8 سالوں میں شریف خاندان کی سکیورٹی پر سر کاری خزانے سے کتنے اربوں خرچ ہوئے ؟ تہلکہ خیز تحقیقاتی رپورٹ

 لاہور: شریف خاندان کی رہائشگاہوں وانکی سکیورٹی پر 8 سال میں کتنا سرکاری خرچ آیا، تحقیقات نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا، کروڑوں روپے سرکاری خزانے سے جاتی عمرہ کو محل میں تبدیل کیا گیا۔ اعلی حکومتی عہدیدار وں کیساتھ ساتھ ان کے خاندان کے بچے بچے پر سکیورٹی و خصوصی کمانڈوز بھی تعینات ہیں۔

شریف خاندان کی سکیورٹی،رہائشگاہوں وچنددفاترز پر 7 ارب 41 کروڑ 48 لاکھ روپے سرکاری خزانے سے خرچ کئے گئے، کروڑوں روپے کے فنڈز رولز میں نرمی کرتے ہوئے جاری کئے گئے، شریف خاندان کی سکیورٹی پر2752سکیورٹی اہلکار،کمانڈوز و دیگر تعینات ہیں۔ جاتی عمرہ، ماڈل ٹاﺅن سمیت حکومتی رشتہ داروں کے پروٹوکول کےلئے سکیورٹی فراہم کی گئی، 80 کروڑ 48 لاکھ کے سکیورٹی آلات کی خریداری و دیگرسکیورٹی معاملات پر خرچ ہوئے۔

لاہورڈویژن میں شریف خاندان کی رہائشگاہوں وسکیورٹی پر خزانہ پنجاب سے فنڈز جاری ہوئے۔ خفیہ فنڈز سے 4کروڑ 21لاکھ 46ہزار روپے شریف خاندان کی سکیورٹی پر لگایا گیا۔ پنجاب کی 34لاکھ 43ہزار 249افراد کی سکیورٹی پر تعینات ہونیوالی اہلکاروں و افسران ان کی ڈیوٹی چھوڑ کر حکومتی عہدیداروں اور ان کے خاندان کی حفاظت پر مامور رہے اور تاحال ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔

تحقیقات بتاتی ہیں کہ جولائی 2015 میں شریف خاندان کی سیکیورٹی پر تعینات پولیس ملازمین کو اعزازیہ دینے کیلئے پنجاب حکومت نے 2کروڑ71لاکھ روپے جاری کئے۔ستمبر 2015میں وزیراعلی شہبازشریف کے سکیورٹی سکواڈ کیلئے  14 گاڑیوں کی خریداری کیلئے 5 کروڑ 40 لاکھ روپے کے فنڈز جاری کئے گئے۔ اکتوبر 2015 میں حکومت نے جاتی امرا کی سکیورٹی انتظامات کی بہتری کیلئے 4.4 کلومیٹرجنگلہ لگایا گیا ہے۔ جس پر سیکیورٹی آلات نصب کئے گئے ہیں جبکہ 90جدید سی سی ٹی وی کیمرے، 100جدید ایل ای ڈی لائٹس نصب کی گئیں ہیں، 20ایلیویٹڈ سیکیورٹی چیک پوائنٹس بنائی گئیں ہیں، جاتی امرا کے گرد 12فٹ بلند4.4کلومیٹر لوہے کی جنگلہ نما دیوار، سکیورٹی چیک پوائنٹس کیلئے 19 کروڑ 72 لاکھ روپے اور سکیورٹی آلات کی خریداری کیلئے 8 کڑور60 لاکھ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔

جاتی عمرہ راﺅنڈ کےلئے سوا کروڑ روپے سے زائد کے مہنگے ترین جیمبرز خریدے گئے، وزیراعلی شہبازشریف کے سکواڈ کےلئے خصوصی 9نئی گاڑیاں خرید ی گئیں، جس پر 3کروڑ60لاکھ خرچہ آیا، فائبر گلاس کیبن کےلئے جاتی عمرہ ، ماڈل ٹان میں 2014-15کے دوران 17 لاکھ 40 ہزار خرچ،جاتی عمرہ کےلئے 14-15کے دوران 6کروڑ 19لاکھ 5ہزار روپے خرچ ہوئے،ماڈل ٹاﺅن میں سکیورٹی کیمپ کےلئے جرنیٹرز کی خریدار84 لاکھ 70 ہزا رروپے خرچ کئے گئے ہیں۔

