پاناما لیکس : فریق کو مؤقف پیش کرنے کا موقع دینگے،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ پانامامعاملے پرکمیشن نہیں بنائیں گے ،اس کا فیصلہ خود کریں گے، ہائی پروفائل کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی ،ہر فریق کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی درخواستوں پرچیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم5رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے فریقین کوا پنے جواب جمع کرانے کی ہدایت دی اور کہا کہ ہر فریق کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیں گے ،اس حوالے سے کوتاہی برداشت نہیں کریں گے۔جسٹس کھوسہ نے کہا کہ عدالت اور سڑکوں پر ایک ہی سوال کہ جائیداد آمدن سے زائد بنائی گئی۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دئیے کہ پیسہ باہرجائے تو معاملہ نیب کے اختیار میں آتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ذرائع آمدن سے زیادہ پیسہ ہو تو نیب تحقیقات کر سکتا ہے،اس نے اب تک کارروائی نہیں کی،چیف جسٹس نے نیب سے سوال کیا کہ کیا پاناما لیکس پر آج تک کوئی تفتیش کی ہے؟اس موقع پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ 2ہفتے سے اس کیس میں سنسنی پھیلائی جارہی ہے،ہائی پروفائل کیس ہے، عوام کی نظریں اس پر ہیں،تحریک انصاف کو ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہیے۔ قبل ازیں پاناما کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار طارق اسد کے سپریم کورٹ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک نظریاتی بنیاد پر بنا ،حکمران اس سے مخلص نہیں ہیں۔

Facebook Comments