں، بے روزگاروں، عورتوں اور اقلیتوں کیلئے ہے ،میں یہاں آ پ کے ساتھ دیوالی منانا چاہتا تھا دیوالی روشنی کی جیت،اندھیرے کی ہارہے،محبت کی جیت نفرت کی ہار ہے، دیوالی امن کی جیت جرم کی ہار ہے۔ انہوں نے اقلیتی برادری سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ میں مودی کو دکھانا اور بتانا چاہتا تھا کہ پاکستان میں مسلمان اورغیر مسلم ہم سب ایک ہیں،یہ ہم سب کا ملک ہے، ہم جناح کے پیرو کار ہیں، ہم پاکستان ہیں،ہم باب الاسلام کے رہنے والے ہیں، ہم لوگوں کو تقسیم نہیں کرتے،ہم امن چاہتے ہیں، جمہوریت چاہتے ہیں،ہم نسل، زبان اور جنس کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتے، یہ ہے جناح کا پاکستان،بھٹو کا پاکستان ۔اس سے قبل رحیم یار خان میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ پیپلزپارٹی جمہوری احتساب چاہتی ہے لہذا ہم نواز شریف کو بھاگنے کا راستہ نہیں دیں گے اور اپنے 4 مطالبات منوا کررہیں گے لیکن اگر نواز شریف نے ہمارے 4 مطالبات تسلیم نہیں کیے تو پھر انتخابات 2017 میں ہوں گے تاہم مطالبات تسلیم کرلیے جاتے ہیں تو پھر نواز شریف 2018 تک حکومت چلا سکیں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ  پیپلزپارٹی از سر نو منظم اور مضبوط ہورہی ہے، انشاء اللہ آئندہ انتخابات کے بعد چاروں صوبوں میں ہماری حکومت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک کسان، محنت کش، مزدور، ہاری اور خواتین ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے اور بے نظیر کے بیٹے کے ساتھ ہیں تو پیپلز پارٹی کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہراسکتی۔