کپتان کی دھرنا ختم کرنے اصل وجہ سامنے آگئی

اسلام آباد: پی ٹی آئی چیرمین عمران خان نے متفرق وجوہات کی بنا پر دھرنا منسوخ کیا جس میں سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ وہ اسلام آباد معقول تعداد میں مظاہرین جمع نہ کرسکے۔ اب اگر وہ اپنے وعدہ کا پاس رکھتے ہوئے واقعی بدھ کو پریڈ گراؤنڈ میں یوم تشکر کی ریلی نکالتے ہیں اور حالات خراب نہیں کرتے تو وہ مبارک باد کے مستحق ہوں گے۔ ویسے انکی شہرت یہ رہی ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں کا احترام نہیں کرتے لیکن اس بار انہوں نے سپریم کورٹ اور اسلام آباد و لاہور ہائی کورٹس کے فیصلوں کی بنیاد پر اپنا فیصلہ تبدیل کیا۔ اب بدھ کو واضح ہوگا کہ وہ کتنا احترام کرتے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ عمران احترام کرتے ہیں یا نہیں لوگوں کی بڑی تعداد نے حالات بہتر ہونے پر سکھ کا سانس لیا ہے، جو گرفتاریوں، شیلنگ، سڑکوں کی بندش کی وجہ سے خراب تھے۔ ویسے تو عمران کا ریکارڈ یہ رہا ہے کہ وہ اپنے وعدوں سے مکر جاتے ہیں۔ لیکن اس بار انہیں ایسا اخلاص کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور تنقید کرنے والوں اور ایجنڈے پر کام کرنے والے اینکرز وغیرہ کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے، جن کی خواہش ہے کہ حالات بدستور خراب رہیں، جس کا نتیجہ باالآخر نواز حکومت کی برطرفی کی صورت نکلے۔ 2014 میں بھی انہوں نے چوہدری نثار سے ریڈ ذون نہ جانے کا وعدہ کیا تھا۔ اس بار بھی عمران خان کے منصوبے کی متعدد وجوہات ہیں۔ اول، جب ان کا کارکن پولیس کا سامنا کررہا تھا وہ بنی گالا میں بیٹھے رہے اور وہ ٹی وی پر باتیں کرتے رہے، حالانکہ انہیں کارکنوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ان کے درمیان ہونا چاہیے تھا۔ دوم، پنجاب نے عمران کو اس آر یا پار دھرنے میں بالکل مایوس کیا۔ حالانکہ 2011 سے ان کی 95 فیصد توجہ پنجاب پر رہی۔ لیکن پنجاب کی عدم شرکت سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ وہاں عمران ہار چکے ہیں۔ ان کی ساری امیدیں خاک میں مل گئیں۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کارکنوں کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے تھے، لیکن کسی مجمع نے ویسے ہی اسلام آباد پہنچنے کی کوشش بھی نہ کی۔ سوم، پنجاب میں پی ٹی آئی کے سارے رہنما تو صوبے میں ہونے اور کارکنوں کو نکالنے کی بجائے بنی گالا میں بیٹھے رہے۔ سوائے وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا کے عمران سمیت کسی بھی پی ٹی آئی رہنما نے سختی کا سامنا کرنے کی جرات نہ دکھائی۔ تاہم پرویز خٹک نے جو باتیں کیں وہ غیر قانونی اور غیر آئینی تھیں۔ یہ سب انہوں نے پی ٹی آئی چیرمین کی احمقانہ سیاست کیلئے کیا۔ شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، علیم خان و دیگر بڑے نام بھی بنی گالا میں بیٹھے رہے۔ باقی نے بھی کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے بنی گالا جانے کی کوشش کی۔ یہ غیر سیاسی روش تھی۔ پنجاب سے مایوسی کے بعد عمران خان کی آخری امید خیبر پختون خوا تھا۔ یہ کوشش بھی سرکاری مشینری نے سخت اقدامات سے ناکام بنادی۔ جلوس اسلام آباد نہ پہنچنے پر عمران فیصلہ بدلنے پر مجبور ہوگئے۔ درحقیقت وہ تبھی لاک ڈاؤن ختم کرنے کا فیصلہ کرچکے تھے جب انہوں نے پرویز خٹک کو صوابی جانے کو کہا۔ چہارم، لوگ جمع نہ کرسکنے سے پورے پاکستان میں پی ٹی آئی کا کمزور تنظیمی ڈھانچہ بے نقاب ہوگیا۔ 2013 میں دوسرے نمبر پر آنے والی پارٹی اسلام آباد میں چند ہزار لوگ بھی جمع نہ کرسکی۔ عمران کا لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ تباہی و بربادی تھا اور دنیا کی کوئی حکومت بھی اس غیر قانونی اقدام کی اجازت نہ دیتی، ورنہ تو ریاست ہی ختم ہوجائے۔ پنجم، سندھ اور بلوچستان نے لاک ڈاؤن پر صفر ردعمل دیا۔ کسی لیڈر نے لوگ لانے کا اعلان تک نہ کیا۔ ششم، دس لاکھ لوگوں کا عمران کا ہدف کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے بہت بڑا تھا۔ بنی گالا کے آس پاس موجود لوگوں کی تعداد بھی چند سو ہوگی۔ ہفتم، یہ واضح ہوگیا کہ اسلام آباد، راولپنڈی اور ٹیکسلا ،جہاں پی ٹی آئی نمائندوں کو 2013 میں کافی ووٹ ملے تھے، وہاں کے عوام نے بھی لاک ڈاؤن پر کوئی توجہ نہ دی۔ اگر وہ لوگ توجہ دیتے، تو وہاں سے چند ہزار لوگوں کا نکلنا مشکل نہ تھا۔ ہشتم، لاک ڈاؤن کا سارا شور بنی گالا میں اور خیبرپختون خوا تک محدود رہا، باقی پاکستان میں کاروبار زندگی معمول کے مطابق رہا۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں کی خبریں آتی رہیں۔