جمہوری نظام کو درپیش خطرات نے ن لیگ اور پی پی کو پھر اکھٹا کردیا

اسلام آباد (نیوزڈیسک) حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کے مابین رابطوں نے اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے۔ دونوں جماعتیں ایک مرتبہ پھر ایک بالخصوص جمہوریت کو لاحق خطرات کے حوالے سے پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت میں رابطوں کا تسلسل ایک بار پھر چارٹر آف ڈیموکریسی (میثاق جمہوریت) کے بنیادی نکات کا ازسرنو جائزہ لینا ہے اور اس سلسلے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے درمیان ملاقاتوں میں کھل کر تبادلہ خیال کیا جا چکا ہے ۔ حالیہ پیش رفت کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری نے اہم کردار ادا کیا ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو مشاورت کے لیے دبئی طلب کر رکھا ہے۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے رحمان ملک اور فاروق نائیک بھی پیپلزپارٹی کے دبئی میں ہونے والے اہم اجلاس میں شریک ہیں۔ ادھر ذرائع کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار آصف علی زرداری سے چارٹر آف ڈیموکریسی اور ملک میں جمہوریت کو لاحق خطرات کے حوالے سے اہم ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا پانامہ لیکس پر جارحانہ موقف پر بھی بات چیت ہوگی۔ مسلم لیگ ن تمام بڑے چیلنجوں اور دھمکیوں کے حوالے سے پیپلزپارٹی سے تعاون کی اپیل کرے گی تاکہ جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچایا جاسکے۔