لندن قیادت سے لاتعلقی، متحدہ پاکستان سے ہی آپریٹ ہوگی، فاروق ستار

کراچی (نیوزڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار اور دیگر نے لندن کی قیادت سے لاتعلقی کا اظہار کردیا، پاکستان کے فیصلے اب پاکستان میں ہی ہوں، ایم کیو ایم پاکستان کو آپریٹ بھی پاکستان سے ہی کیا جائے گا، صلاح مشورے سب سے لیں گے تاہم فیصلے اب پاکستان میں ہی ہوں گے، آئندہ متحدہ کے پلیٹ فارم سے کارکن یا قائد کسی کو بھی پاکستان مخالف بات کرنے اور پاکستان مخالف نعرے لگانے کی اجازت نہیں ہوگی، جو میں کہہ رہا ہوں، یہی ہماری پالیسی ہے، پالیسی کیخلاف جو بھی بولے گا وہ ایم کیو ایم سے نہیں، گزشتہ روز کے بیانات اور واقعات سے قطعی لاتعلقی اور ندامت کا اظہار کرتے ہیں، میڈیا ہاؤسز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق ستار نے ایم کیو ایم کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ کراچی پریس کلب میں اہم پریس کانفرنس کی، جس میں صحافیوں کے احتجاج پر انہوں نے کہا کہ آج میری بات سن لیں تسلی نہ ہو تو آئندہ میری تمام پریس کانفرنسز کا بائیکاٹ کردیں، پریس کانفرن میں تشریف لانے پر سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، تاخیر اور انتظار پر معذرت چاہتا ہوں، ہماری کوشش تھی کہ یہ پریس کانفرنس کل ہی کرتے، گزشتہ رات بھی آئے تھے مگر ہمیں ایم کیو ایم اور ہمارا مؤقف پیش نہیں کرنے دیا گیا، اور ہمیں یہاں سے لے جایا گیا، کل کی تمام صورتحال پر ہمارے مؤقف کو لوگوں کے سامنے آنا چاہئے تھا مگر پریس کانفرنس نہ ہونے کی وجہ سے ایسا نہ ہوسکا۔ان کا کہنا ہے کہ اب ہماری پریس کانفرنس کو کسی اور کا ڈکٹیشن سمجھا جائے گا اسی لئے کل پریس کانفرنس کرنا چاہتے تھے مگر ایسا نہیں کرنے دیا گیا، آٹھ گھنٹے تک رینجرز کے دوستوں کے پاس رہے اس لئے یہ تاثر لیا جائے گا کہ یہ پریس کانفرنس ڈر و خوف کے باعث کی جارہی ہے اور کسی ادارے یا ایجنسی کے کہنے پر یہ سب کچھ ہورہا ہے، جو کچھ کل کہنا چاہتے تھے وہی بات آج کریں گے۔ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم ڈر و خوف کے باعث یہ باتیں کر رہے ہیں، جو کچھ کل ہوا وہ صرف برا ہی نہیں بہت برا ہوا، کل بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے تھے اور یہ توقع نہیں تھی کہ جو کچھ ہوا ایسا ہوجائے گا، کل جو کچھ ہوا اس کے دو بڑے پہلو ہیں، پہلا یہ کہ ریاست پاکستان کے حوالے سے ایسے نعرے لگے جو قطعی نہیں ہونی چاہئے تھیں، ایم کیو ایم کے قیام کے پہلے روز سے یہ ہماری طے شدہ پالیسی ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا قیام تمام اکائیوں کو متحد کرنے کیلئے تھا، یہ جماعت پاکستان میں رجسٹرڈ ہے، ایم کیو ایم پاکستان کے آئین و قانون کو مانتی ہے، پاکستان میں اور پاکستان کی سیاست کررہے ہیں، پاکستان مخالف نعرے اور بات ہوئی، ایم کیو ایم کا ہر ہمدرد، ذمہ دار، حامی اور ووٹر اس پر متفق ہیں کہ پاکستان کو غیر مستحکم نہیں مستحکم کرنے کی پالیسی ہے۔انہوں نے گزشتہ روز پاکستان مخالف نعروں اور واقعات سے اظہار لاتعلقی، مذمت اور ندامت کا اظہار کیا، بولے کہ یہ ہی ایم کیو ایم کی پالیسی ہے، میڈیا ہاؤسز پر حملے کی مذمت کرتے ہیں، تشدد ہمارا راستہ نہیں، جو لوگ بھی اس میں ملوث ہیں چاہے وہ ہمارے کارکن ہیں یا نہیں ان سب سے اظہار لاتعلقی کرتے ہیں۔فاروق ستار نے مزید کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جانب سے پورے ملک کے عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے ایسا عمل دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا اور نہ ہی کسی کو اجازت دی جائے گی، کارکن ہو یا قائد کسی کو بھی ایسا عمل دہرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، قائد ایم کیو ایم نے اس سب معاملے پر شرمندگی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ جہاں سے بار بار یہ غلطی ہورہی ہے جس کی کوئی بھی وجہ ذہنی تناؤ، صحت یا کوئی اور ہو، اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے، ایم کیو ایم پاکستان میں سیاست کرتی ہے اور اس عمل کی متحمل نہیں ہوسکتی، ضروری ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کو پاکستان سے ہی آپریٹ کیا جائے، اپنے قائدین کے احترام کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔وہ کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم اور ہماری غیر متزلزل وابستگی پاکستان سے ہے، پاکستان کا استحکام اور تعمیر و ترقی ہمارا مقصد ہے، جو شخص ہماری حب الوطنی پر شک کرے گا ہم اس کی حب الوطنی پر شک کریں گے، میرا پاکستان کے ساتھ تعلق پاکستان بننے سے پہلے سے ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے یہ شعر بھی پڑھا۔

