براہمداغ کے اقدام نے اسکے’’ را‘‘ کیساتھ گٹھ جوڑ کا دعویٰ ثابت کر دی

اسلام آباد  انتہائی مطلوب بلوچ علیحدگی پسند براہمداغ بگٹی کی جانب سے پاکستان کیخلاف نئی دہلی کی مہم میں شمولیت کے سلسلے میں بھارتی شہریت کیلئے درخواست دینے کے اقدام سے بگٹی اور را کے درمیان تعلقات ثابت ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی اسلام آباد کا یہ طویل عرصہ سے کیا جانے والا یہ دعویٰ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ بگٹی بھارتی ایجنٹ ہے جو بلوچستان میں بے چینی پھیلانے کیلئے بھارتی منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ سوئٹزرلینڈ جانے سے پہلے براہمداغ بگٹی بھارت میں تھا جہاں اس نے را کے ساتھ مل کر بلوچستان میں کشیدگی پھیلانے کیلئے کام کیا۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد، بھارت کو پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کیلئے افغان سرزمین استعمال کرنے کی کھلی چھوٹ دیدی گئی تھی۔ مختلف سطحوں پر، پاکستانی حکام نے امریکا، نئی دہلی حتیٰ کہ کابل کو بھی بتایا ہے کہ بھارت بلوچستان اور پاکستان کے مختلف حصوں میں تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ جنگجوئوں کی مدد سے دہشت گرد سرگرمیوں کو ہوا دے رہا ہے۔ بات چیت کے دوران براہمداغ بگٹی کا نام خاص طور پر بتایا گیا تھا کہ اس شخص کو بھارت بلو چستا ن میں دہشت گرد سرگرمیوں کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد تھے کہ را نے افغا نستا ن کے مختلف حصوں میں تربیتی کیمپ قائم کر رکھے ہیں جہاں سے بلوچ اور تحریک طالبان کے دہشت گردوں کو پاکستان کیخلاف استعمال کیا جاتا تھا۔ پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق، را براہمداغ بگٹی کو بلوچستان میں کارروائیاں کرنے کیلئے مالی مدد بھی دیتی تھی۔ بگٹی اور را کے اس تعلق کی وجہ سے کئی نوجوان بلوچوں کو افغانستان لیجایا گیا جہاں ان کی پاکستان کیخلاف برین واشنگ کی گئی۔ تربیت کے علاوہ، را نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستان کیخلاف مواد شایع کر کے تقسیم کرنے کیلئے بھی مالی معاونت فراہم کی۔ پاکستان میں بھارت کی اس طرح کی منفی سرگرمیوں کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت کے دوران وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے شرم الشیخ میں بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو ایک دستاویز بھی فراہم کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق، جو دستاویز بھارتی وزیراعظم کو فراہم کی گئی تھی اس میں زیادہ تر حصہ بلوچستان میں مداخلت اور بھارتی حکومت کے جنگجوئوں بالخصوص براہمداغ بگٹی اور چند دیگر کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے تھا۔ شواہد میں ان افراد کی بھارتی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کی تصاویر بھی شامل تھیں جنہیں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ براہمداغ نے بھارت کا دورہ کیا تھا اور بھارتی خفیہ ادارے کے حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ان اطلاعات کے مطابق، دستاویز میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ بھارت نے قندہار میں ایک تربیتی کیمپ کی فنڈنگ کی تھی جس میں بلوچ جنگجوئوں بالخصوص بگٹی قبیلے کے لوگوں کو تربیت دی جاتی تھی اور انہیں اسلحہ دیا جاتا تھا تاکہ وہ بلوچستان میں تخریبی کارروائیاں کریں۔ اگرچہ بھارت نے ہمیشہ اس کی تردید کی ہے لیکن براہمداغ بگٹی کے بھارت میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کے حالیہ اقدام نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے جو پاکستان کئی برسوں سے کہتا رہا ہے۔ براہمداغ نے باضابطہ طور پر بھارتی حکومت سے کہا ہے کہ اسے پناہ اور بھارتی شہریت دی جائے تاکہ وہ بھارت میں رہ سکے اور پاکستان کیخلاف مہم چلانے کیلئے دنیا بھر میں گھوم سکے۔ دی نیوز کے لندن میں موجود نمائندے مرتضیٰ علی شاہ نے 15؍ ستمبر کو یہ خبر جاری کی تھی کہ براہمداغ بگٹی بھارتی شہریت کے حصول کیلئے درخواست دینے والے ہیں اور کالعدم بی آر پی لیڈر اور بھارتی حکومت کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔ بعد میں پریس کانفرنس کے دوران، براہمداغ نے اعلان کیا کہ اس کی پارٹی کے رہنمائوں نے اسے اور اس کے اہل خانہ کو بھارت میں پناہ حاصل کرنے کی اجازت دیدی ہے۔ جنیوا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے براہمداغ نے بتایا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بھارتی شہریت کے حصول کیلئے باضابطہ طور پر درخواست دائر کریں گے اور جو قانونی طریقہ کار ہے وہ اختیار کیا جائے گا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی کامیاب شروعات اور بلوچستان میں تیزی سے حالات معمول کی طرف آتا دیکھ بھارت اور اس کے براہمداغ بگٹی جیسے ایجنٹ پریشان ہوگئے ہیں۔ بگٹی کا بھارتی شہریت کیلئے کوشش کرنا اور مودی کا بلوچستان کے متعلق حالیہ بیان وہ اشارے ہیں جن سے ان کی پریشانی کا اندازہ ہوتا ہے اسلئے اب یہ لوگ پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے اپنے عزائم بے نقاب کر رہے ہیں۔ لیکن، ان کی بدقسمتی ہے کہ بلوچستان اب پہلے سے زیادہ محفوظ ہے اور بلوچستان اور پاکستان کے دیگر حصوں میں سی پیک کے مختلف مراحل پر کامیابی کے ساتھ کام ہو رہا ہے۔