نواز شریف نے مریم بارے ایسا دعویٰ کر دیا کہ جان کر حیران رہ جائینگے

اسلام آباد (انصار عباسی) اپنی بیٹی اور سیاسی وارث مریم نواز کے متعلق آئی سی آئی جے کی رپورٹ میں کہی جانے والی باتوں کے واضح تردید کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مریم نواز کبھی آف شور کمپنیوں، نیسکول، نیلسن اور کُومبر گروپ، کی مالک (بینیفیشل اونر) تھیں اور نہ ہیں۔ اگرچہ وزیراعظم نواز شریف کے بچوں بشمول مریم نواز سمیت کسی نے بھی پاناما لیکس کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع نہیں کرایا لیکن نواز شریف نے اپنے جواب میں اپنی بیٹی کا دفاع کیا ہے اور ان الزامات کی تردید کی ہے کہ ان کی بیٹی کے پاس آف شور کمپنیوں کی ملکیت ہے۔ آئی سی آئی جے نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ مریم نواز نیسکول اور نیلسن کمپنیوں کی بینیفیشل اونر ہیں۔ رپورٹ میں 12؍ جون 2012ء کی دستاویزات کا حوالہ دیا گیا تھا۔ لیکن وزیراعظم نواز شریف نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا۔ اگر شریف خاندان کی جانب سے عدالت میں اس بات کو ثابت کر دیا گیا تو آئی سی آئی جے کی پاناما لیکس کے متعلق رپورٹس پر سنگین سوالات اٹھنا شروع ہوجائیں گے۔ وزیراعظم کے صاحبزادے، حسین نواز نے کچھ ماہ قبل اپنے انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ مریم نواز ان کی ملکیتی آف شور کمپنیوں کی ٹرسٹی ہیں۔ لیکن پاناما پیپرز میں بتایا گیا تھا کہ مریم نواز ’’بینیفیشل اونر‘‘ ہیں۔ جمعرات کو اپنے وکیل کے توسط سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں وزیراعظم نواز شریف (مدعا علیہ) نے پیرا نمبر 13؍ میں کہا ہے کہ میری معلومات کے مطابق مدعا علیہ نمبر 6 (مریم نواز شریف) نیسکول، نیلسن اور کومبر نامی کسی کمپنی کی بینیفیشل اونر تھیں اور نہ ہیں، جن کا تذکرہ اس کے فوراً بعد کے پیراگراف میں کیا گیا ہے۔ عمران خان نے اپنی پٹیشن کے پیرا نمبر 13؍ میں کہا تھا کہ آف شور کمپنیاں برٹش ورجن آئی لینڈ میں قائم کی گئی تھیں۔ نیسکول لمیٹڈ 1992ء میں جبکہ نیلسن انٹرپرائزز لمیٹڈ 1994ء میں قائم کی گئی تھیں؛ ان کی بینیفیشل اونر مس مریم نواز شریف (مدعا علیہ کی صاحبزادی) تھیں جن کی عمر اس وقت 20؍ سال تھی۔ نیلسن انٹرپرائزز کیلئے جو پتہ درج کرایا گیا وہ سرور پیلیس، جدہ، سعودی عرب کا ہے۔ مبادلے کے طور پر لندن کی جائیدادوں پر قرضہ لیا گیا اور شریف خاندان کیخلاف فیصلہ آنے پر مے فیئر کی پراپرٹی قرق کی گئی۔ 2006ء میں مس مریم صفدر نیسکول کی واحد شیئرہولڈر بن گئیں جبکہ برٹش ورجن آئی لینڈ میں قائم ایک اور کمپنی کُومبر گروپ کی شریک مالک بن گئیں۔ منی لانڈرنگ، رقوم کی منتقلی، کمیشن وغیرہ کے حوالے سے تفصیلات ریمنڈ بیکر کی کتاب ’’کیپیٹل ازم ایکلیس ہیل (ڈرٹی منی اینڈ ہائو ٹو ری نیو دی فری مارکیٹ سسٹم)‘‘ میں نمایاں طور پر واضح کی گئی ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے پیرا نمبر 13؍ کے جواب میں لکھا ہے کہ اس پیرا کے مندرجات کی سختی سے تردید کی جاتی ہے کیونکہ یہ حقائق اور قوانین کے منافی ہیں۔ اس بات کی تردید کی جاتی ہے کہ مدعا علیہ کے خاندان کا رکن نیسکول لمیٹڈ اور نیلسن انٹرپرائزز کا بالترتیب 1992ء اور 1994ء میں ان کے قیام کے موقع پر بینیفیشل اونر رہا ہے۔ اس بات کی بھی تردید کی جاتی ہے کہ مدعا علیہ کیخلاف کوئی عدالتی فیصلہ سنایا گیا تھا اور اس بات کی بھی تردید کی جاتی ہے کہ مدعا علیہ نے جائیدادوں کے عوض قرضے لیے تھے۔ درخواست گزار کی جانب سے جس فیصلے پر انحصار کیا جا رہا ہے اس میں مدعا علیہ فریق نہیں ہیں اور بصورت دیگر بھی دیکھا جائے تو اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ جائیدادیں مدعا علیہ کی ملکیت تھیں۔ مزید برآں، مدعا علیہ کی معلومات کے مطابق، مدعا علیہ نمبر 6؍ اس پیرا کے فوراً بعد آنے والے پیرا میں بتائی گئی کمپنیوں کی کبھی بینیفیشل اونر رہی ہیں اور نہ وہ ان کمپنیوں کی بینیفیشل اونر ہیں۔ اسی پیرا میں وزیراعظم نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ 1999ء میں لندن ہائی کورٹ کی جانب سے شریف خاندان کیخلاف لندن کی جائیدادوں کے متعلق سنائے گئے فیصلے میں وہ فریق نہیں تھے۔

Facebook Comments