راجہ فاروق حیدرنے وزیراعظم آزادکشمیرکاحلف اٹھالیا

مظفر آباد( نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ(ن) کے نامزدوزیراعظم برائے آزادکشمیرراجہ فاروق حیدرنے حلف اٹھالیا۔راجہ فاروق حیدرسے حلف صدرآزادکشمیرسرداریعقوب خان نے لیااس موقع پرسابق وزیراعظم آزادکشمیرچوہدری عبدالمجید اوروفاقی وزیربرائے امورکشمیربرجیس طاہربھی موجود تھے ۔حلف برداری کی تقریب پروقاراورایک سادہ تقریب میں ہوئی جس میں ن لیگ کے ارکان قانون سازاسمبلی ،آزادکشمیرکی سول وفوجی قیادت اوراعلی ٰافسران نے بھی شرکت کی ۔اس سے قبل راجہ فاروق حیدر آزاد کشمیر کے نئے وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔ آزاد کشمیر کے نئے وزیر اعظم کے لیے قانون ساز اسمبلی میں ووٹنگ ہوئی جس میں مسلم لیگ (ن) کے راجہ فاروق حیدر نے 38 ووٹ لے کر قائد ایوان کا منصب حاصل کرلیا۔آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس نومنتخب اسپیکر شاہ غلام قادر کی زیر صدارت میں ہوا جس میں ریاست کے نئے وزیر اعظم کا چناو ہوا، اسمبلی میں قائد ایوان کے لیے مسلم لیگ (ن) کے فاروق حیدر، پیپلزپارٹی کے چوہدری یاسین اور تحریک انصاف کے غلام محی الدین مدمقابل تھے تاہم مسلم لیگ (ن) کے راجہ فاروق حیدر نے 38 ووٹ کے ساتھ واضح اکثریت حاصل کی اور آزاد کشمیر کے نئے وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔ پیپلزپارٹی کے چوہدری یٰسین اور پی ٹی آئی کے محی الدین کو 5،5 ووٹ ملے۔49 نشستوں کے ایوان میں (ن) لیگ 36 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کی 4، مسلم کانفرنس کی 3، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی 2،2 جبکہ ایک آزاد رکن اسمبلی کا ممبر ہے، مسلم لیگ (ن) کو جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی کو آزاد امیدوار جبکہ تحریک انصاف کو مسلم کانفرنس کی بھی حمایت حاصل تھی۔قائد ایوان کے چناو¿ سے قبل اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے احمد رضا قادری نے بھارتی فوج اور حکومت کی مقبوضہ کشمیر میں جاری جارحیت اور مظالم کے خلاف مذمتی پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد اپنے خطاب میں راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ پہلی ترجیح تحریک آزادی کشمیرہے، عوام کو ہر شعبے میں میرٹ پر یکساں مواقع فراہم کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں گورننس کو ٹھیک کریں گے، آزاد کشمیر کے قدرتی وسائل کو بروئے کار لائیں گے اور تحریک آزادی کشمیرمیں آزاد کشمیر حکومت کے کردار کو اجاگر کریں گے۔ان کا کہنا تھاکہ ہمیں توقعات سے بڑھ کر لوگوں کی حمایت ملی، جس کے لیے میں کشمیری عوام کا شکر گزار ہوں، اب ہمارا امتحان شروع ہوگیا ہے اور اگر ہم لوگوں کی امیدوں پر پورا نہیں اترے تو ان کا اعتماد وہ ہم پر سے اٹھ جائے گا۔