مقبوضہ کشمیر کے معصوم بچوں اور شہریوں پر وحشیانہ تشدد دہشت گردی ہے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد میں جاری سارک وزرا داخلہ کانفرنس کے دوران خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ آزادی کی جد وجہد اور دہشت گردی میں فرق ہے اور دہشت گردی کا ہر واقعہ قابل مذمت ہے، مقبوضہ کشمیر کے معصوم بچوں اور شہریوں پر وحشیانہ تشدد دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، پاکستان کے بچوں، خواتین اور عام شہریوں پرتشدد دہشت گردی ہے، 6 دہائیوں میں الزامات کی روش نے کسی کو کچھ فائدہ نہیں دیا تاہم اب وقت آگیا ہے کہ الزام برائے الزام کے بجائے بامقصد مذاکرات کیے جائیں۔وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ پٹھان کوٹ، کابل، ممبئی ، ڈھاکا دھماکوں کی طرح پاکستان بھی دہشت گردی کا شکار ہے، آرمی پبلک اسکول پشاور، چارسدہ دھماکے، اقبال پارک لاہور واقعات دنیا کے سامنے ہیں، پاکستان تمام مسائل پرغیرمشروط مذاکرات کاحامی ہے اور پاکستان سارک کے تمام معاہدوں کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندورنی معاملات میں ڈھٹائی کے ساتھ مداخلت کی جا رہی ہے، سمجھوتہ ایکسپریس ہمارے لیے بہت تشویش کا باعث ہے، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سمجھوتہ ایکسپریس کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لایا جائے۔وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام ممالک سے مذاکرات کے لیے تیار ہے اور کبھی کوئی شرط بھی نہیں رکھی، وقت کی ضرورت ہے کہ تمام حل طلب مسائل کو ڈائیلاگ سے دورکیا جائے۔واضح رہے کہ اس موقع پربھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ بھی موجود تھے ۔