عمران خان نے پاک فوج بارے بڑی بات کہہ دی

اسلام آباد  تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں استحکام کیلئے آج فوج کی ضرورت ہے ‘مریم نواز کے زیر کفالت ہونے کا سچ ثابت ہو گیا تو نواز شریف نا اہل ہوجائیں گے‘ ڈان لیکس انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے ‘اس معاملے میں جو ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوا، متنازع خبر کے ذریعے فوج کو براہ راست نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی اور وہی بیان دیا گیا جو بھارتی اور اسرائیلی لابی دیتی ہے‘ میرا خیال ہے کہ اس معاملے میں شاہی خاندان ملوث ہے‘ایسی خبریں جاری کروا کر اپنی کرپشن بچانے والے قوم کے غدار ہیں۔جمعہ کو ایک انٹریومیں عمران خان کا کہناتھاکہ میرا خیال ہے کہ ڈان لیکس میں شاہی فیملی ملوث ہے اگر تحقیقات ہوئیں تو ان کو یہ ڈر ہے کہ بات شاہی خاندان کی طرف جائے گی‘مودی اور نواز شریف میں ذاتی دوستی ہے، مودی پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا چاہتا ہے، صوبوں کو آپس میں لڑانا بھی اسی کا ایجنڈا ہے‘ آج پاکستان کے استحکام کے لیے فوج کی ضرورت ہے ‘ الطاف حسین سے بڑا پاکستان کا کوئی دشمن نہیں وہ پاکستان سے بہت نفرت کرتا ہے‘کس قانون کے تحت مجھے نظر بند کیا گیا، شکر ہے علی امین گنڈا پور پر بھینس چوری کا الزام عائد نہیں کیا گیا‘یہ سب جنرل ضیاء کی ملٹری ڈکٹیٹر شپ کی پیداوار ہیں ان کو جمہوریت کا پتہ ہی نہیں ہے یہ صرف اپنی کرپشن چھپانے کے لیے جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ کرنل شاہد کی فیملی کو حکومت کے خلاف کیس کرنا چاہیے۔عدالت کے حکم کے باوجود حکومت نے کنٹینر لگاکر راستے بند کیے جس سے کرنل شاہد کا حادثہ ہوا ‘اگر دستاویز غلط ہے تو نواز شریف آئی سی آئی جے کے خلاف کیوں نہیں گئے‘ایک دن سچ کھل کر سامنے آئے گا‘شریف فیملی ایک جھوٹ چھپانے کے لیے مزید جھوٹ بولے گی‘اﷲ کی پکڑ ہے انجام ان کا برا ہے مجھے ان پر ترس بھی آتا ہے‘ کراچی سے رینجرز کو واپس بلایا گیا تو اسٹاک ایکسچینج گر جائے گی۔دریں اثناءآن لائن کے مطابق عمران خان نے ماہر قانون ڈاکٹر بابر اعوان سے ملاقات کی ہے جس میں پاناما لیکس اور سکیورٹی لیکس کا جائزہ لیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق عمران خان سے ملاقات میں ڈاکٹر بابر اعوان نے پاناما لیکس اور سکیورٹی لیکس پر قانونی اور آئینی بریفنگ دی اور کہا کہ شریف فیملی کا اعتراف جرم ہی ان کے خلاف سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کے معاملے پر شریف فیملی کے بیانات ریکارڈ پر ہیں عدالتوں پر اعتماد ہے ۔