سائبر کرائم کا ترامیمی بل قومی اسمبلی سے منظور

اسلام آباد( نیوز ڈیسک ) قومی اسمبلی نے سائبر کرائم کا ترامیمی بل کثرت رائے سے منظور کرلیا ہے بل میں سینٹ کی طرف سے منظور کی گئی تمام ترامیم کو بل میں شامل کرلیا گیا ہے بل کی منظوری کے بعد سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کیا جائے گا بل میںسوشل میڈیا کا غلط استعمال روکنے کیلئے سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں بل کی قومی اسمبلی کی تمام اپوزیشن جماعت جن میں پیپلز پارٹی ، پاکستان تحریک انصاف ، ایم کیو ایم نے شدید مخالفت کی اور موقف اختیار کیا کہ بل میں اب بھی متعدد خامیاں ہیں ان کو دور کیا جائے اپوزیشن نے کہا کہ سائبر کرائم کے لئے بل کی منظوری سے حکومت آزادی اظہار رائے اور آزادی تقریر پر پابندیاں عائد کرنا چاہتی ہے حکومت نے موقف اختیار کیا کہ اپوزیشن بیرونی عناصر کی ڈکٹیشن اور ہدایات پر بل کی مخالفت کررہی ہے جس پر اپوزیشن نے ایوان کے اندر شدید احتجاج کیا اور حکومت کے الزامات مسترد کردیئے وزیر مملکت آئی ٹی انوشہ رحمان نے کہا کہ بل کے تحت عدالت کی اجازت کے بغیر کسی کو گرفتار نہیں کیا جائے گا بل کی منظوری سے غیر محفوظ نوجوان بچیوں کو تحفظ فراہم ہوگا اور نوجوان نسل اب انٹرنیٹ محفوظ طریقہ سے استعمال کرسکیں گے بل وزیر مملکت انوشہ رحمان نے پیش کیا او بل کی تمام شقوں پر ووٹنگ کرائی گئی اور اکثریت رائے سے بل منظور کرلیا گیا ۔ بل کی منظوری کے بعد ساتھی پارلیمنٹرین نے انوشہ رحمان کو مبارکباد دی انوشہ رحمان نے بل کے اہم خدوخال بتاتے ہوئے کہا کہ بل کا مقصد سوشل میڈیا کے استعمال میں موجود خامیاں دور کردی گئی ہیں بل منظور ہونے سے سوشل میڈیا کے استعمال میں قانون کا احترام کیا جائے گا حکومت ہرگز آزادی اظہار رائے رائے پر قدغن لگانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اپوزیشن بل کی مخالفت سیاسی مقاصد کے تحت کررہی ہے انہوں نے کہا کہ یہ بل دو سالوں کی باہمی مشاورت کے بعد قانون کی صورت میں منظوری کیا گیا ہے اس بل پرتمام متعلقہ افراد اداروں سے مشاورت کی گئی تھی ۔ انوشہ رحمان نے کہا کہ بل دو سال کی اتفاق رائے سے منظور ہوا اب اراکین کس کی ڈکٹیشن پر بل کی مخالفت کررہے ہیں کون لوگ ان اراکین کو بل کی مخالفت پر اکسا رہے ہیں ان ریویوں کا جائزہ لینا ضروری ہے پیپلز پارٹی کی حکومت کے اس بل کو سخت سزا کے طور پر آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا تھا اپوزیشن ایسی ہزاروں نوجوان بچیوں کی شکایات کا بھی جائزہ لے جن کی تصاویر برہینہ سوشل میڈیا پر ڈال دی جاتی ہیں او بچیاں خود کشیاں کردیتی ہیں اپوزیشن بل پر ترامیم لانے کی بجائے بل کی مخالفت میں تقاریر کررہی ہیں یہ سیاسی نمبر بانے کیلئے کیا جارہا ہے بل کے تحت عدالت کے حکم کے بغیر ملزم کو پکڑا نہیں جاسکے گا بل کی منظوری سے شکایات کا ازالہ ہوسکے ۔ سید نوید قمر نے کہا کہ ہم بل کی مخالفت کرینگے بل میں ابھی تک کئی خامیاں موجود ہیں ان خامیوں کو دور کیا جائے شیریں مزاری نے کہا کہ بل کی متعدد شقوں کی ہم نے مخالفت کی تھی حکومت نے ہماری تجاویز کو اہمیت بھی نہیں دی تھی اس پر انوشہ رحمان نے غلط الزامات لگائے ہیں ہمیں کسی جگہ سے ہدایات نہیں آرہی ہیں اس لئے ایسے الزامات بے بنیاد ہیں مخالفت ہمارا حق ہے ایم کیو ایم کے رضا عابدی نے کہا کہ یہ غلط الزام ہے کہ اپوزیشن کو کوئی این جی او چلا رہی ہے بل کے نافذ ہونے کے اثرات مستقبل کی کی نوجوان نسل پر پڑیں گے شاہ محمود قریشی نے کہا آئین میں کوئی ایسی شق نہیں کہ ملک میں ایسے کسی قانون کی ضرورت ہے اب بھی اس بل کی قباعت موجود ہے حکومت فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بل پر اتفاق رائے پیدا کیا جاسکتا ہے ایم کیو ایم نے کہا کہ انفارمین ٹیکنالوجی کا استعمال سب سے زیادہ نوجوان نسل کررہی ہے نوجوانوں کو نئی قانون سازی بارے آگاہ کیا جائے اس بل کی اصلاح ضروری ہے اپوزیشن نے پہلے بھی متعد د ترامیم لانے کی تجویز دی حکومت قومی مشاورت سے بل لائے ایم کیو ایم سائبر کرائم بل کو مسترد کرتی ہے نعیمہ کشور نے کہا کہ یہ بل وقت کی ضرورت ہے قانون سازی سے شوسل میڈیا پر طوفان بدتمیزی کم ہوگی ستر اجلاسوں میں اراکین نے تجویز دی ہیں مزید مشاورت کا مطالبہ میری سمجھ سے بالاتر ہے انہوں نے کہا کہ بل فوری منظور کیا جائے سوشل میڈیا کے استعمال سے ترکی میں فوج کی سازش ناکام ہوئی لیکن پاکستان میں سوشل میڈیا سے بچوں عورتوں کا قتل عام ہے صاحبزادہ یعقوب نے کہا کہ سائبر کرائم بارے قانون سازی ہونی چاہیے سائبر کرائم کی روک تھام کیلئے یہ بل ضروری ہے اگر اس بل پر قومی اتفاقرائے ہوجائے تو بہتر ہوگا ۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے کہا کہ سپیکر بل کی مخالفت کرنے والوں کو ایوان میں بولنے کی اجازت دے تاکہ بل کی خامیاں سامنے آسکیں آسیہ ناصر نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کئی گھر تباہ ہوگئے ہیں سوشل میڈیا بارے قانون سازی بہتر ضروری ہے عمران ظفر لغاری نے کہا کہ بل کی مخالفت بھی ہورہی ہے لیکن عمران پاکستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر قانون بھی ضروری ہے حکومت نے سینٹ کی تیس ترامیم کو منظور کیا لیکن ایسا بھی لگتا ےہ کہ بل کسی آمر نے بنایا ہے کمسن بچے اور بالغ شخص کے لئے ایک جیسے سزائیں دینا ناانصافی ہے بل پڑھنے سے لگتا ہے کہ یہ بل کسی اور کوارٹرسے ڈکٹیٹ کیا گیا ہے سوشل میڈیا پر تنقید نو تو ہر شخص بشمول وزیراعظم پر بھی ہوسکتی ہیں ۔ قانون سازی کے بعد واٹس ایپس پر گفتگو بھی چیک کرلیا جائے گا ملک میں ایک انٹرنیٹ تھا اس پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے نوجوان ساری رات انٹرنیٹ پر بیٹھ کر تعلیم پر تحقیق کرتے ہیں اس پر بھی پابندیاں لگادی گئی ہیں یہ قانون اظہار رائے پرپابندی عائد کرنے کے مترادف ہے عمران ظفر لغاری نے کہا کہ تحقیقات کا اختیارات کے نام پر دقیانوسی کی سیاست کرینگے آزادی تقریر اور آزادی اظہار رائے ختم کردینگے انہوں نے مطالبہ کیا کہ بل عجلت میں نہ منظور کرائیں بلکہ بل پر مشاورت دوبارہ ہونی چاہیے ایسے بل حکومت لارہی ہے جس سے نوجوان گونگا بہرا ہوجائے گا لیکن یہ ذہین میں رکھیں دو ہزار اٹھارہ کے انتخاب میں بل کے اثرات دیکھنے پڑیں گے