نثار ذہنی بیمار ، ان کے پاس پریس کانفرنس کے سوا کوئی کام نہیں،خورشید شاہ

اسلام آباد‘کراچی (نیوزڈیسک) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ذہنی طور پر بیمار ہیں۔ پریس کانفرنسوں کے علاوہ ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے۔ وہ جھوٹ بو ل کر اپنی ناکامیاں چھپا رہے ہیں۔ اگر چوہدری نثار علی خان صحیح کام کرتے تو آج ملک میں قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد ہورہا ہوتا اور دہشت گردی بھی نہیں ہوتی۔ وزیراعظم چوہدری نثار علی خان کے الزامات کا نوٹس لیں۔ چوہدری نثار علی کا پیپلز پارٹی پر الزام تراشیوں کا جواب قومی اسمبلی کے اجلاس میں دوں گا۔ وہ  مایہ ناز کرکٹر لٹل ماسٹر حنیف محمد کے انتقال پر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔ سید خورشید شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں۔ پیپلز پارٹی شہیدوں کی جماعت ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے پارٹی قیادت پر جو الزام تراشی کی ہے۔ وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ چوہدری نثار علی خان نے پیپلز پارٹی پر وزیراعظم سے جو ڈیل کرنے کے الزامات لگائے ہیں وہ جھوٹ پر مبنی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ وہ قوم کے سامنے اس بات کی وضاحت کریں کہ میں نے کب ان سے ڈیل کی بات کی ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ چوہدری نثار علی خان ذہنی طور پر بیمار شخص ہیں۔ پریس کانفرنس کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی کام نہیں ہیں۔ وہ وزیر داخلہ کے منصب پر رہنے کے قابل شخص نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار علی خان صحیح کام نہیں کررہے ہیں، اس لئے ہی تو ملک میں دہشت گردی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کہیں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو چوہدری نثار علی خان نہ تو اس مقام کا دورہ تک نہیں کرتے بلکہ منظر عام سے غائب ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر ڈیل کے الزامات لگانے والے پہلے وہ سوچیں کہ ماضی میں انہوں نے کون کون سی ڈیلیں کی ہیں۔ پیپلز پارٹی اور ایان علی کو ملانا ایک الزام تراشی ہے۔ پیپلز پارٹی ایک عوامی جماعت ہے۔ اس کے پاس ایان علی کے معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔چوہدری نثار علی خان ایک طریقے کے بیانات دے کر اپنا سیاسی قد بڑھانا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کو اس بات کا نوٹس لینا چاہئے۔ ملک پہلے ہی دہشت گردی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ وزیراعظم اس بات کا جائزہ لیں کہ چوہدری نثار علی خان کے بیانات اور الزامات جمہوریت کے خلاف سازش تو نہٰں۔ چوہدری نثار علی خان ایسے بیانات دے کر ملک میں سیاسی افراتفری پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں چوہدری نثار علی خان جیسی زبان استعمال نہیں کرنا چاہتا۔ ان کے بیانات اور الزامات کا جواب قومی اسمبلی کے اجلاس میں دوں گا۔ انہوں نے کرکٹر حنیف محمد کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے کرکٹ کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ پوری قوم انہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ سینٹر شیری رحمن نے وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس کے رد عمل میں کہا ہے کہ پوری قوم چوہدری نثار کے غیر ذمہ دارانہ اور غیرمناسب رویے پر صدمے سے دوچار ہے جو پارلیمنٹ نے جمہوری سیاسی پارٹیوں کے دہشتگردی کے خلاف عزم پر اتفاق رائے کو سبوتاز کررہے ہیں۔ سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر انتہائی ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پارلیمنٹ میں اتحاد کی کوششیں کی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ وزیر داخلہ آگ سے کھیل رہے ہیں اور یہ خطرناک کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کی توجہ دہشتگردی کے خلاف جنگ سے ہٹائی جا سکے۔ ویسے بھی ہم ایک ایسے وزیرداخلہ سے کیا توقع کر سکتے ہیں جنہوں نے قومی اسمبلی میں حکیم اللہ محسود کی موت پر آنسو بہائے تھے۔ حکیم اللہ محسود پاکستانی ریاست اور پاکستانی عوام کے دشمن تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ایک ذمہ دار حزبِ اختلاف کا کردار ادا کیا اور حکومت سے بار بار کہا کہ پارلیمانی اداروں کو دہشتگردی کے خلاف یکجا کریں جبکہ وزیر داخلہ نے حکومت کو احتساب سے بالاتر سمجھا ہوا ہے۔ حکومت ایک نیشنل سکیورٹی کمیٹی قائم کرنے سے کترا رہی ہے جہاں سارے اداروں کے وسائل ایک جگہ جمع کرکے اس قومی بحران سے نمٹا جا سکے بلکہ اب تو یہ بحران شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ کوئی بھی ملک دہشتگردی کے اتنے بڑے چیلنج سے نہیں نمٹ سکتا جب تک کہ ملک میں اتحاد نہ ہو اور لوگوں کو چاہیے کہ اپنے ذاتی سیاسی عزائم کو دبا کر رکھیں۔ آج جو باتیں چوہدری نثار نے کی ہیں وہ پاکستان کے اندر اور باہر پاکستان کے دشمن اپنے فائدے کے لئے استعمال کریں گے۔ پاکستانی شہریوں، فوجیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے آج ایک غمگین دن ہے کہ آج ہم سیاست میں مختلف سمتوں میں جا رہے ہیں اور شہریوں، فوجیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ آخر چوہدری نثار جیسے لوگوں کو فکر کس بات کی ہے ؟ انہیں یہ فکر ہے کہ نیکٹا نے اب تک کام شروع کیوں نہیں کیا اور اس کو فنڈ کیوں نہیں دئیے گئے اور پنجاب میں آپریشن یکطرفہ کیوں ہے؟ سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ کوئی بھی قانون اور پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں۔ یہ بات قابل قبول نہیں کہ جب اتنی زندگیاں دا پر لگی ہوئی ہیں اور پورا ملک حالیہ سانحے پر سوگوار ہے اس وقت وزیرداخلہ کی جانب سے سیاسی جنگ شروع کر دی جائے۔ سندھ کے وزیربرائے ٹرانسپورٹ ناصرحسین شاہ نے کہاہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار پیپلزپارٹی کی قیادت پر تنقید کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکیں،وزیرِداخلہ بتائیں 29 مرلے ٹوٹل زمین سے شاہانہ زندگی کیسے گذارتے ہیں۔وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کی پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل میں ناصر شاہ نے کہاکہ چوہدری نثار نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے سوات آپریشن کی مخالفت کی تھی جبکہچوہدری نثار سانحہ کوئٹہ پر کیوں غائب ہوئے ۔انہوں نے کہاکہ چوہدری نثار آرمی پبلک اسکول پر حملہ کے بعد بھی پشاور جانے سے کتراتے رہے ۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نواز شریف کو بھی صورتحال کا اندازہ ہے مگر چوہدری نثار انہیں بھی بلیک میل کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آرمی پبلک اسکول پر حملہ کے بعد آپریشن ضرب عزب اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرامد شروع ہوا، ایک شخص (سکندر) نے دس گھنٹے تک اسلام آباد کو یرغمال بنائے رکھا لیکن یہ موصوف کہیں گہری نیند کے مزے لے رہے تھے۔ اس شخص کو پیپلز پارٹی کے ہی ایک جیالے زمرد خان نے پکڑا تھا۔یہ ایسے وزیر داخلہ ہیں جنہوں نے کرنا کچھ نہیں ہوتا اور صرف بڑھکیں مارتے ہیں۔