بھارت کی طرف سے دیئے گئے شواہد پر تحقیقات کرینگے،ا عزاز چوہدری

کراچی : سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کشمیریوں کی آواز سننا ہوگی،بھارت نہایت جارحانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، بھارت نے اُڑی حملے کے چند گھنٹے بعد ہی پاکستان پر الزام تراشی شروع کردی تھی، بھارت نے اُڑی حملے کا ابھی تک کوئی ثبوت نہیں دیا ہے، اُڑی حملے پر ساری باتیں صرف دعوے ہیں ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے، اُڑی حملے پر بھارتی الزام تراشیاں کشمیر سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، بھارت کشمیر سے توجہ ہٹا کر ساری بحث اُڑی حملے پر مرکوز کرنا چاہتا ہے، بھارت اس کوشش میں پاکستان دشمنی پر اتر آیا ہے جو اسے زیب نہیں دیتا۔ اعزاز چوہدری نے کہا کہ بھارت کے کشمیر میں اپنے مظالم سے توجہ ہٹانے کیلئے اقدامات سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی، بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کشمیر یو ں کی آواز سننا ہوگی، کشمیر میں ایک بار پھر مقامی طور پرآزادی کی لہر اٹھی ہے ،اس دفعہ آزادی کی یہ جدوجہد نوجوانوں نے شروع کی ہے، بھارت کشمیر یوں کی تحریک آزادی سے گھبرا کر پاکستان پر الزام تراشی کررہا ہے۔ سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ بھارت کے فراہم کیے گئے شواہد پر آنکھ بند کر کے یقین نہیں کرسکتے، بھارت کی طرف سے دیئے گئے شواہد پر تحقیقات کریں گے، پاکستان پر الزام تراشی بھارت کا پرانا طریقہ ہے، بھارت میں کوئی بھی واقعہ ہو اس کا الزام فوراً پاکستان پر لگادیا جاتا ہے اور جب حقیقت سامنے آئے تو کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے، بھارت اُڑی واقعہ کو زندہ رکھنا چاہتا ہے تاکہ مسئلہ کشمیر دنیا کی نگاہوں سے اوجھل رہے، دنیا کشمیر میں بھارت کا بڑھتا ہوا ظلم دیکھ رہی ہے۔ اعزاز چوہدری نے کہا کہ بھارت کا عالمی سطح پر پاکستان کے تنہا ہونے کا استدلال ختم ہوچکا ہے ،بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی، خطے میں پاکستان نہیں ہندوستان تنہا ہے، نیویارک میں دنیا کے بڑے بڑے رہنما وزیراعظم پاکستان سے خود آکر ملے، وزیراعظم نواز شریف نے تمام رہنماؤں کے سامنے کشمیریوں کا موقف واضح انداز میں پیش کیا،بہت سے ممالک پاکستان کے ساتھ تجارت کرنا چاہتے ہیں، دنیا کی دلچسپی سی پیک منصوبے میں بڑھتی جارہی ہے، خطے کے بہت سے ممالک ہمارے ساتھ سی پیک منصوبے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارت نے سارک کانفرنس میں شرکت نہ کرنے سے متعلق سرکاری طور پر ابھی آگاہ نہیں کیا ہے، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کیلئے سارک کے فورم کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے، بھارت سارک کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کیلئے باقی ممالک پر بھی دباؤ ڈالے گا ،بھارت خطے کے تمام ممالک میں مداخلت کررہا ہے، سارک تنظیم کا استعمال کر کے علاقے میں کشیدگی کم کی جائے، پاکستان امن کی راہ پر چلنے کیلئے ہر دم تیار رہتا ہے۔ شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں کہا کہ پاکستان میں وطن کا نام اونچا کرنے والے کھلاڑیوں کو رخصت کرنے کی کوئی اچھی روایت نہیں ہے، شاہد آفریدی کے معاملہ میں یہ روایت ایک مرتبہ پھر دہرائی جاتی نظر آرہی ہے۔سابق ٹیسٹ کرکٹر سکندر بخت نے کہا کہ ون ڈے سیریز میں ویسٹ انڈیز کیخلاف کلین سوئپ کرنے سے پا کستان کی رینکنگ بہتر ہوسکتی ہے، پاکستان کو آج کے میچ میں محمد رضوان اور سعد نسیم کو موقع دینا چاہئے تھا، ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں تین چار اہم کھلاڑی شامل نہیں ہے جس کی وجہ سے انہیں مشکل ہورہی ہے، رومان رئیس کو آئندہ بھی موقع دینے کی ضرورت ہے۔سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا کہ شاہد آفریدی کو الوادعی میچ کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے، شاہد آفریدی ایک بڑا کھلاڑی اور پاکستان کا ہیرو ہے، پی سی بی شاہد آفریدی کو اگر الوادعی میچ نہیں دے رہا تو ان کا اپنا بھی موقف ہوگا۔سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے کہا کہ شاہد آفریدی نے پاکستان کو بہت سے میچ جتوائے ہیں، شاہد آفریدی کو بالکل الوادعی میچ کھلانا چاہئے، شاہد آفریدی کو موجودہ حالات تک نہیں پہنچنا چاہئے تھا، شاہد آفریدی کو ورلڈکپ کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کردینا چاہئے تھا۔  سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف نے کہا کہ شاہد آفریدی کو ضر ور ی نہیں میچ کھلا کر الوادع کیا جائے، شاہد آفریدی کی خدمات کے اعتراف کیلئے دیگر بھی کئی طریقے ہیں، پی سی بی اگر شاہد آفریدی کو اچھے طریقے سے الوادع کہنا چاہتا ہے تو انہیں بھی مان لینا چاہئے۔سینئر تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ ایم کیو ایم لندن کی توجہ متحدہ کے کارکنوں پر مرکوز ہے، ایم کیو ایم پاکستان کیلئے یہ صورتحال پریشان کن نہیں ہے کیونکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان مہاجر شناخت کے بنیادی نکتے سے پیچھے نہیں ہٹی ہے، کچھ لوگ ایم کیو ایم پاکستان اور لندن کے درمیان صلح کی کوشش کررہے ہیں ، صلح کی یہ کوششیں اس وقت تک بارآور نہیں ہوں گی جب تک الطاف حسین اپنے مستقبل کا کوئی فیصلہ نہیں کرلیتے۔میزبان شاہزیب خانزادہ نےتجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُڑی حملے کے بعد بھارت سے مسلسل بڑی خبریں سامنے آرہی ہیں، بھارت نے پہلی بار اُڑی حملے کے مبینہ شواہد پاکستان کے حوالے کردیئے ہیں لیکن یہ شواہد اس حساب سے نہیں جس کا پراپیگنڈہ بھارتی میڈیا اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کا ایک حصہ کررہا تھا، دوسری طرف بھارت نے نومبر میں پاکستان میں ہونے والی سارک کانفرنس میں بھی شرکت سے انکار کردیا ہے، بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اُڑی حملہ کرنے والوں ، انہیں سرحد پار کروانے والوں اورا ن کے سہولت کاروں کی شناخت ہوگئی ہے، اس حوالے سے شواہد پاکستانی ہائی کمشنر کو دیدیئے گئے ہیں، وکاس سوراپ کا کہنا ہے حملہ آوروں کو سرحد پار کرنے والے دو گائیڈز کو پکڑلیا گیا ہے جبکہ دیگر دو گائیڈز کی شناخت ہوگئی ہے، ان چاروں گائیڈز کا تعلق آزاد کشمیر کے علاقے مظفر آباد سے ہے جبکہ اُڑی حملے میں مارے جانے والے ایک حملہ آور کی شناخت مظفر آباد کے رہائشی حافظ احمد کے نام سے ہوئی ہے۔ شاہز یب خانزادہ نے مزید کہا کہ پاکستان میں وطن کا نام اونچا کرنے والے کھلاڑیوں کو رخصت کرنے کی کوئی اچھی روایت نہیں ہے، شاہد آفریدی کے معاملہ میں یہ روایت ایک مرتبہ پھر دہرائی جاتی نظر آرہی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ شاہد آفریدی کو ہمیشہ کیلئے خیرباد کہنا چاہ رہا ہے، گزشتہ دنوں چیف سلیکٹر انضمام الحق نے شاہد آفریدی کو الوداعی میچ کھلانے کی تجویز دی لیکن پی سی بی کے کچھ افراد اس تجویز سے متفق نہیں ہیں۔شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ مقبول ترین کرکٹر کو کھیل کے میدان میں اس کی خدمات پر شایان شان الوداع ملنا چاہئے، بیس سال پہلے شاہد آفریدی جتنے شاندار انداز میں بین الاقوامی کرکٹ میں داخل ہوئے ایسے انداز میں کیریئر کا آغاز شاید ہی کسی اور کو نصیب ہوا ہو، شاہد آفریدی نے کیریئر کے دوسرے میچ میں ہی صرف 37گیندوں پر تیز ترین سنچری بنا کر ایسا ریکارڈ بنایا جو پندرہ سال تک ان کے پاس رہا۔شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ ایم کیو ایم لندن کی پریشانیاں کم ہو کر نہیں دے رہی ہیں، ندیم نصرت نے ہمارے پروگرام میں کہا تھا الطاف حسین نے استعفے دینے کا کہا ہے تو بہت سے استعفے آئیں گے ، لیکن کئی دن گزرنے کے بعد استعفے نہیں آئے ہیں، ایم کیو ایم پاکستان کے تقریباً سارے ہی پارلیمنٹرینز فاروق ستار کے ساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں،سفیان یوسف کے استعفے کے بعد ابھی تک کوئی استعفیٰ نہیں آیا ہے۔