الطاف حسین کے خلاف بغاوت ،برطانیہ بدرکرنے کامطالبہ

کراچی (نیوزڈیسک) ایم کیو ایم کے رہنماﺅں اور کارکنوں کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اس ضمن میں ایئرپورٹ کو ایک فہرست فراہم کر دی گئی ہے جبکہ ایم کیو ایم کے بیشتر ارکان گرینڈ آپریشن کے بعد منحرف ہونا شروع ہو گئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق ایم کیو ایم کے متعدد کارکن اور تنظیمی عہدیدار پاک سرزمین پارٹی کے دفتر پہنچ گئے جن میں سابق سیکٹر انچارج حمید رشید بھی ان میں شامل ہیں۔ متحدہ رہنما پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔ اس حوالے سے مصطفی کمال نے کہا کہ تقریریں سننے والوں کو معاف کرنا چاہئے‘ میرے دروازے ہر کیلئے کھلے ہیں۔ میرے پیچھے ”را“ یا بھارت نہیں۔ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے مشتعل کارکنان نے ریڈ زون کے قریب ہنگامہ آرائی کی اور نجی ٹی وی کے دفتر میں گھس کر نعرے بازی کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی۔مشتعل کارکنان نے دوران احتجاج ایک پولیس موبائل اور 2 موٹرسائیکلوں کو آگ لگادی کراچی کے ریڈ زون میں واقع پریس کلب کے اطراف میں صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کی۔جناح اسپتال کی جوائنٹ ایگزیگٹو ڈائریکٹر اور شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق اس واقعے کے بعد ایک شخص کو مردہ جب کہ پانچ افراد کو زخمی حالت میں ہستپال لایا گیا ہے۔ مشتعل افراد کو روکنے کیلئے پولیس کی جانب سے ہوائی فائرنگ کی گئی جس کے بعد ایم کیو ایم کے مشتعل کارکنوں نے گورنر ہاﺅس کے قریب موجود ایک پولیس وین کو بھی آگ لگا دی۔ تفصیلات کے مطابق پیر کی سہ پہر کراچی پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتالی کیمپ میں سینکڑوں کی تعداد میں مرد وخواتین کارکنان اور پارٹی لیڈر شپ موجود تھی ،اس دوران ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کیمپ میں موجود لوگوں سے خطاب کرنا شروع کردیا،اس دوران قائد ایم کیو ایم نے بعض ٹی وی چینلز میں جیو ٹی وی سمیت اے آر وائی اور سماءکا نام لیکر ان کے خلاف تقریر کی،جس کے بعد کیمپ میں موجود افراد مشتعل ہوگئے اور انہوں نے کیمپ سے نکل کر اے آر وائی ، سماءاور نیو چینلز کے دفاتر کا رخ کیا اور چینلز کے دفاترکا گھیراو¿ شروع کردیا،اس موقع پر چہرے پر دھاٹے باندھے ہوئے ایم کیو ایم کے کارکنان نے ایک ٹی وی چینل کے دفتر میں گھس کر وہاں توڑ پھوڑ کی اور عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا،جبکہ پولیس چوکی پر توڑ پھوڑ کی گئی،اس موقع پر مشتعل افراد نے پولیس کی موبائل سمیت فوارہ چوک کے قریب سے گزرنے والی موٹر سائیکلوں کو نزر آتش کردیا،مشتعل افراد نے پولیس پر پتھراو¿ بھی کیا،جبکہ ہوائی فائرنگ بھی کی گئی،جس کے نتیجے میں ایک نامعلوم شخص جاں بحق ہوگیا،جبکہ ایس ایچ اور پیر شبیر حیدر سمیت اہلکاروں قمر زمان اور دیگر افراد زخمی ہوگئے،مشتعل افراد نے علاقے سے گزرنے والی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دئیے مشتعل افراد نے میڈیا کے نمائندوں کو بھی نشانہ بنایا ،جبکہ صدر میں دوکانیں بھی بند کرائیں،صوررتحال کے بعد پولیس ورینجرز حرکت میں آئی اور ھنگامی آرائی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا،اس موقع پر پولیس نے لوگوں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا ،آنسو گیس کا استعمال کیا ،بعد ازاں لوگوں کی گرفتاریاں بھی کی گئیں،اس موقع پر رینجرز نے پریس کلب کے سامنے لگے ہوئے کیمپ کو بھی اکھاڑ دیا،اس موقع پر رینجرز نے وہاں موجود لوگوں سے پوچھ کچھ بھی کی،جس کے دوران بعض لوگوں کو حراست میں لیا گیا،صورتحال کے پیش نظر متعلقہ ڈی آئی جی سمیت رینجرز کے کمانڈر بھی موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے صورتحال کو مانیٹر کیا،پریس کلب کے باہر اتنی کشیدہ صورتحال تھی کے لوگوں کو پریس کلب کے اندر جاکر پناہ لینی پڑی،ہنگامہ آرائی کے سبب آئی چندریگر روڈ سمیت مختلف شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام رہا جسے بحال کرنے کی کوشش جاری رہی۔متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنماءڈاکٹر فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن نجی ٹی وی پر حملہ کے بعد اپنا موقف پیش کرنے کیلئے کراچی پریس کلب پہنچے۔ رینجرز کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور متحدہ رہنماو¿ں کو بات چیت کرنے سے روک دیا۔ ذرائع کے مطابق رینجرز اہلکاروں نے فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن کو ساتھ چلنے کو کہا لیکن متحدہ رہنماو¿ں کا کہنا تھا کہ انھیں چند منٹ میڈیا سے بات کرنے دی جائے تاہم انھیں اس کی اجازت نہیں دی اور حراست میں لے لیا گیا۔ ادھر ملیرمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی کرکے ایم این اے ساجد احمد، جبکہ عزیر آباد سے رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ رینجرز نے عامر لیاقت کو بھی حراست میں لے لیا۔ رینجرز کی بھاتی تعداد نائن زیرو داخل ہو گئی۔ خواتین رینجرز اہلکار بھی ہمراہ تھیں، نائن زیرو کی مکمل تلاشی کی گئی واکی ٹاکی، فونز اور دیگر مواصلاتی آلات قبضہ میں لے لئے گئے۔ ایم کیو ایم کی ویب سائٹ بھی بند کر دی گئی۔ عامر لاقت کو آئی آئی چندریگر روڈ سے حراست میں لیا گیا۔ اشتعال انگیز تقاریر سے متحدہ رہنماﺅں سے تفتیش کا فیصلہ کر لیا گیا۔ ایم کیو ایم کے اہم رہنماﺅں کے نام ای سی ایل میں شامل کر دیئے گئے۔ رینجرز اہلکار نائن زیرو میں داخل ہو گئے۔ متحدہ کے 3 کارکن حراست میں لے لئے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی رکن سندھ اسمبلی ارم عظیم فاروقی نے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا، کہتی ہیں میڈیا دفتر پر حملے، توڑ پھوڑ اور پولیس سے کارکنوں کے تصادم کی ویڈیوز دیکھ کر انتہائی شرمندگی کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) رینجرز نے کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم کے تمام دفاتر کو سیل کر دیا ہے جبکہ سکھر‘ حیدرآباد اور کراچی میں رینجرز کارروائیوں کے خلاف کسی قسم کا ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ تمام دفاتر‘ سکول‘ ہوٹل اور دکانیں معمول کے مطابق کھل گئے۔ پٹرول پمپ اور بینک بھی اپنے معمول کے مطابق کھلے۔ ایم کیو ایم کے مرکزی رہنماﺅں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پاکستان زندہ باد کے ٹویٹ کر کے ایم کیو ایم سے اپنی لاتعلقی ظاہر کر دی۔ رینجرز نے نائن زیرو کو تالے لگا دیئے ہیں اور وہاں سے برآمد ہونے والا اسلحہ جس میں 12کلاشنکوف اور 9رپیٹر اور ریاست مخالف لٹریچر کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔ رینجرز نے خدمت خلق فاﺅنڈیشن کی تمام ایمبولینس بھی بند کر دی ہیں۔ ادھر لندن میں میٹرو پولیٹن پولیس نے قائد ایم کیو ایم الطاف حسین کے خلاف شکایات کے انبار پر ایک الگ ای میل قائم کر دی ہے جس پر اپنی شکایات درج کروائی جا سکتی ہیں۔ سکاٹ لینڈ نے الطاف حسین کے خلاف نفرت انگیز اور شرپسندی پر مبنی تقریر پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم کے خلاف پیر کی شب شروع ہونے والے کڑے کریک ڈاﺅن کے بعد ایم کیو ایم کے کئی سرکردہ رہنما اور منتخب نمائندے انڈر گراﺅنڈ ہو گئے۔ ان کے موبائل فون بند ہوگئے ہیں۔ انڈر گراﺅنڈ ہونے والوں میں منتخب کونسلر بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب کئی کارکنان بھی منظرعام سے غائب ہو گئے ہیں۔ سندھ کے دوسرے شہروں بھی تمام اہم رہنما اور کار کنان کسی سے رابطے میں نہیں ہیں۔ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما تادم مرگ بھوک ہڑتال کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتے تھے۔ وہ پارٹی کی لندن قیادت سے اس بات پر متفق نہیں تھے کہ بھوک ہڑتال کو زیادہ لمبے عرصے چلایا جائے۔ ایم کیو ایم کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھوک ہڑتال اور اسے لمبے عرصے تک جاری رکھنے کے فیصلے پر ایم کیو ایم کی اندرونی قیادت آپس میں مکمل طور پر متفق نہیں تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے بعض سینئر لیڈرز نے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت سے خفیہ رابطے بھی کئے تھے اور ان کو پیغام دیا تھا کہ وہ بھوک ہڑتال کو جلد از جلد ختم کرانے میں ان کی مدد کریں۔ جس کے بعد توقع تھی کہ بھوک ہڑتال اتوار یا پیر کو ختم کردی جائے گی تاہم پیر کو اچانک ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اس وقت خطاب کیا جب وہ عموماً اس وقت خطاب نہیں کرتے تھے اور ان کے اچانک اشتعال انگیز خطاب کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی‘ جس کے بعد کراچی کے حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایم کیو ایم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے سینئر رہنما تصادم کی پالیسی کے خلاف تھے اور اسی وجہ سے وہ مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں سے خفیہ رابطے کررہے تھے تاکہ حالات کو بہتر بنایا جاسکے۔ ایک سینئر سیاسی رہنما کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد کی جانب سے کی جانے والی تقریر نہایت اشتعال انگیز تھی جو پاکستان کی سالمیت کے خلاف بھی ہے۔ اس تقریر کے باعث کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔ جس کے بعد توقع ہے کہ وفاقی حکومت ایم کیو ایم کے خلاف بڑا اقدام کرسکتی ہے۔ لندن کے لیڈگرو پولیس سٹیشن میں قائد ایم کیو ایم کے خلاف شکایت درج کر لی گئی۔ طارق حسین کی شکایت کے متن میں کہا گیا ہے کہ پولیس قائد ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کرے۔