خورشید شاہ نے کہا کہ چودھری نثار اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے الزام تراشیاں کر رہے ہیں ان میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سندھ حکومت کے مشیر سعید غنی نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار دہشتگردوں کے خلاف بولنے کی بجائے ملک کی سیاسی قیادت کیخلاف بولتے رہتے ہیں۔چودھری نثار کی پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل میں انہوں نے کہا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو دہشتگردوں کے خلاف بولیں ,ان کی مذمت کریں۔چودھری نثار مشرف کے ساتھی تھے ان کو بڑے احترام سے ملک سے باہر بھجوا دیا, وہ بتائیں کہ انہوں نے جمہوریت کیلئے کیا کیا ? میڈیا کو ڈھال بنا کر دو دو گھنٹے بولنے سے ماضی چھپ نہیں جاتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے وزیر داخلہ چودھری نثار کیخلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کے خلاف عدالت میں جائینگے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق لطیف کھوسہ نے چودھری نثار کی پریس کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ایان علی کا کیس مفت نہیں لڑ رہا۔ اگر ان کو ثبوت چاہئے تو میرے پاس آجائیں۔ انہوں نے کہا کہ چودھری نثار ملکی تاریخ کے ناکام ترین وزیر داخلہ ہیں۔ انہوں نے میرے پیشے کو بدنام کیا۔انہوں نے جھوٹ بول بول کر مسٹر گوئنلز کا اعزاز حاصل کیا۔واضح رہے کہ چودھری نثار نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ کچھ لوگ ایان علی کا کیس مفت میں لڑ رہے ہیں تاکہ وہ خبروں میں رہیں۔ پیپلزپارٹی کے سینئرراہنماسینیٹراعتزازاحسن نے کہاہے کہ میںوزیراعظم نوازشریف ،وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان ،وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف تینوں کوملاکرچھ گناز ائد ٹیکس دیتاہوں ،پنجاب میں کالعدم تنظیمیں آزادی سے اپناکام کررہی ہیں ۔نجی ٹی وی کے پروگرا م میں گفتگوکرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ پنجاب میں کالعدم دہشتگردتنظیمیں آزادانہ طورپرکام کررہی ہیں ،پنجاب میں نہ کوئی آپریشن ہو گا اورنہ دکھائی دے رہاہے ۔انہوںنے کہاکہ شریف برادران سپریم کورٹ کے حکم پر14معصوم لوگوں کوقتل کرنے والے ملزمان نہیں پکڑرہے ،وہ اعلیٰ عدلیہ کے احکامات پرعملدرآمدنہیں کررہے ۔انہوںنے کہاکہ چوہدری نثارعلی خان کوان لوگوں کے نام بتاناہوں گے جنہوں نے ڈاکٹرعاصم اورایان علی کے حوالے سے پیغام پہنچائے ۔وہ کون بے وقوف ہوگاجس نے چوہدری نثارکے پاس آکران لوگوں کے حوالے سے بات کی ہے ۔انہوںنے کہاکہ میں نے کبھی ایل پی جی کاکوٹہ نہیں لیااگرلیاہے تواسے منسوخ کردیں ۔چوہدری نثارکے پاس ثبوت ہیں تواسے منظرعام پرلایاجائے ۔میرے خلاف ایف آئی اے اورنیب کے ذریعے سے انکوائری کرائی جارہی ہے ،میں سب سے زیادہ ٹیکس اداکرنے والاہوں ۔انہوںنے کہاکہ میں وزیراعظم ،چوہدری نثاراورشہبازشریف سے 6گنازیادہ ٹیکس دیتاہوں۔انہوںنے کہاکہ چوہدری نثارنے عوام سے میڈیاکے ذریعے وعدہ کیاتھاکہ وہ ریکارڈپرہے کہ مسلم لیگ ن اقتدارمیں آکرایک سال میں لوڈشیڈنگ ،مہنگائی سمیت دیگرمسائل کوختم کریگی ۔اگرہم اس میں ناکام ہوگئے توکم ازکم میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دوں گا۔انہوںنے کہاکہ چوہدری نثارعلی خان کوپریس کانفرنس میں اپنی کارکردگی پربات کرنے کی ضرورت تھی وہ اپنی کارکردگی کوچھپانے کیلئے الزام تراشی پراترآئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ چوہدری نثارعلی خان کی وزارت کی کارکردگی سوفیصدصفرہے ،وہ بیانات کے ذریعے کام چلارہاہے ۔انہوںنے آئی ایس پی آرکی جانب سے جاری بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے فوج کاجوبیان ہے وہ بالکل درست ہے ،نیشنل ایکشن پلان پرجرات سے عمل کرناچاہئے۔