اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کیخلاف حکمت عملی تیار ، وفاقی کابینہ میں بھی ردوبدل کا امکان

اسلام آباد(نیوزڈیسک) ذرائع سے معلوم ہوا ہے وزیراعظم محمد نوازشریف نے رواں ہفتے سے تمام انتظامی و سیاسی امور پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج سے پارٹی رہنماﺅں سے ملاقاتیں شروع کر رہے ہیں۔ ملک میں تحریک انصاف کی جانب سے 7 اگست سے شروع کئے جانیوالے ایجی ٹیشن کو غیر مو¿ثر بنانے کی حکمت عملی اختیار کی جائیگی۔ مسلم لیگ (ن)کی تنظیم نو شروع کی جائے۔ پارٹی کے متعدد عہدے خالی پڑے ہیں، پارٹی کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا کے گورنر خیبر پی کے بنائے جانے کے بعد تاحال کسی کو قائم مقام سیکرٹری جنرل نہیں بنایا گیا۔ وزیراعظم نوازشریف پارٹی کو تمام سیاسی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے پارٹی کی تنظیم نو چاہتے ہیں۔ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر کے تحت 3 سال بعد مسلم لیگ (ن)کے انتخابات قانونی تقاضا ہے۔ پچھلے 3 سال کے دوران پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا ایک ہی اجلاس منعقد ہوا ہے۔ وزیراعظم جلد پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلائیں گے اور اگست کے اوائل میں منعقد ہونے والے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کرینگے۔ اسی طرح 8 اگست 2016 ءسے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں گے۔ وزیراعظم نوازشریف اپنی کابینہ میں بھی ردو بدل اور توسیع کرنا چاہتے ہیں لیکن سیاسی چیلنج ایجی ٹیشن اور اپوزیشن کی معاندانہ سرگرمیوں کے باعث کابینہ کی توسیع کو مخر کرتے رہے ہیں تاہم اگست 2016 ءمیں وفاقی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کر کے سیاسی چیلنجوں کا تازہ دم ٹیم سے مقابلہ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نوازشریف مسلم لیگی ارکان پارلیمنٹ سے گروپوں کی صورت میں ملاقاتیں کریں گے۔ وفاقی وزراءکو سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے رابطوں کا ٹاسک دیں گ