نثار،خورشید آج پھر برسیں گے

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ آج پھر آمنے سامنے ہونگے۔ دونوں متحارف فریقین کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ آج (پیر کو) کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں عائد الزامات کا جواب دینگے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چودھری نثار علی خان نے سید خورشید شاہ اور اعتزازاحسن ہے متعلق کافی ٹھوس مواد جمع کرلیا ہے اور وہ ثبوتوں اور دستاویزات کے ساتھ اسمبلی کے فلور پر بیان دینگے۔
.جبکہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا یہ کہنا ریکارڈ پر ہےبلکہ انہوں نے تو اس شخص کاتذکرہ تک کردیا جس نے حکومت کو ماڈل ایان علی اور عاصم حسین (اسکول کے دورسے آصف علی زرداری کے دوست)کو ریلیف دینے کی صورت میں ڈیل کی پیشکش کی ہے۔ اب یہ بھی انہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثبوت سامنے لائیں کیونکہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے تو یہ الزام مسترد کر دیا ہے۔ اس معاملے نے پہلے ہی تنازع کھڑا کر رکھا تھا اورواضح وجوہات کی بنیاد پر عمران خان کی تحریک احتساب نے اسے مزید تقویت دی۔ پیپلزپارٹی کے چوہدری اعتزاز احسن سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں اور وہ اب سخت گیر پی پی رہنما کی حیثیت سے سامنے آرہے ہیں۔ ان کا نام بھی ایل این جی کوٹے کے ساتھ لیاجاتا رہا ہے ۔اس مرتبہ انہوں نے بھی حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک کا عندیہ دے رکھا ہے لیکن انہوں نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ آیا یہ تحریک مشترکہ ہوگی یا علیحدہ علیحدہ چلائی جائے گی۔یہ تنازع جلد نمٹنے کانہیں اور میڈیا اب اس شخص کی تلاش میں ہے جس نے ممکنہ طور پر چوہدری نثار علی خان سے رابطہ کیا ہے۔ اگریہ سچ ہے تو یقینا وہ طاقتور شخص بھی ہوگا اور اس کے رابطے اور دوستی سیاستدانوں سے ہوگی۔ اگر وزیر چند حقائق سامنے لانے میں کامیاب ہوگئے جن میں (ا) اس شخص کے متعلق جو ڈیل کی آفر لےکر آیا تھا (ب) اس اکاﺅنٹ کی تفصیلات جس سے ایان علی اور پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کے ٹکٹ کےلیے رقم جاری ہوتی ہے (ج)یہ کہ پیپلزپارٹی کے وکلا نے ایان علی کو مفت قانونی معاونت فراہم کی شامل ہیں تو پھریہ دیکھنا بھی دلچسپ ہوگا کہ وزیر اعظم نواز شریف اس معاملے پر کیا موقف اپنا تے ہیںکیونکہ چوہدری نثار نے تو پی پی کے رہنماﺅں پر زبان سےحملے کر دیئے ہیں اور یہ حملے کوئٹہ بم دھماکے سے پہلے اور بعد میں کیے گئے۔ اگر تو چوہدری نثار علی خان ان تین معاملات پر ثبوت سامنے لے آتے ہیں جن میں ایل این جی، کوٹا اور چوہدری اعتزاز احسن کا کردار شامل ہے تو اس سے پیپلزپارٹی نہ صرف مشکل صورتحال بلکہ شرمندگی سے بھی دوچار ہوسکتی ہے۔ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے پتہ چلے گا کہ آیا پیپلزپارٹی اور نواز لیگ ایک دوسرے کے خلاف اور آگے بڑھیں گی یا کشیدگی ے خاتمے کی جانب بڑھیں گی۔اگر شواہد اور حقائق پارلیمنٹ کے سامنے رکھے جائیں یا بالفرض عدالت میں قانونی جنگ لڑی جائے تو دیگر اپوزیشن جماعتوں بالخصوص عمران خان کی تحریک انصاف کےلیے بلاول بھٹو کو ایک ہی کنٹینر پر آنے کی دعوت دینا آسان نہ ہوگاکیونکہ پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی پہلے ہی تحریک احتساب کے حوالے سے ایک صفحے پر نہیں ہیں۔ وہ لوگ جو چوہدری نثار کو جانتے ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ ثبوت حاصل کیے بغیر اس قسم کے بیان دینے والوں میں سےنہیں ہیںاوراب خورشید شاہ کے خلاف ان کے کھیلنے کی باری ہے کیونکہ خورشید شاہ نے انہیں چیلنج کیاہے کہ وہ اس شخص کانام لیں جس نے انہیں یہ آفرد ی ہے۔لیکن اگر وزیر داخلہ کو وزیر اعظم نوازشریف نے زیادہ دور جانے سے منع کر دیاتوپھر کیا ہوگا؟پھر اس امر کا انحصار پیپلزپرٹی پر ہوگاکہ وہ اس تنازع کو میڈیا کی موجودگی میں کہاں تک طول دیتی ہے۔ آج تک کی صورتحال میں وزیر اعظم جنہوں نے گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی سے واک آﺅٹ کرنے والی اپوزیشن کو مناکر خود واپس لانے کے حوالے سے تاریخ مرتب کی وہ یقینا اب چاہیں گے کہ صورتحال کی شدت میں کمی آئے تاہم اگر پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں نے قومی اسمبلی میں اپنے سوال اٹھانے کا فیصلہ کیا تو پھر وزیر اعظم نوازشریف کےلیے بھی چوہدری نثار کو روکنا بہت مشکل ہوجائےگا۔اب اہم سوال یہ ہے کہ وہ شخص بھلا کون ہوسکتا ہے جس نے مبینہ طور پر وزیر سے رابطہ کیا ہے اور جس میں اتنی دانش موجود تھی کہ وہ اس قسم کی پیشکش کر سکتا تھا یہ جانے بغیر کہ اس کا ممکنہ ردعمل کیا ہوسکتا ہے۔ڈاکٹر عاصم حسین کے کیس کے حوالے سے کیس پر چوہدری نثارکا موقف پہلے سے معلوم ہے لیکن ایان علی کا زرداری سے تعلق پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔اس شخص کی شناخت انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ وہ کون ہےآیا وہ کوئی سیاستدان ہے یا کوئی غیر سیاسی شخصیت ؟ کیو وہ اپنے تئیں چوہدری نثار کے پا ایا کہ وہ مصالحت کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے یا اسے بھیجا گیا؟ یہ پیشکش کتنی سنجیدہ تھی؟ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وہ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین پر سنگین الزامات لگادیئے ہیں لیکن وہ لوگ جو چوہدری نثار کو جانتے ہیں وہ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ وہ مشکل سے ہی کبھی اس نوعیت کے سنگین الزامات لگا سکتے ہیں۔اسی طرح چوہدری نثار علی خان اکثر کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی مین رضاربانی، قمرالزاماں کائرہ اور فرحت اللہ بابر جیسے بہت سے ایسے لوگ ہیں جو سیاسی لوگ ہیں اور ایسے لوگ ہیں جو کبھی کسی کی ذاتیات پر حملے نہیں کرتے۔ڈاکتر عاصم حسین کے کیس پر چوہدری نثار کی پوزیشن یہ ہے کہ وہ جس دن سے گرفتار ہوئے ہیں اس دن سے ان کا ذہن بالکل صاف ہے کہ وہ نہ صرف اربوں روپے کی بد عنوانیوں میںملوث ہیں بلکہ وہ مبینہ دہشت گردوں کےلئے سہولت کار بھی رہے ہیں۔

Facebook Comments