حسن، حسین، مریم کو آخری مہلت مل گئی

اسلام آباد (نمائندہ  جنگ/جنگ نیوز)سپریم کورٹ نے ʼپاناما پیپرز لیکس ʼ کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت دائر کی گئی درخواستوں کو باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرلیا، وزیر اعظم کے صاحبزادے حسن نواز،حسین نواز اور صاحبزادی مریم صفدر کو پیر تک اپنے اپنے جوابات داخل کرانے کیلئے آخری مہلت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پیر کو جواب نہ آیا تو کوئی التوا نہیں ملے گا، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ بروقت جواب نہ آیا تو سمجھا جائے گا الزامات تسلیم کرلئے گئے،اصل جواب بچوں کا ہوگا انکا آف شور کمپنیوں پر کیا موقف ہے۔عدالت عظمیٰ میں تین درخواست گزاروں نے اپنے ٹی او آرز جمع کرا دئیےجبکہ دو کو کیس سے خارج کر دیا گیا۔کسی نے اعتراض نہیں کیا،د رخو استیں قابل سماعت قرار، عدالت کا کہنا تھا کہ آپ ہمارا وقت ضائع کررہے ہیں، لکھ کردیں مریم صفدر وزیر اعظم کی زیر کفالت نہیں، دوسری جانب مسئول علیہ وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے درخواستوں میں لگائے گئے الزامات کا جواب داخل کرا دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اس معاملہ میں براہ راست فریق نہیں ہیں،بیرون ملک کوئی فلیٹ ہے نہ ہی وہ کسی آف شور کمپنی کے مالک ہیں ،پاناما پیپرز لیکس میں کہیں بھی ان کا نام نہیں آیا،میں نے قانون کے مطابق باقاعدہ  انکم اور ویلتھ ٹیکس ادا کرتا ہوں، انکم ٹیکس اور اس پر عائد ہونے والی ڈیوٹی بھی جمع کروائی ہے ، جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ انہوں نے عام انتخابات2013سے قبل الیکشن کمیشن میں اپنے تمام اثاثے ظاہر کیئے تھے ،اس وقت تینوں بچوں حسن نواز ، حسین نواز اور مریم صفدر میں سے کوئی بھی ان کے زیر کفالت نہیں،آئین کے آرٹیکل 62،63کے تحت سب کچھ ظاہر کیا ہے ۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے واضح کیا ہے کہ عدالت اس معاملے کو جلد از جلد نمٹانا چاہتی ہے ، ہم نہیں چاہتے کہ کیس لٹکنے سے میڈیا کو مزید قیاس آرائیوں کا موقع ملے ،ہم اس مقدمہ کو ترجیحی بنیادوں پر چلانا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میںجسٹس آصف سعید خان کھوسہ ،جسٹس امیر ہانی مسلم،جسٹس شیخ عظمت سعیداور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے جمعرات کے روز وزیر اعظم نواز شریف، ان کے صاحبز اد ے حسن نواز ،حسین نواز ،صاحبزادی مریم نواز ، داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار سمیت ملک کی259   حکومتی و غیر حکومتی،سیاسی و غیر سیاسی اور معروف کاروباری شخصیات کیخلاف پاناما لیکس سکینڈل کی تحقیقات کرانے کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان،جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق ،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد ،طارق اسدایڈووکیٹ ،کوکب اقبال ایڈووکیٹ اور اسد کھرل کی آئینی درخواستوں کی سماعت کی تو چیف جسٹس نے وزیر اعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے جواب داخل کردادئیے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ انہوںنے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے جامع جواب داخل کرایئے ہیں، وزیر اعظم نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ وہ اس معاملہ میں براہ راست فریق نہیں ہیں ،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کسی اور مسئول علیہ نے بھی جواب داخل کرایا ہے ، ہمارے سامنے تو صرف ایف آئی اے ، ایف بی آر اور نیب کے ہی جوابات ہی موجود ہیں ،جس پر سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ انہوںنے آج ہی وزیر اعظم کی جانب سے جواب جمع کرایا ہے ،جسٹس امیر ہانی مسلم نے ان سے استفسار کیا کہ آپ نے تو درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا ہے ، جس پر فاضل وکیل نے کہا کہ ہم تو ایسا ہی سمجھتے ہیں لیکن عدالت کی مرضی ہے ،انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف لندن میں بتائی جانے والی 5جائیدادوں میں سے کسی ایک کےبھی مالک نہیں ہیں ،نہ ہی وہ کسی آف شور کمپنی کے مالک ہیں ،پاناما پیپرز لیکس میںکہیں بھی ان کا نام نہیں آیا ،وہ باقاعدگی سے اپنا ویلتھ ٹیکس ادا کرتے ہیں، ان کے ٹیکس ریٹرن میں سب کچھ درج ہے ، انہوںنے عام انتخابات 2013میں الیکشن کمیشن میںجمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی میںاپنے اور اپنی اہلیہ کی جائیدادوں اور دیگر اثاثوں کے حوالے سے مکمل تفصیلات دے رکھی ہیں ، جوکہ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کا حصہ ہے ،انہوں نے آئین کے آرٹیکل 62اور63کے عین مطابق اپنے اثاثوں کی تفصیلات عام کررکھی ہیں۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے ان سے استفسار کیا کہ کیا وہ درخواستوں میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہیں تو فاضل وکیل نے کہا کہ جی ہاں یہ بے بنیاد الزامات ہیں ،عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ وزیراعظم کی ایک بیٹی مریم بھی ان کے زیر کفالت ہے ،کیا اس کا بھی کاغذات نامزدگی میں کوئی ذکر ہے ؟تو فاضل وکیل نے کہا کہ ان کی کوئی اولاد بھی ان کے زیر کفالت نہیں ،جسٹس شیخ عظمت سعید نے ان سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے دیگر مسئول علیہان حسن نواز ،حسین نواز اور مریم کی جانب سے بھی جوابات داخل کئے ہیں تو انہوںنے کہا کہ حسن نواز اورحسین نواز بیرون ملک ہیں ،مجھے ان سے اس معاملے پر ہدایات لینی ہیں اس لئے سات روز کی مہلت دی جائے ،میں مریم اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی جانب سے بھی جوابات داخل کروائوں گا ،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ یعنی جو اصل جوابات آنے تھے وہ آپ نے آج بھی نہیںدیئے ،آپ نے پچھلے دو دنوں میں دی گئی مہلت کے دوران پاکستان میں موجود مسئول علیہان کی جانب سے جوابات کیوں داخل نہیں کئے ہیں؟ تو انہوںنے کہا کہ دراصل میں ان سب کی جانب سے مشترکہ جواب داخل کرانا چاہتا ہوں ،جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ جو یہاں موجود ہیں ان کے جوابات تو  جمع کرائیں، انہوں نے پوچھا کیا کہ کسی سٹیج پر وزیر اعظم کی بیٹی مریم صفدر ان کے زیر کفالت رہی ہیں؟جس پر فاضل وکیل نے کہا کہ جن تاریخوں کی یہاں بات ہو رہی ہے ان تاریخوں میں نہیں تھیں۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ کیا مریم صفدر ان الزامات کو قبول کرتی ہیں تو سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ ہمیں جواب داخل کرانے کے لئے کل 24گھنٹے دیئے گئے تھے ،اس حوالےسے ہدایات لینے کیلئے مزید مہلت دی جائے ، انہوںنے مزید کہا کہ ہمارا خیال تھا کہ عدالت پہلے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے معاملہ کی سماعت کرے گی ،مجھے جواب داخل کرانے کیلئے 7یوم کی مہلت دی جائے ، جس پر فاضل عدالت نے ان کی استدعا جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پیر تک مہلت دی جاتی ہے ،اس سے زیادہ مہلت نہیں دی جاسکتی ہے ، فاضل عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ کیا انہیں ان درخواستوں کے آئین کے آرٹیکل 184(3)کے زمرےمیں ہونے پر کوئی اعتراض تو نہیں ہے ؟انہوںنے کہا کہ کوئی اعتراض نہیں ، جس پر فاضل عدالت نے اپنے حکم میںلکھا کہ آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت شروع کی گئی عدالت کی اس کارروائی پر کسی بھی فریق کو اعتراض نہیں ہے یہ معاملہ عوامی اہمیت کا حامل اور شہریوں کے بنیاد ی حقوق سے متعلق ہے،سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے ان درخواستوں پر اعتراضات لگائے تھے جن کی ان چیمبر سماعت کے بعد عدالت نے ان اعتراضات کو ختم کرنے کے بعد مقدمہ کی کھلی عدالت میں سماعت کا حکم دیا تھا جس کے بعد کسی فریق نے بھی عدالت کے دائرہ کار کے حوالے سے کوئی اعتراض نہیںاٹھایا ،اس لئے ان درخواستوں کو باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کیا جاتا ہے ، دوران سماعت عدالت نے ایک درخواست گزار اسد کھرل کی فریق بننے جبکہ ایک اور درخواست گزار کوکب اقبال کی جانب سے کیس کی قومی زبان اردو میں ہی سماعت کرنے سے متعلق درخواستیں خار ج کردیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ جو فریق جس زبان (اردو یا انگلش)میںبات کرنا چاہے کرسکتا ہے ،ہم پابند نہیں کریں گے ،انہوںنے کہا کہ اگر کیس کی سماعت کو آگے برھانے کیلئے کسی فریق کے پاس کوئی تجاویز ہیں تو عدالت ان کا خیر مقدم کرے گی ۔

Facebook Comments