ریلوے میں اربوں روپے کی کرپشن کا ریکارڈ ٹوٹ گیا

اسلام آباد: ریلویز کی 48 ارب 76 کروڑ 11 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی قیمتی اراضی پرتجاوزات کا انکشاف ہوا ہے جسے ریلویز واگزار کرانے میں ناکام رہی، ریلویز کے75  ڈی ای لوکو موٹوکے پروجیکٹ پر 3ارب 49 کروڑ 72 لاکھ روپے سے زائد اخراجات کئے گئے تاہم پراجیکٹ میں کوئی مثبت کارکردگی نظر نہیں آئی۔پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ایکنک سے منظوری نہ ہونے کے باعث ایک تہائی فیصد منصوبہ پرکام کیا جاسکا، ریلویز نے ذیلی ادارہ پراکس کیساتھ جوائنٹ ونچر کے تحت ہزارہ ایکسپریس اور روہی ایکسپریس ٹرینیں چلانے کا معاہدہ کیا تھا تاہم ریلویز انتظامیہ ابھی تک پراکس سے 80 کروڑ 75 لاکھ روپے سے زائد کے شیئرز وصول کرنے میں ناکام رہا۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے جاری آڈٹ رپورٹ مالی سال 2015-16 میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈیرہ غازی خان سب ڈویژن میں ریلویز کی 4 ارب 14 کروڑ 78 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی قیمتی اراضی کا ٹائٹل ریلویز کے نام نہیں کیاگیا۔آڈٹ رپورٹ میں مذکورہ اراضی پر اٹھارہ ارب روپے وصولی کی سفارش کی گئی، ریلویز آفیسرز کلب سے حاصل ہونیوالی آمدن پرائیویٹ اکاؤنٹس میں جمع کرائی گئی جس سے ریلویز کو 3 کروڑ 79 لاکھ روپے کا نقصان ہوا، ریلویز انتظامیہ نے بغیر کسی پی سی ون کے 6 کروڑروپے سے مختلف اثاثوں کی خریداریاں کیں۔ ریلویز اسکریپ کو فروخت نہ کرنے پر ریلویز کو 18 کروڑ 77 لاکھ سے زائد کا نقصان پہنچا۔زیادہ قیمتوں پر اشیاء خریداری کرنے پر ریلویز کو 6 کروڑ 70 لاکھ کا نقصان پہنچا، آڈٹ رپورٹ میں ریلویزمیں 13 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے چوری کے 9 کیسز کی نشاندہی کی گئی، 4 کیسوں میں2 کروڑ 46 لاکھ روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی، 4کیسوں میں ریلویز کے 4کروڑ 89 لاکھ روپے کے رولنگ اسٹاک کے جلائے جانے کی نشاندہی کی گئی، ریلویز منیجمنٹ کی نااہلی کیوجہ سے 3 کروڑ79  لاکھ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