انڈونیشیا میں ذوالفقار کی سزائے موت معطل تاہم صورتحال اب بھی غیر واضح

جکارتا(نیوزڈیسک) انڈونیشیا کے ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہری کی سزائے موت روکنے کا فیصلہ مقدمے کی تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد کیا گیا ہے جب کہ دوسری جانب ذوالفقارعلی کےمعاملے میں آئندہ کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا یہ ابھی واضح نہیں ہوسکا ہے۔انڈونیشیا میں پاکستانی سفیر عاقل ندیم نے کہا ہےکہ ذوالفقارسے مسلسل رابطے میں ہیں اور ذوالفقارکے وکیل کے مطابق اس مقدمے پر دوبارہ نظر ثانی کی جائے گی جس میں ان کی جانب سےمقدمے میں موجود خامیوں پر روشنی ڈالی جائے گی جب کہ پیر کو پاکستانی قونصلر بھی ذوالفقار سے جیل میں جا کر ملاقات کریں گے،پاکستان کی جانب سے ذوالفقار کیس کادوبارہ جائزہ لینے کی جو درخواست کی گئی تھی ۔ذوالفقار کے ساتھ ساتھ سزائے موت کے مزید دس قیدیوں کی پھانسی بھی روک دی گئی ہے۔ انڈونیشین حکام نےدیگر قیدیوں کی سزا کےحوالے سےبھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ماہرین کےمطابق ذوالفقارکیس کے تین ممکنہ حل ہوسکتےہیں۔پہلاپاکستانی حکومت کی درخواست پر ذوالفقار کی رحم کی اپیل منظور کرلی جائے۔دوسراذوالفقارکی سزائے موت کو عمرقید میں بدل دیا جائےاورتیسراحل یہ ہےکہ ذوالفقار کے کیس کی پھر سے سماعت کی جائے اور امید کی جارہی ہے کہ جس طرح ان کی موت ٹلی ہےاس طرح کیس کا فیصلہ بھی ذوالفقار کے حق میں آئے گا۔واضح رہے کہ ذوالفقار علی لاہورکا رہائشی ہے جو 15 سال قبل روزگار کے لئے انڈونیشیا گیا تھا جہاں اس کی دوستی بھارتی شہری گردیپ سنگھ کے ساتھ ہوئی جس نے اسے ہیروئن اسمگلنگ کے مقدمے میں پھنسا دیا اور الزام لگایا کہ میرے ساتھ ہیروئن اسمگلنگ میں ذوالفقار بھی ملوث ہے جس کے بعد دونوں کو سزائے موت سنا دی گئی تھی۔