جن کے مفاد وابستہ ہیں وہ شفاف انتخابات اور مردم شماری نہیں چاہتے, چیف جسٹس

اسلام آباد (نیوزڈیسک)سپریم کورٹ نے مردم شماری کے ٹائم فریم کے حوالے سے حکومتی جواب پرعدم اطمینان کا اظہار کر دیا ۔چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ جن کے مفاد وابستہ ہیں وہ صاف شفاف انتخابات اور مردم شماری نہیں چاہتے ، جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ اگراسلام آباد میں بھی مردم شماری فوج کی نگرانی میں ہونی ہے تو یہ حکومت کی ناکامی ہے ۔چیف جسٹس انورظہیرجمالی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سپریم کورٹ میں مردم شماری میں تاخیر پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مردم شماری میں تاخیر کی ذمہ دار سابقہ اور موجودہ حکومتیں ہیں ۔ قانون میں کہاں لکھا ہے کہ مردم شماری فوج کے بغیر نہیں ہو سکتی اور کس ملک میں مردم شماری فوج کی نگرانی میں ہوتی ہے، مردم شماری جمہوریت کی بنیاد ہے، مردم شماری سے صوبوں، اضلاع کے اعداد و شمار ریکارڈ پر آئیں گے ۔ مردم شماری نہیں ہو گی توحلقہ بندیاں، اسمبلیوں میں نشستوں اور نوکریوں کے کوٹے کی تقسیم کیسے ہو گی؟تاثر نہیں دینا چاہتے کہ مردم شماری فوج کی نگرانی میں نہ ہو ۔جسٹس قاضی فائز نے کہا کہ 95 فیصد علاقوں میں مردم شماری کیلئے فوج کی ضرورت نہیں، جو حساس علاقے ہوں وہاں بعد میں مردم شماری کرا لی جائے، کیا حکومت فوج کے بغیرمردم شماری کرانے میں بے بس ہے؟اگراسلام آباد میں بھی مردم شماری فوج کی نگرانی میں ہونی ہے تو یہ حکومت کی ناکامی ہے ۔حکومتی وکیل رانا وقار نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مردم شماری مارچ 2017 میں شروع کرانے کا فیصلہ کیا ہے ، حکومت چاہتی ہے کہ مردم شماری فوج کی نگرانی میں کرائی جائے، کیس کی مزید سماعت 31 اگست کو ہو گی۔