ایک ایساثبوت سامنےآگیاکہ سپریم کورٹ نوازشریف کوگھربھیج سکتی ہے، انکشاف نےکھلبلی مچادی

اسلام آباد (نیوزڈیسک) نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر قانون دان نے بڑا انکشاف کر دیا۔ تفصیل کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر قانون دان اعتزاز احسن نے کہا کہ وزیر اعظم کا بچنا اب بہت ہی مشکل ہے۔ کوئی معجزہ ہی وزیر اعظم کو بچا سکتا ہے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر قانون دان نے کہا کہ پانامہ کا معاملہ وزیر اعظم کیلئے شدید مشکلات کا باعث بن گیا ہے اور اب ان کا بچ نکلنا بہت مشکل ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ جو ایک ثبوت اب تک سامنے آ چکا ہے صرف اس کو سامنے رکھ لیا جائے تو ایک چیز ثابت ہو جاتی ہے کہ 1993-94 ء میں شریف خاندان نے مے فیئر اپارٹمنٹس خریدے اور یہی ثبوت نواز شریف کو لے ڈوبے گا۔ دوسری چیز ہے کہ ان سالوں میں جب وہ زیرو انکم ٹیکس دے رہے تھے تو یہ اپارٹمنٹس کونسی آمدن سے خریدے گئے؟ اعتزاز احسن نے کہا کہ کیس بالکل صاف، شفاف ہے اور سیدھا سادھا ہے۔ اس سے نواز شریف کو اب کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے ورنہ نواز شریف کا بچ نکلنا بہت مشکل ہے۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ نگار نے اہم انکشاف کر دیا۔ تفصیل کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ نگارنے انکشاف کیا کہ سپریم کورٹ وزیر اعظم نواز شریف کو گھر بھیج سکتی ہے۔ سینئر تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد مسعود نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ اگر نواز شریف استعفیٰ دے دیتے ہیں تو سپریم کورٹ میں مزید کارروائی چلتی رہے گی، اور کیا نواز شریف کو سزا دی جا سکے گی؟ سینئر تجزیہ نگار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ استثنیٰ صدر کو حاصل ہوتا ہے،وزیر اعظم کو نہیں، اسلئے عدالت نواز شریف کو سزا دے سکتی ہے اور انہیں گھر بھیج سکتی ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کو اسی طرح گھر بھیجا جا سکتا ہے جیسے سابق وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کو گھر بھیج دیا گیا تھا۔