وزیراعلی کے کیمپ آفس میں 2012 کی سکیورٹی کےلئے 17 لاکھ 88 ہزا رروپے، ماڈل ٹاﺅن میں نئے سی سی ٹی وی کیمرے لگانے اور سکیورٹی سسٹم اپ گریڈ کرنے کےلئے 3کروڑ 57لاکھ 14ہزارروپے خرچ ہوئے۔وزیراعلی کے پروٹوکول کےلئے مزید نئی گاڑیوں کی خریداری 35لاکھ خرچ ہوئے ہیں، 10 سراغ رساں کتوں کی خریداری کےلئے 45لاکھ روپے خرچ ہوئے،چند جیمبرز کی تبدیلی کےلئے 50لاکھ روپے خرچ،جاتی عمرہ میں 2015-16کے دوران اعلی حکومتی عہدیدار کی قریبی رشتہ دار کے حوالے سے خصوصی تقریب کے دوران 21کروڑ 19لاکھ خرچ ہوئے ہیں۔ پنجاب پولیس کے 44اہلکار پرائم منسٹر ہاﺅس اسلام آباد میں بھی ڈیوٹی دے رہے ہیں،وزیراعلی آفس جی او آر ون، 90 شاہراہ ، وزیراعلی کی رہائشگاہ 180ایچ ماڈل ٹاﺅن میں سکیورٹی پر کروڑوں خرچ ہوئے ہیں، وزیراعلی رہائشگاہ96ایچ ماڈل ٹاﺅن، ڈی ایچ اے لاہورپرسکیورٹی اہلکاروکمانڈوز تعینات ہیں،سکواڈ حمزہ شہباز، سکواڈ بیگم نصرت شہباز، سکواڈ سلمان شہباز اینڈ فیملی کی سکیورٹی پر بھی کروڑوں خرچ ہوئے ہیں۔ سکواڈ میاں عمران علی، سکواڈ بیگم تہمینہ شہباز، 51 اے جوڈیشل کالونی لاہورپر بھاری فنڈز سکیورٹی کے نام پر خرچ کر دئیے گئے ہیں۔

شخصیات کی رہائشگاہوں پر لاہورپولیس، پنجاب کانسٹیبلری ، راولپنڈی ،بھکر،اٹک ،قصورکے پولیس اہلکار و افسرتعینات کئے گئے ہیں، سپیشل برانچ وی وی آئی پی سیکیورٹی کے 33، سپیشل برانچ 88، 75پرائیویٹ سیکیورٹی اہلکار و ددیگر پولیس ملازمین بھی تعینات ہیں۔ جو پولیس اہلکار وافسران و دیگر ملازمین تعینات ہیں ان کی ماہانہ تنخواہ 9کروڑ 63ہزار 20ہزار بنتی ہے۔ جبکہ ایک سا ل کی 1ارب 15کروڑ 58لاکھ 40ہزار روپے بنتی ہے۔ اور یہ تین سالوں کے دوران 3ارب 46کروڑ 75لاکھ 20ہزار روپے بطور تنخواہ اداکی گئی ہے۔ جبکہ جو اعزازیہ دیا گیا ہے وہ اس سے الگ ہے۔ 2008سے لیکر 2013تک 3ارب 15کروڑ روپے سکیورٹی اہلکاروں وافسران کو دئیے گئے ہیں،2008سے لیکر 2013تک ہر ماہ 63کروڑ روپے 1500سکیورٹی اہلکار و ملازمین کو بطور تنخواہ دئیے۔

اس حوالے سے حکومتی ترجمان زعیم حسین قادری کا کہنا ہے کہ جو سکیورٹی دی گئی ہے یہ ضروری تھی اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سکیورٹی فراہم کی گئی ہے، جبکہ یہاں پر وی وی آئی پیز آتے ہیں، اس لئے یہاں کی سکیورٹی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے، جبکہ محکمہ خزانہ پنجاب حکام کا کہنا ہے کہ جو فنڈز ان رہائشگاہوں کےلئے خرچ کئے گئے ہیں اس کی منظوری چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب اور پھر حتمی منظوری کےلئے وزیراعلی پنجاب کو سمری بھیجوائی جاتی رہی ، جن کی منظوری کے بعد سپلیمنٹری گرانٹ سے فنڈز جاری کئے جا تے رہے ہیں۔