پاکستانی وزیراعظم کے سر کی قیمت لگانے والے غنڈے ہیں، بھارتی صحافی

کراچی(ٹی وی رپورٹ) سینئر بھارتی صحافی پریم شنکر جھا نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت جنگ کی طرف نہیں جارہے ہیں، برہان وانی کشمیر کیلئے فریڈم فائٹر ہی تھے، ان کی ہلاکت پر مجھے بہت دکھ ہوا، پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی نریندر مودی نہیں بھارتی میڈیا دے رہا ہے، یہ بات بکواس ہے کہ بھارت نے اوڑی حملہ خود کروایا ہے، حادثہ چونکہ بھارتی کشمیر میں ہوا اسی لئے بھارتی وزیراعظم کا لہجہ دھمکی آمیز ہے، دھمکی دینا جنگ کرنے سے بہتر ہے کیونکہ دھمکیوں سے کوئی مرتا نہیں ہے،پاکستانی وزیراعظم کے سر کی قیمت لگانے والے لوگ غنڈے ہیں ۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں مسلم لیگ ن کے رہنما صلاح الدین ترمذی اور تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان بھی شریک تھے۔علی محمد خان نے کہا کہ سارک کانفرنس میں بھارت کا شرکت نہ کرنا بدنیتی کا اظہار ہے،کشمیر کے معاملے پر عمران خان،آصف زرداری سب نواز شریف کے ساتھ ہیں،پاکستانیوں سے کہتا ہوں اپنے محسن اور ہیرو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قدر کریں۔صلاح الدین ترمذی نے کہا کہ بھارتی میڈیا پاک انڈیا جنگ کروانے کی پوری کوشش کررہا ہے، بھارت نہ سندھ طاس معاہدہ ختم کرے گا اور نہ جنگ کی طرف جائے گا۔پریم شنکر جھا نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی نریندر مودی نہیں بھارتی میڈیا دے رہا ہے، بی جے پی کے ترجمان نے واضح طور پر کہا ہے بھارتی حکومت سندھ طاس معاہدے کے اندر رہ کر اقدامات کرے گی، پاکستان اور بھارت جنگ کی طرف نہیں جارہے ہیں، اس دفعہ تو کچھ نہیں ہوگا لیکن آگے کا کچھ نہیں کہہ سکتا، تین معاملات ایک ساتھ ہونے کی وجہ سے تناؤ آیا ہے، اوڑی کا حادثہ کسی اور وقت ہوتا تو اسے اتنا نہ اچھالا جاتا، انڈیا میں یوپی اور پنجاب میں انتخابات نزدیک ہیں اس لئے بھی اوڑی واقعہ کو زیادہ اچھالا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کیلئے سیاسی کھیل کھیلا جارہا ہے، میں پچھلے مئی سے کشمیر کے بگڑتے حالات کی نشاندہی کررہا تھاکہ کشمیر میں نئی طرح کی جدوجہد سر اٹھارہی ہے جس کے پیچھے پاکستان نہیں ہے بلکہ کشمیر میں نافذ پولیس راج ہے۔ پریم شنکر جھا کر کہنا تھا کہ برہان وانی کی ہلاکت پر مجھے بہت دکھ ہوا، برہان وانی پولیس کی زیاد تیو ں کے باعث جنگجو بنے تھے، برہان وانی کشمیر کیلئے فریڈم فائٹر ہی تھے، برہان وانی کی ہلاکت سے کشمیر میں جوالا مکھی پھوٹ پڑا۔ پریم شنکر جھا کا کہنا تھاکہ پاکستان اور بھار ت نے اپنی غلطیاں نہ مانی تو دونوں ممالک کیلئے مستقبل خراب ہے، پاکستان نے بھی پچھلے چھ سالوں میں 42 دفعہ کشمیر میں لوگوں کو بھیجا ہے، یہ بات بکواس ہے کہ بھارت نے اوڑی حملہ خود کروایا ہے، کوئی ملک بھی اپنے فوجیوں کو اس طرح نہیں مارتا ہے، پاکستان کشمیر میں حالات بہتر کرنے کیلئے بھارت پر کئی طرح دباؤ ڈال سکتا ہے، وزیراعظم نواز شریف فون اٹھا کر بات کرسکتے تھے کہ کشمیر کے حالات سے پاکستان میں مسائل پیدا ہور ہے ہیں، پا کستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے مسائل سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اُڑی لائن آف کنٹرول سے کافی دور ہے، لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے کئی طریقے ہیں، فینسنگ نے لائن آف کنٹرول کو عبور کرنا مشکل کردیا ہے مگر اس کے نیچے سرنگیں موجود ہیں، پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر الزام لگانے کے بجائے مذاکرات کریں۔ پریم شنکر جھا کا کہنا تھا کہ حادثہ چونکہ بھارتی کشمیر میں ہوا اسی لئے بھارتی وزیراعظم کا لہجہ دھمکی آمیز ہے، دھمکی دینا جنگ کرنے سے بہتر ہے کیونکہ دھمکیوں سے کوئی مرتا نہیں ہے ،پاکستانی وزیراعظم کے سر کی قیمت لگانے والے لوگ غنڈے ہیں، انہیں اس دفعہ 31فیصد ووٹ ملے لیکن ماضی میں کبھی 20فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں ملے تھے، آئندہ انتخابات میں انہیں 20فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں ملیں گے، پاکستانی فنکاروں کو انڈیا چھوڑنے کی دھمکی دینے والے چھوٹے لوگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ انڈیا نے بنگلہ دیش میں مکتی باہنی اس وقت سپورٹ کیا جب پاکستان نے ایک کروڑ لوگ بھگا کر ہندوستان بھیجے۔ صلاح الدین ترمذی نے کہا کہ بھارتی میڈیا پاک انڈیا جنگ کروانے کی پوری کوشش کررہا ہے، بھارت نہ سندھ طاس معاہدہ ختم کرے گا اور نہ جنگ کی طرف جائے گا، بھارتی پالیسی ساز جانتے ہیں جنگ سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، پاکستان نے کشمیریوں پر بھارتی مظالم اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں میں تحقیقات میں ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی، انڈیا نے اُڑی حملے کے فوراً بعد الزام پاکستان پر لگادیا، برہان وانی کو پاکستا ن نے کشمیر نہیں بھیجا تھا، کشمیریوں کی جدوجہد آزادی بھارتی مظالم کا نتیجہ ہے، بھارت نے سوچا ہی نہیں کہ اُڑی حملہ مظالم کے شکار کشمیریوں کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے۔صلاح الدین ترمذی کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر حل ہوئے بغیر پاک بھارت تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے۔علی محمد خان نے کہا کہ سارک کانفرنس میں بھارت کا شرکت نہ کرنا بدنیتی کا اظہار ہے ،کشمیرمیں کرفیو نافذ ہوئے تین مہینے ہوگئے اور ہم اب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کرنے جارہے ہیں ،مجھے اپنے پارلیمنٹرین ہونے پر شرم محسوس ہوتی ہے، مقبوضہ کشمیر میں پیلیٹ گن کے استعمال کے فوراً بعد پار لیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا چاہئے تھا، جمہوریت پر شب خون ہم سیاستدان مارتے ہیں، کشمیر میں شہیدوں کو پاکستانی جھنڈوں میں دفنایا جارہا ہے لیکن ہمیں نظر نہیں آرہا، کشمیر کے معاملہ پر عمران خان،آصف زرداری سب نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک بھارت جنگ ہوئی تو دونوں ملکوں کی تباہی ہوگی لیکن زیادہ نقصان بھارت کا ہوگا، بھارت میں ہونے والے ہر واقعہ کو پاکستان کے کھاتے میں ڈالنا درست نہیں ہے،بھارت اپنے آستین کے سانپ کیوں نہیں دیکھتا، اگر بھگت سنگھ حریت پسند تھے تو برہان وانی کو بھی حریت پسند ماننا ہوگا، پاکستانی وزیراعظم نے کوئی غیرذمہ دارانہ بیان نہیں دیا جیسے مودی دے رہا ہے۔