2 نومبرکو جلسہ ،ہائی کورٹ سے پی ٹی آئی بارے اہم فیصلہ آ گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2 نومبر کوضلعی انتظامیہ اور تحریک انصاف دونوں کو شہربند کرنے سے روک دیا ، عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف کو اسلام آباد بند کرنے کے بیانات پر31 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہو کر وضاحت دینے کا حکم دیا ہے ، جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ ملک میں صرف عدالتیں ہی امپائر ہیں۔
عدالت نے کہا کہ کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے، ملک میں آن فیلڈ اورتھرڈ ایمپائر صرف عدالتیں ہیں،عمران خان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہےکہ 2نومبرکا دھرنا محض احتجاج نہیں،عمران خان حکومتی مشینری کو مفلوج کرنا چاہتے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیزصدیقی کمرہ عدالت میں تقاریر کی ویڈیوز دیکھ کر چیئرمین پی ٹی آئی پر برس پڑے، ریمارکس دیے کہ عمران خان برابری کی بات کرتے ہیں تو خود قانون سے بالاتر کیسے ہوئے؟عدالت میں پیش ہو کروضاحت کریں کہ اسلام آباد بند کرنے کا بیان کس طرح دیا؟عدالت نے ریمارکس دیئے کہ شہر میں کوئی کنٹینر نہیں لگے گا،کوئی سڑک بند نہیں ہوگی،کوئی امتحان ری شیڈول نہیں ہوگا،اسکول کھلے رہیں گے۔
4 شہریوں کی جانب سے پی ٹی آئی کا 2 نومبر کا دھرنا رکوانے کی درخواستوں پر سماعت کے دوران سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر، آئی جی اسلام آباد اور ڈی جی مانیٹرنگ پیمرا عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے اپنے حکم نامے میں لکھا کہ عمران خان کی موجودگی میں ان کے بیانات چلا کران سے وضاحت مانگی جائے گی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں رگبی کے اصول نہ لگائیں، عدالت نے ضلعی مجسٹریٹ کو دھرنے کےلیے ڈیموکریسی پارک اور سپیچ کارنر کے نام سے جگہ مختص کرکے پی ٹی آئی کو آگاہ کرنے کاحکم دیااور کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور سی ڈی اے دھرنے کے شرکاء کو سہولیات فراہم کرنے کے انتظامات بھی کریں۔