سی پیک پر بڑھتے خطرات، امید ہے پاکستان ضروری اقدامات کریگا، چین

بیجنگ چین نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور دونوں ملک اس بات پر بھی متفق ہیں کہ اس پروجیکٹ کے ذریعے تجارت کے ساتھ لوگوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنایا جائے گا اور ساتھ ہی علاقائی رابطوں کو بھی وسعت دی جائے گی۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوآنگ نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ اس پروجیکٹ کو پاکستان اور چین کی حمایت حاصل ہے، چین ان تمام کوششوں کو سراہتا ہے جو پاکستان نے اس پروجیکٹ کی سیکورٹی پر خرچ کی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پروجیکٹ پر کام کرنے والے چینی شہریوں کی حفاظت کیلئے پاکستان بڑھتے خطرات کے پیش نظر مزید اقدامات کرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے چین دونوں ملکوں کے ساتھ مختلف ذرائع سے رابطے میں ہے، ہم نے ہمیشہ اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ملک اپنے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنائیں، تعاون کو فروغ دیں اور ترقی کریں، ہمیں امید ہے کہ دونوں ملک اپنے مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں گے تاکہ علاقائی امن اور سلامتی برقرار رہ سکے۔ انہوں نے سارک اجلاس کے حوالے سے کہا کہ چین سارک میں مبصر ملک کا درجہ رکھتا ہے اور توقع ہے کہ یہ فورم علاقائی سلامتی، امن اور ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چین کے نائب وزیر خارجہ لیو ژیمن نے کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے خصوصی ایلچیوں، بختیار اور لالیکا، سے ملاقات کی اور ان سے کشمیر کی صورتحال اور پاکستان کے موقف پر بات کی اور اس ضرورت پر زور دیا کہ چین کشمیر پر پاکستان کے موقف کو سنجیدہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر تاریخ کا وہ مسئلہ ہے جسے متعلقہ فریقوں نے مذاکرات و مشاورت کے ذریعے حل کرنا ہے۔ چین کو امید ہے کہ پاکستان اور بھارت مذاکرات کیلئے اپنے چینلز کو مضبوط کرتے ہوئے اختلافات کو مناسب انداز سے ختم کریں گے اور باہمی تعلقات کو بہتر کرکے علاقائی امن اور سلامتی کو بہتر بنائیں گے۔