امریکی اور اتحادی پریشان، نیٹو سپلائی بند

چمن (نیوزڈیسک) پاک افغان حکام کے درمیان سرحدی مذاکرات بے نتیجہ رہے۔ پاکستان کے صوبے بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں افغانستان سے متصل پاک افغان بابِ دوستی گیٹ اتوارکوچوتھے روزبھی بند رہا۔ ہر قسم کی آمدروفت، تجارتی سرگرمیاں، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو سپلائی بھی معطل رہی۔افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو کو سپلائی بھی معطل رہی۔ ایف سی ذرائع کے مطابق پاک افغان حکام کے مابین مذاکرات اتوار کو بھی جاری رہے تاہم کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ توقع ہے کہ بات چیت آج بھی جاری رہے گی۔ تفصیلات کے مطابق چمن میں پاک افغان سرحد پر پاکستانی پرچم کی توہین اور باب دوستی پر افغان شہریوں کے پتھراﺅ کے باعث آج چوتھے روز بھی پاکستانی فورسز نے بطور احتجاج پاک افغان سرحد کو بند کررکھا جس کے باعث دوطرفہ تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں۔پاک افغان چمن سرحد پر افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے جبکہ سرحد پر ہر قسم کی آمدورفت‘ تجارتی سرگرمیاں‘ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو سپلائی بھی معطل رہی جس کی وجہ سے دونوں اطراف مال بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ سرحدی بندش سے پاک افغان تاجروں کو شدید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سرحد کے دونوں جانب سبزی اور پھلوں سے لدے ٹرک بھی کھڑے ہیں جس سے تاجر شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ تاجروں نے مطالبہ کیاہے کہ پاک افغان تنازع کو تجارت پر اثر انداز نہ ہونے دیا جائے اورتجارتی سرگرمیوں کو بحال کیا جائے تاکہ تاجروں اور عوام کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔چمن میں انجمن تاجران کے صدر صادق خان اچکزئی نے کہا کہ باب دوستی کے راستے روزانہ بڑی تعداد میں لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے جو دو روز سے بند ہے۔انہوں نے کہا کہ سرحد کی بندش کی وجہ سے بڑی تعداد میں گاڑیاں بھی دونوں جانب کھڑی ہیں۔ صادق خان اچکزئی نے سرحد کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس صورتحال سے جہاں افغانستان سے علاج معالجے کے لیے پاکستان آنے والوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے وہاں سپین بولدک میں قائم منڈی میں کام کرنے والے پاکستانیوں کو بھی نقصان ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاک افغان سرحد پر قائم دوستی گیٹ کے ذریعے روزانہ تقریباً 18ہزار افراد ایک سے دوسرے ملک آتے جاتے ہیں، جن میں پاکستان اور افغانستان کے تاجروں کے علاوہ عام شہری اور افغان مریضوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔خیبر ایجنسی میں درجنوں ٹرانسپورٹروں نے افغان پولیس کی جانب سے پاکستانی ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹروں پر تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرہ خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل میں زخہ تکیہ کے مقام پر منعقد ہوا جس میں خیبر ٹرانسپورٹ یونین کے عہدیداروں اور ڈرائیوروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے بعد میں خیبر مارکیٹ تک احتجاجی مارچ بھی کیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر افغان فورسز کے خلاف نعرے درج تھے۔خیبر ٹرانسپورٹ یونین کے صدر شاکر آفریدی نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے افغانستان جانے والے پاکستانی ڈرائیوروں کو سرحد پار تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان سے ہزاروں روپے کی رشوت طلب کی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر ڈرائیور پیسے دینے سے انکار کرتا ہے تو افغان فورسز اور پولیس کے اہلکار انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ شاکر آفریدی نے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں سے اپیل کی کہ دونوں جانب تجارتی سرگرمیوں کو متاثر ہونے سے بچایا جائے ورنہ حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی اس کے منفی اثر سے نہیں بچ سکتے۔ ان کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کے آر پار سختیاں بڑھنے کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور اس میں نقصان ٹرانسپورٹروں کا ہی ہوا ہے۔

Facebook Comments