اپنی تو پہچان یہی تھی اس پہچان سے پہلے

پاکستان کا شہری تھا پاکستان سے پہلے۔

فاروق ستار نے کہا کہ جو بھی ذہنی دباؤ یا پریشانی اور صحت کے معاملات ہیں وہ درست ہونے تک رابطہ کمیٹی اور تمام رہنماؤں نے یہ فیصلہ کیا کہ ملک مخالف بات کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، ایم کیو ایم کی 30 سالہ تاریخ میں اور نہ ہی لٹریچر میں یہ تربیت دی گئی ہے، ہم سب ایم کیو ایم ہیں، ہم خود اپنے آپ سے لاتعلقی کا اظہار کیسے کریں، اگر کوئی اور ایم کیو ایم ہے تو ہمیں بتائیں۔وہ بولے کہ ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے کسی کو بھی پاکستان مخالف بات اور پاکستان مخالف نعروں کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی، ہمارا نظریہ اور پالیسی یہی ہے، کوئی بھی بات کہہ کر شرمندگی کا اظہار کیا جاتا ہے، لوگ کنفیوز ہوتے ہیں کہ ان کی پالیسی کیا ہے۔ڈاکٹر فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پر لگنے والے الزامات کا 20 سال تک دفاع کیا، کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو دفاع کے قابل نہیں ہوتیں، خدا خدا کرکے کل میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب ہے، کراچی کے قیام امن میں ہمارا حصہ سب سے زیادہ ہے، آج بھی عوام کو امن قائم رکھنے کا درس دیا، کبھی رینجرز اختیارات میں کمی کا مطالبہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کسی دوسرے کے دفتر کے بجائے اپنے گھروں سے برآمد ہوں تو بہتر ہے، کراچی آپریشن کا اصل مقصد مجرموں کی سرکوبی، جرائم کا خاتمہ اور دہشت گردی کا قلع قمع ہونا چاہئے، آپریشن کا مطالبہ بھی ایم کیو ایم نے کیا تھا اس پر حرف نہیں آنے دیں گے۔ڈاکٹر فاروق ستار نے نائن زیرو سمیت تمام سیاسی دفاتر کی سیل ختم کرکے انہیں کھولنے کا مطالبہ کردیا، تمام چیئرمین و وائس چیئرمینز سے کل میئر کراچی کے انتخاب کی تیاری کیلئے گھانچی کمیونٹی ہال پہنچیں۔ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا۔ عامر لیاقت نے کہا کہ پاکستان مہاجروں نے بنایا، ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں، ان باتوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکے جو قربانیوں پر سوال اٹھائے، قائد ایم کیو ایم پہلے اپنی ذہنی کیفیت بہتر کرلیں، کچھ باتیں اور کچھ نعرے نہ ہی ناقابل معافی ہوتے ہیں اور نہ ہی ناقابل تلافی۔فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم میں کسی عسکری ونگ کی کوئی گنجائش نہیں، متحدہ کا کوئی کارکن تشدد کرے یا تشدد کا شکار ہو دونوں صورتوں میں قابل مذمت ہے۔