مودی کی آبی دہشت گردی، پاکستانی دریائوںکا پانی روکنے کی دھمکی

نئی دہلی )بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی آبی دہشتگردی پر اتر آئے ہیں ، انہوں نے پاکستانی دریائوں کا پانی روکنے کی دھمکی دیدی ، بھارتی میڈیا کے مطابق نریندر مودی نے سندھ طاس معاہدے پر نظر ثانی کے لئے اجلاس کی صدارت کی جس میں اڑی حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کوختم کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال بھی کیا گیا، میڈیا رپورٹ کے مطابق اس موقع پر مودی کا کہنا تھا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے ،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دریائے جہلم سمیت پاکستانی دریائوں کو جانے والے پانی کا استعمال بڑھادیا جائے گا ،اڑی حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کوختم کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال بھی کیا گیا، اجلاس میں پرنسپل سیکریٹری نریپندرہ مشرہ ،نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دول اور سیکریٹری خارجہ جے شنکر سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے بھی شرکت کی، اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ انڈس واٹر کمیشن کا اجلاس صرف دہشتگردی سے آزاد ماحول میںہوسکتی ہے ، کمیشن کی اب تک 112ملاقاتیں ہوچکی ہیں ،ذرائع نے بتایا کہ بھارتی حکومت نے دریائے چناپ پر تین ڈیموں پاکال ڈل، ساولکوٹ اور برسار کی تعمیر کے کام میں تیزی لانے کا بھی فیصلہ کیا ہے، دوسری جانب بھارتی ماہرین نے مودی حکومت کو معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے ، بھارت کے سابق سیکریٹری خارجہ کنول سبل نے کہا ہے کہ سندھ طاس بین الاقوامی معاہدہ ہے اور بھارت ذمہ دار ملک ہے اس لیے ہمیں بین الاقوامی سطح پر ذمہ داری کا مظاہر ہ کرنا ہو گا،واضح رہے کہ 1960میں پاکستانی صدر ایوب خان اور بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے درمیان سند ھ طاس معاہدہ طے پایا تھا جس کے مطابق دریائے بیاس،راوی اور ستلج کا کنٹرول بھارت کے پاس جبکہ پاکستان کا کنٹرول دریا ئے سندھ، جہلم اور چناب پر رکھا گیا تھا۔